Saturday, April 2, 2011

جمہوریت یا شریعت

جمہوریت یا شریعت

وسیم حجازی

انصار اللہ بلاگ کی خصوصی بیشکش

چلو ٹھیک ہے۔۔۔ آئندہ میں کبھی بھی۔۔۔ جمہوریت یا شریعت ۔۔۔ کے موضوع پر گفتگو نہیں کروں گا۔۔۔ لیکن مفتی صاحب۔۔۔۔ میرے دل میں ایک الجھن ہے۔۔۔ جس کی چبھن روز بروز بڑھتی ہی جارہی ہے میرے سینے میں ایک خلش جاگزیر ہوچکی ہے جس نے میرے دن کا سکون اور رات کا چین تک برباد کر ڈالا ہے مفتی صاحب میری آپ سے آخری گزارش ہے کہ خدارا۔۔۔ میرے اس درد کا درمان کردیں اس زہر کا تریاق اور اس مشکل کا کوئی حل بتادیں میرا آپ سے وعدہ رہا کہ پھر کبھی بھی نظاموں کے گورکھ دھندے اور انقلابی نعروں کے چکر میں خود پڑوں گا نہ کسی کا دردِ سر بنوں گا۔

مفتی صاحب : ہاں بولیے

علماء کرام سے سنا ہے کہ جاندار اشیاء کی تصویر کشی حرام اور عنداللہ قابل مواخدہ ہے۔ جس گھر میں کتا یا تصویر ہو وہاں رحمت یزداں کے نورانی فرشتے آنا چھوڑ دیتے ہیں اگر یہ سچ ہے اور یقیناً سچ ہے تو پھر شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور کرنسی نوٹ پر تصویر بنانا اور اسے ہر قوت، حتٰی کہ دوران نماز ان تصاویر کو سینے سے چمٹائے رکھنا یہ سب بھی تو حرام ہے پھر اس ملک کا ہر عالم اور جایل اس گناہِ کبیرہ میں کیوں جان بوجھ کر مبتلا ہے؟

مفتی صاحب

ایسا عمل جائز تو نہیں لیکن ملکی قانون کی وجہ سے مجبوراً جائز ہے۔

علماء کرام نے کہا ہے کہ نا محرم خواتین سے پردہ کرنا اور انسان کا اپنی ستر ڈھانپ کر رکھنا ضروری ہے۔ جبکہ ہمارے ملک میں اگر عورت بیمار ہوجائے تو مرد ڈاکٹر کے سامنے بے پردگی ایک معمول ہے اسی طرح فوج میں بھرتی بالخصوص فضائیہ میں ملازمت کے لئے میڈیکل چیک اپ کے نام پر کسی کے سامنے اپنے جسم کے پوشیدہ حصے ظاہر کرنا لازم ہے ورنہ وہ پائلٹ نہیں بن سکتا تو ایسا کرنا جائز ہے؟

مفتی صاحب

جائز تو نہیں مجبوراً جائز ہے۔

ہمارے معاشرے میں فحاشی، بے حیائی اور کسی کے حقوق غصب کرنے کی چلن عام ہے۔ ملکی قانون کی گرفت کسی مجرم پر تو نہیں البتہ ان جرائم کی روک تھام کرنے والوں پر قانونی شکنجہ فوراً لیا جاتا ہے۔ آیا اپنی آنکھوں سے ایسے گناہ دیکھ کر چپ سادھ لینا جائز ہے؟

مفتی صاحب

جائز تو نہیں مگر آواز اٹھانے یا روک ٹوک کرنے سے فتنے کا قوی اندیشہ ہے اس لئے خاموش رہنا مجبوراً جائز ہے۔ ہاں، دل ہی میں برا کہتا رہے۔

اس ملک میں اوّل تو روزگار ملنا مشکل ہے مل جائے تو دیگر قباحتوں کے علاوہ ایک یہ بھی ہے کہ کام کے دوران نماز کا وقفہ نہیں کیا جاتا، از خود کرنے پر روزگار جاتا ہے، تو کیا یوں نماز موخر کرنا جائز ہے؟ حالانکہ نماز کو وقت میں پڑھنا ضروری ہے۔

مفتی صاحب

جائز تو نہیں مگر مجبوراً جائز ہے۔

یہاں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی ادارے میں ملازمت کے حصول کے لئے مطلوبہ اہلیت ہوتے ہوئے بھی بغیر رشوت کے کام نہیں بنتا۔ تو کیا یوں رشوت دینا جائز ہے؟

مفتی صاحب

جائز تو نہیں مگر مجبوراً جائز ہے۔

مفتی صاحب میری الجھن بدستور موجود ہے۔ کیا یہ اسلامی ملک ہے؟ کیا ہم مسلمان ہیں ؟ آخر یہ کونسی مجبوری ہے جو ناجائز کو جائز، ہر حرام کو حلال اور ہر گناہ کی راہ ہموار کرتی چلی جارہی ہے۔ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ مجبوری نہیں، بے حسی ہے یہ مجبوری نہیں، بے ہمتی ہے اور یہ مجبوری نہیں، سنگ دلی ہے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہمارے سامنے شعائراللہ کی توہین ہوتی رہے، خواتین کی عفت و ناموس کا کا تِیا پاچا ہوتا رہے، کروڑوں کی تعداد میں غریب لوگ بھوک سے بلکتے رہیں، بے مائیگی کے باعث سفید پوش طبقہ بیچ چوراہے کے ننگا ہوتا رہے،لسانیت، قومیت اور وطنیت کے نام پر مسلمانوں کا بے دریغ خون بہایا جائے، الحاد، نفرت اور بد اعتمادی کی زہریلی لہر اسلامیان پاک کے ایمان و جان کے لئے خطرہ بن جائے اور ہم بحیثیت مسلمان اس شیطانی کھیل کو مجبوری کی سند جواز مہیا کرکے امام مہدی کے انتظار میں بیٹھے دیکھتے رہیں۔

کیا اسی مجبوری کے لئے پاکستان بنا تھا؟ کیا اسی مجبوری کے لئے لاکھوں سہاگ اجاڑے گئے؟ کیا اسی مجبوری کےلئے بوڑھوں سے ان کے جوان سہارے چھین لئے گئے؟ کیا اسی مجبوری کے لئے معصوم بچوں کو نیزوں کی انیوں پر چڑھایا گیا؟ کیا اسی مجبوری کے لئے تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت عمل میں آئی؟ اور پھر یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ اس مجبوری کی شرعاً کیا حیثیت ہے کسی اِکّا دُکّا حادثے میں وقتی عمل پر قیاس کرکے ناجائز عمل کو مجبوری کے نام پر ہمیشہ کے لئے جائز قرار دے دینا کون سا اسلام اور کہاں کا انصاف ہے؟

کتنی شرمناک حقیقت ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے خطے کے اسلامی مراکز سے ایسے فتوے جاری ہورہے ہیں کہ نفاذ اسلام کے لئے کوشاں افراد کا مبارک عمل ناجائز اور خلافت اسلام پر زبان درازی جائز ہے۔ اور دلیل میں قران و سنت کے زمینی حقائق کو پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ مکر وہ حقائق بھی ہمارے اپنے ہاتھوں کا ہی کیا دھرا ہے مزید برآں یہ حقیقت بھی ناقابل فراموش ہے کہ اپنی زمینی حقائق اور گمراہ کن مجبوری نے حکام کو جلاد، دانشوروں کو ملحد، ڈاکٹروں کو قصاب، ججوں اور وکیلوں کو انصاف فروش، قومی محافظوں کو خونخوار درندے، تعلیم گاہ کو تحزیب گاہ اور علماء کو ملانیت پسند بنا دیا ہے۔ کتنی عجیب سچائی ہے کہ ایک طرف تو غیر مسلم کمپنیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی نصیحت کی جاتی ہے اس دلیل پر کہ اس سے ان کی معیشت مضبوط ہوتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی طاقت کو وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں، بجا فرمایا، لیکن اس بدقسمت قوم کو کوئی یہ بھی تو بتائے کہ مسلمانوں کی وہ طاقت جو مسلمانوں ہی کے اسّی فیصد بجٹ سے حاصل کی گئی جب وہ مسلمانی طاقت بھی مسلمانوں کے خلاف استعمال ہونے لگے تو پھر یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں؟؟ کس کے در پر دستک دیں اور کس جگہ امان پائیں؟؟؟

تسلیم کہ ہم عوام نہیں اور یہ بھی منظور کہ عوام کالانعام ہیں، لیکن قوم کے سیاسی علماء اور مذہبی پیشوا تو ایسے نہیں، وہ تو تمام حقیقتوں اور قدرت کے رموز سے بخوبی واقف ہیں سیرت طیبہ اور کردار صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنھم بھی ان کے سامنے ایک کھلی کتاب کی مانند ہے تو بھر کوئی سیاسی یا مذہبی رہنما قوم کی درست رہنمائی کرنے سے کیوں گریزاں ہے ؟ نوجوانانِ امت کی گراں قدر صلاحیتوں کو صحیح مصرف میں کھپانے میں کیوں متردد ہے؟ بس میری آخری گزارش یہی ہے کہ خدارا ۔۔۔۔۔ میرے اس درد کا درمان کردیں۔۔۔۔ اس زہر کا تریاق۔۔۔ اور۔۔۔ اس مشکل کا کوئی حل بتادیں ۔۔۔۔ میرا وعدہ رہا۔۔۔۔ کہ پھر کبھی بھی ۔۔۔ نظاموں کے گورکھ دھندے اور ۔۔۔ انقلابی نعروں کے چکروں میں۔۔۔۔ خود پڑوں گا ۔۔۔ نہ کسی کا دردِ سر بنوں گا۔

ڈاؤن لوڈ کریں:

پی ڈی ایف:

http://www.mediafire.com/?0a22hmk3dy22pnu

ایم ایس ورڈ:

http://www.mediafire.com/?6s67vix2kn8w2q2

مکمل تحریر  »

عراقی حزب اسلامی کے ارکان کے پیچھے نماز کا شرعی حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عراقی حزب اسلامی کے ارکان کے پیچھے نماز کا شرعی حکم

ترحمہ: انصار اللہ اردو بلاگ

سوال نمبر: ۳۰۴

تاریخ اشاعت: ۲٦۔١۰۔۲۰۰۹

موضوع: فقہ اور اسکے اصول

جواب منجانب: منبر التوحید والجہاد کی شرعی کمیٹی

سوال: السلام علیکم! حزب اسلامی کے ارکان کے پیچھے نماز پڑھنے کا شرعی حکم کیا ہے کہ جو حزب کی سیاست کے منہج پر یقین رکھتے ہیں اور منبروں سے لوگوں کو انتخابات کی دعوت دیتے ہیں اور مجاہدین کو دہشت گرد کا نام دیتے ہیں؟ اور کیا ان کی مسجدیں ضرار مسجدیں کہلائیں گی؟

سائل: ابو عبیدہ –

جواب: وعلیکم السلام ورحمةٰ اللہ وبرکاتہ! اگر امام ایسا فاسق وبدعتی ہو کہ جس سے وہ دائرہ اسلام سے نہ نکلے یعنی کبیرہ گناہ یا مکفرہ بدعت کا مرتکب نہ ہوا ہو، تو جمہور علماء کے نزدیک صحیح اور رائج بات یہ ہے کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے۔ اس لیئے کہ بدعتی کی نماز ذاتی طور پر درست ہے، تو اس کی امامت دوسروں کے لئے بھی درست ہے۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ نے فرمایا:

اگر مقتدی کو علم ہو جائے کہ امام ایسا بدعتی ہے کہ جو اپنی بدعت کی طرف دعوت دیتا ہے یا ایسا فاسق ہو کہ جس کا فسق بھی ظاہر ہو، مگر وہ ایسا تنخواہ دار امام ہو کہ جس کے پیچھے نماز پڑھنے کےعلاوہ کوئی اور چارہ نہ ہو، جیسے جمعہ اور عیدین کا امام اور میدان عرفات میں حج کی نماز کا امام وغیرہ، تو عام سلف اور متاخرین کے قول کے مطابق مقتدی کو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھ لینی چاہیئے اور یہ مذھب احمد، شافعی اور ابو حنیفہ وغیرہ کا ہے۔ اس لئے انہوں نے عقائد کے باب میں کہا کہ مقتدی کو نماز جمعہ اور عید کی نماز، ہر نیک یا فاجر امام کے پیچھے پڑھ لینی چاہیئے اور اسی طرح اگر کسی بستی میں صرف ایک ہی امام ہو، تو اس کے پیچھے کئی جماعتیں ہو سکتی ہیں کیونکہ جماعت کے ساتھ نماز اکیلے آدمی کی نماز سے بہتر ہے، خواہ امام فاسق ہی کیوں نہ ہو۔ اور یہ جمہور علماء احمد بن حنبل اور شافعی وغیرہ کا ہے۔ (مجموع الفتاوی – ۲۳)

لیکن اگر امام کا فسق، فسق اکبر ہو یا وہ بدعت مکفرہ کا مرتکب ہو یا اس بدعت مکفرہ کی طرف دعوت دیتا ہو، جیسا کہ ان لوگوں کا حال ہے کہ جن کا ذکر سوال میں ہوا کہ وہ مرتد حکومتوں کی سیاسی جماعتوں میں شامل ہوتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول اور مومنو ں کے بجائے، ان مرتد حکومتوں کو دوست بناتے ہیں اور انکی جہاد اور توحید والوں کے خلاف مدد کرتے ہیں اور لوگوں کو ایسے شخص کو منتخب کرنے کی دعوت دیتے ہیں کہ جو شریعت سازی میں اللہ تعالی کے ساتھ خود کو شریک قرار دیتا ہے۔ اور حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دے کر خود کو عبادت کے لائق رب بنالیتا ہے، تو ایسے لوگوں کے پیچھے نماز کے باطل ہونے پر اجماع ہے کیونکہ انکی اپنی نماز باطل وضائع ہے۔ لہذا ان کے پیچھے پڑھنے والوں کی نماز بھی درست نہیں ہوگی۔

ابن قدامہ رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ:

اور یہ اس لئے کہ کافر کے پیچھے نماز درست نہیں خواہ اس نے اپنے کفر کو ظاہر کیا ہو یا چھپایا ہو۔

اورابن عبدالبر نے استذکار میں فرمایا کہ:

انہیں کسی نیک یا فاجر یا ایسے بدعتی کے پیچھے نماز پڑھ لینی چاہیئے کہ جس کی بدعت اسے دائرہ اسلام سے نہ نکالتی ہو۔

باقی رہا مسئلہ ان کی مسجدوں کے حکم کا، تو اگر وہ ان مسجدوں میں لوگوں کو شریعت ساز طاغوتی انتخابات کی طرف بلاتے ہیں اور ان میں سیاسی بیہودگی کے سبز باغ دکھاتے ہیں اور اپنی مساجد کے منبروں سے لوگوں کو توحید وجہاد والوں کے خلاف جنگ کی طرف دعوت دیتے ہیں اور لوگوں کو مرتد جماعتوں کے لشکروں میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں جیسا کہ ہمارے پاس اس طرح کے دوسرے سوال بھی آئے ہیں، تو ایسی مساجد، ضرار مساجد کے حکم میں آتی ہیں۔ اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے کہ:

(وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِن قَبْلُ ۚ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنَىٰ ۖ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ)۔

ترجمہ: ﴿اور جنہوں نے نقصان پہنچانے اور کفر کرنے اورمسلمانوں میں تفریق ڈالنے کے لیے مسجد بنائی ہے اورواسطے گھات لگانے کے ان لوگوں کے جو الله اور اس کے رسول سے پہلے لڑ چکے ہیں اور یہ البتہ قسمیں کھائیں گہ ہمارا مقصد تو صرف بھلائی تھی اور الله گواہی دیتا ہے کہ بے شک وہ جھوٹے ہیں﴾۔ (التوبہ ۔ ۷)

یہ ہماری طرف سے ہے اور سب سے زیادہ اللہ تعالی ہی جانتا ہے وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔

جواب منجانب: الشیخ ابو النور الفلسطینی

عضو شرعی کمیٹی

منبرالتوحید والجہاد

ڈاؤن لوڈ کریں:

ایم ایس ورڈ:

http://www.mediafire.com/?259571aw4i7oyp5

پی ڈی ایف:

http://www.mediafire.com/?fnq3i4gdt5gf666

مکمل تحریر  »

کیا کسی نوجوان کے لئے کمپیوٹر پر بیٹھ کر ذرائع ابلاغ کا جہاد کرنا جائز ہےجو قتال کی استطاعت رکھتا ہو؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کیا کسی نوجوان کے لئے کمپیوٹر پر بیٹھ کر ذرائع ابلاغ کا جہاد کرنا جائز ہےجو قتال کی استطاعت رکھتا ہو؟

ترحمہ: انصار اللہ اردو بلاگ

سوال نمبر : ۱۰۶۶

تاریخ اشاعت : ۱۸/۱۲/۲۰۰۹

موضوع: جہاد اور اس کے احکام

جواب منجانب : الشیخ ابو محمد المقدسی حفظہ اللہ تعالی

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

میں مجاہدین کے شعبہ ابلاغ کے ایک مرکز میں کام کرتا ہوں لیکن میرا دل مطمئن نہیں کیونکہ الحمدللہ میری صحت اچھی ہے اور میں کفار و مرتدین کے خلاف قتال کرنے کی استطاعت رکھتا ہوں۔

لیکن ہمارے بھائی وہان کہتے ہیں کہ آپ کے لئے ذرائع ابلاغ کا کام کرنا زیادہ افضل ہے خراسان (افغانستان) میں ذرائع ابلاغ کا کام کرنے والے مجاہدین کی تعداد بہت قلیل ہے۔

میرا سوال یہ ہے کہ میرے لئے جائز ہے کمپیوٹر پر بیٹھے رہنا۔ ۔ ۔ ؟

یا محاذون پر قتال کرنا افضل ہے۔ ۔ ۔؟

اگر دونوں کام جہاد فی سبیل اللہ ہیں تو ان میں سے افضل کونسا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ؟

۱: محاذوں پر مجاہدین کے ساتھ ملکر قتال کرنا۔ ۔ ۔ ؟

۲: ذرائع ابلاغ کا جہاد۔ ۔ ۔؟

میں اسکا جواب مجاہدین کے شیخ ابو محمد المقدسی حفظہ اللہ سے چاہتا ہوں اللہ آپ کو کفار و مرتدین کی چالوں سے محفوظ رکھے ۔ آمین

میرے ساتھ درگزر کیجیے گا ۔ ۔ ! میں عربی زبان کم سمجھتا ہوں ۔

سائل: ابو زیاد

جواب: الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ۔ ۔ ۔

ہمارے قابل احترام بھائی اللہ آپکو جزائے خیر دے کہ آپ نے اللہ کے نزدیک افضل اور محبوب ترین چیز کے انتخاب کے لئے اپنے آپکو ترغیب دی،اور اس فرمان کو پڑھتے رہیئے:

(ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفاً کانھم بنیان مرصوص) (سورۃ الصف آیت نمبر۴)

ترجمہ: (اللہ تعالی کو تو وہ لوگ پسند ہیں جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں)

تو پس قتال اوراجماعی جہاد جو کہ اپنے آپ کو ایک امارت،جماعت،واضح منہج اور پاکیزہ جھنڈے تلے مضبوط کرتا ہے، اور یہ افضل اور مکمل ترین اعمالوں میں سے ہے۔ اور یہ ہمارے پروردگار کے نزدیک محبوب ترین عمل ہے اور یہ اسلام کی چوٹی ہے۔

جہاد کی ہر قسم صرف اکیلے قتال کے ذریعے نہ تو اپنے مقاصد کو باآسانی پورا کرسکتی ہے اور نہ ہی اس میں کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ اگرچہ قتال اس کے عظیم اعمال میں سے ہے۔ لیکن لازمی اس کے دوسرے پہلو بھی ہیں جو اس جہاد کی مدد کرتے ہیں اور ان پہلووں میں سے ایک پہلو اسکی فصیح اور واضح زبان بھی ہوتی ہے جو اس (جہاد) کے اہداف و مقاصد کی وضاحت کرتی ہے اور جو باطل لوگوں کے شبہات اور تحریف کا ان سے دفاع کرتی ہے۔ اور اسکا ایک اور پہلو اسکی مہربانی ہے جو داعین اور مجاہدین کو پڑھارہی ہے جو خاموش نہیں بیٹھتے۔ یا اس کی وہ نہر جو اس کے افراد اور اموال کو بڑھا رہی ہے، اور جو کبھی خشک نہیں ہوتی،اور اس کے علاوہ جن چیزوں کی جہاد کو ضرورت ہوتی ہے اور جن کے بغیر جہاد مکمل نہیں ہوتا اور ان چیزوں کے ذریعے ہی جہاد کے مکمل ثمرات آتے ہیں۔

اور اسی لئے اللہ تعالی قتال و جہاد کو پسند کرتا ہے جو انہیں کے ذریعہ قائم ہوتا ہے جن کی صفات میں سے ہے کہ وہ (ایسی صف ہین گویا کہ وہ سیسہ پلائی دیوار ہوں) جو ایک دوسرے کو تقویت بخشتے ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور اس میں براہ راست قتال کرنے والا اپنے قتال میں ہرگز کامیابی حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس کو بغیر اپنے بھائی کی مدد کے مسلسل جاری رکھ سکتا ہے۔

اور اس پر میں آپکو کیا نصیحت کرسکتا ہوں ۔ ۔ ۔ اگر آپ کو ذرائے ابلاغ کے کام پر آپ کے امیر یا مجاہدین نے معمور کیا ہے تو آپ کے لئے جائز نہیں کہ آپ اس کو چھوڑ دیں اور نہ آپ اس جگہ کو نظر انداز کریں بغیر ان کی اجازت اور ترتیب کے جس پر آپ کو وضع (مقرر) کیا گیا ہے۔ اگر آپکا نفس قتال کے لئے مشتاق ہے اور کمپیوٹر پر بیٹھے رہنے سے اکتاتا ہے تو آپ ان کو آگاہ کیجیے، اور کیا ہی خوب ہوگا کہ اور وہ آپ کی جگہ کسی دوسرے شخص کو میسرکردیں جو آپکی جگہ کو پُر کردے اور آپ کی جگہ کام کرے اگر وہ اجازت دیں اور ایسا کریں۔ تو پس اللہ سے مدد طلب کیجیے اور اللہ پر بھروسہ کیجیے اور اگر وہ آپکو اجازت نہ دیں تو آپ کے لئے جائز نہیں کیونکہ آپ امانت کے پاسدار ہیں اگر کوئی دوسرا شخص آپکی جگہ کھڑا نہیں ہوا اس کام کے لئے تو آپ نے اس میں کمی کی اور اس کو ضائع کردیا۔ اور اللہ آپکا مددگار ہے اگر وہ آپ میں سچائی کو دیکھے گا تو آپ کو شہداء کے مراتب پر فائز کردیگا اگرچہ آپ اپنے بستر پر ہی وفات پائیں ۔ ۔ ۔

اور اللہ تعالی ہمیں اور آپکو اس کام کی توفیق دے جس کو وہ پسند کرتا ہے اور جس سے وہ راضی ہوتا ہے۔

جواب منجانب: الشیخ ابو محمد المقدسی

عضو شرعی کمیٹی

منبرالتوحید والجہاد

ڈاؤن لوڈ کریں:

ایم ایس ورڈ:

http://www.mediafire.com/?m19ud3i80b2y57q

پی ڈی ایف:

http://www.mediafire.com/?w34hhzt4ns06b4a

مکمل تحریر  »

جہاد قیامت تک جاری رہے گا

جہاد قیامت تک جاری رہے گا

یہ نظم ان مرتدین اور جہاد کے انکاریوںکےلیے جو مجاہدین اسلام پر خوارج کا فتوی لگاتےہیں

چودہ سو سال قبل ۔ ۔ ۔ ۔ عرب کے ریگزاروں سے نکلتے ان قافلوں کی یاد میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن قافلوں کے شتر سواروں نے ہمیں خورداری ، غیرت و حمیت اور شجاعت و بسالت کی تابندہ تاریخ دی ۔

آج انہی اپنے اسلاف سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے دنیا بھر کے مجاہدان صف شکن کے قافلے اپنے جہادی محاذوں کی طرف رواں دواں ہیں۔

یہ نظم اپنے اسی تابناک ماضی کی یاد میں ہے ؛

نکلا تھا جب عرب سے یہ کارواں ہمارا

تھا بس الٰہ اللہ ورد زباں ہمارا

صحرا و بحر و بر تھے زیر قدم ہمارے

ہر سمت موجزن تھا سیل رواں ہمارا

رستہ نہ روکتے تھے صحرا و دشت و دریا

ہوتا نہ تھا مزاحم کوہ گراں ہمارا

خاک وطن کی نسبت ارض حجاز سے ہے

جا ہے یہاں ہماری دل ہے وہاں ہمارا

کشمیر بھی ہے اپنا ، اپنا ہے القدس بھی

یہ ہے زمیں ہماری وہ آسماں ہمارا

مکہ مکرمہ ہے جائے اماں ہماری

اللہ کا وہ گھر ہے آرام جاں ہمارا

پھیلی ہوئی ہے ہرسو اس کے گلوں کی خوشبو

شاداب ر ہے ہمیشہ وہ گلستاں ہمارا

آنکھوں کا نور ہے وہ اور نخل طور ہے وہ

دارالسرور ہے وہ دارالاماں ہمارا

جھکتی ہے ہر قدم پر اس میں جبیں ہماری

خوب آشنا ہے ہم سے وہ آستاں ہمارا

دھڑکن ہمارے دل کی ہے شہر پاک طیبہ

ہم جاں نثار اس کے وہ دل ستاں ہمارا

اس کی گلی گلی ہے پامال پائے احمد

اک اک نقش جا ہے گنج گراں ہمارا

بدر و احد کے دامن ہمتوں کے یہ امیں ہیں

سر سبز ان کے دم سے ہے گلستاں ہمارا

ہم کو ہے ان سے الفت ان کو ہے الفت ہم سے

ارشاد مصطفٰی کا ہے حرز جاں ہمارا

لہرا رہے ہیں ہرسو دین ھدیٰ کے پر چم

پہچانتی ہے دنیا قومی نشاں ہمارا

نکلا تھا جب عرب سے یہ کارواں ہمارا

تھا بس الٰہ اللہ ورد زباں ہمارا

نکلا تھا جب عرب سے یہ کارواں ہمارا

تھا بس الٰہ اللہ ورد زباں ہمارا

وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا

مکمل تحریر  »

عورت کے جہاد کے بارے میں شرعی حکم

عورت کے جہاد کے بارے میں شرعی حکم

ترحمہ: انصار اللہ اردو بلاگ

سوال نمبر: ۲٦۷

تاریخ اشاعت: ١۴۔١۰۔۲۰۰۹

جواب منجانب: منبر التوحید والجہاد کی شرعی کمیٹی

سوال: اس عورت کا شرعی حکم کیا ہے کہ جو جہاد کے لیئے ظاہر ہوتی ہے اوراسی طرح جہاد کرتی ہے کہ جیسے مرد کرتا ہے اور وہ اللہ کی رضا کے لیئے شہادت کی متمنی ہے؟

سائل: sojod 33

جواب: وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

عورت پرجہاد واجب نہیں ہے۔ ابن قدامہ رحمة اللہ علیہ نے فرمایا:

جہاد کے واجب ہونے کی سات شرطیں ہیں۔ اسلام، بلوغت، عقل، آزاد، مرد، کسی بھی بیماری سے سلامت اور خرچ کرنے کے لیئے مال ہونا۔ رہا مرد ہونے کا تو یہ شرط عائشہ رضی اللہ عنہ کی اس رویت کی وجہ سے کہ انہوں نے کہا کہ عورتوں پر بھی جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:

(ایسا جہاد، جس میں لڑائی نہیں۔ حج اورعمرہ)

(احمد اور ابن ماجہ)

اس لیئے کہ وہ عورت اپنی کمزوری کی وجہ سے لڑائی کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔

لیکن کیا عورت مجاہدین کی مدد اور زخمیوں کی مرہم پٹی کے لیئے نکل سکتی ہے؟

تو اس سلسلے میں (امام السرخسی) نے اپنی کتاب (شرح السیرالکبیر) میں فرمایا کہ:

ہمیں یہ پسند نہیں کہ عورتیں جنگ میں مردوں کے ساتھ مل کر لڑیں۔ کیونکہ عورت کی فطرت لڑائی کی نہیں۔ جیسا کہ اس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان میں اشارہ کیا ہے کہ:

(اوہ ہو ۔۔۔ یہ عورت لڑنے کی نہیں)

اور اس کے لڑائی میں حصہ لینے سے ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کی بے عزتی ہوجائے اور مشرکین اس سے خوش ہوں۔ اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس چیز سے مشرک مسلمانوں کے خلاف جرت کریں۔ اور وہ اسے مسلمانوں کی کمزوری سمجھیں۔ اور کہیں کہ یہ مسلمان اب ہمارے خلاف اپنی عورتوں سے مدد لینے پر مجبورہوگئے ہیں۔۔۔! لہذا اس سے بچنا چاہیئے۔ اور اسی وجہ سے ان عورتوں کا لڑائی میں براہ راست حصہ لینا مستحب نہیں۔ ہاں اگر مسلمان واقعی اس پر مجبور ہوگئے ہوں، تو الگ بات ہے۔ کیونکہ مشرکوں کےفتنے کو ضرورت کے وقت ہر اس چیز سے روکنا جس کی مسلمان طاقت رکھتے ہوں جائز بلکہ واجب ہے۔ اور انہوں نے اس پر حنین کے واقعے سے استدلال کیا کہ اس قصے میں وضاحت ہے کہ ضرورت کے وقت ان عورتوں کے لڑنے میں کوئی حرج نہیں۔

کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت میں اس سے منع نہیں کیا تھا۔ مگر یہ بھی نقل نہیں کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت کےعلاوہ عورتوں کو لڑنے کی اجازت دی ہو۔

آپ امام السرخسی نے کہا کہ:

اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ بڑی بوڑھی عورتیں جنگ میں جائیں اور زخمیوں کا علاج کریں اور پانی پلائیں اور ضرورت کے وقت مجاہدین کےلیئے کھانا پکائیں۔ باب: (عورتوں کا مردوں کے ساتھ مل کر لڑنا اور انکا جنگ میں حاضر ہونا)۔

یہ سب تو اس حالت میں ہے کی جب جہاد متعین نہ ہوا ہو۔ لیکن اگر دشمن نے مسلمانوں کے ملک پرحملہ کردیا، تو اس صورت میں ہر طاقت رکھنے والے پر جہاد فرض ہوجاتا ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ لہذا اس صورت میں عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر نکل سکتی ہے۔

اور الکاسانی الحنفی رحمة اللہ علیہ نے کہا کہ:

کسی ملک پر دشمن کے حملے کی وجہ سے اگر جہاد کا اعلان عام ہوگیا، تو اس صورت میں جہاد مسلمانوں کے ہر طاقت رکھنے والے پر اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے فرض عین ہوجاتا ہے۔

﴿ انفروا خفافا وثقالا ﴾

ترجمہ: ﴿نکلو ہلکے ہو یا بوجھل﴾۔

اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت پر جہاد اصل میں واجب نہیں، مگراس ضرورت کے وقت جیسا کہ اگر کافر مسلمانوں کے ملکوں پرحملہ کردیں، تو اس صورت میں اس پر بھی جہاد فرض ہوجاتا ہے۔ اور یہ اس کی استطاعت اور طاقت کے مطابق ہوگا۔ تو اگر وہ استطاعت نہ رکھے تو اللہ تعالی کے اس فرمان کی کی وجہ سے اس پر واجب نہیں ہوگا۔

﴿لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْساً إِلا وُسْعَهَا﴾

ترجمہ: ﴿اللہ تعالی کسی جان کو اس کی جان سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا﴾۔

اور مسلم کمانڈر کو چاہیئے کہ وہ مسلمان عورتوں کو ایسی جگہوں پر نہ رکھے کہ جہاں اسکے غالب گمان کے مطابق انکے قیدی بنائے جانے اور اللہ کے دشمنوں کا ان پر اور ان کی عزتوں پر تسلط قائم ہونے کا خطرہ ہو۔

اس لیئے کہ جہاد کرنے کے بہت سے طریقے ہیں اور اس میں کسی بھی کمانڈر کے لیئے بہت اختیارات ہوتے ہیں۔ اگر عورتوں کے جہاد میں شرکت کی ضرورت بھی پڑے، تو بہت سی جگہیں اور مہمات ایسی ہیں کہ جہاں انکی عزتیں اور جانیں زیادہ محفوظ خیال کی جاتی ہوں۔

اور آخر میں یہ کہ جو کوئی اللہ سے سچے دل کے ساتھ شہادت کا سوال کرے، تو اللہ اسے شہادت کی منزل پر پہنچادیتا ہے خواہ وہ اپنے بستر پر ہی فوت ہو۔

واللہ اعلم

جواب منجانب:الشیخ ابو اسامہ الشامی

عضو شرعی کمیٹی

منبر التوحيد والجهاد ويب سائٹ

مکمل تحریر  »

میں سپاہِ صحابہ کا ایک کارکن ہوں اور آپ سے سوال یہ ہے کہ

سوال: میں سپاہِ صحابہ کا ایک کارکن ہوں اور آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا اِس تنظیم میں کام کرنا جائز ہے؟ نیز پاکستانی جہادی تنظیموں (حزب المجاہدین، جماعۃ الدعوۃ، جیشِ محمد ، البدر و دیگر) کے ساتھ مل کر کام کرنا کیسا ہے؟

مذکورہ سوال دو حصوں پر مشتمل ...ہے ۔ اس سوال کا پہلا حصہ سپاہِ صحابہ میں کام سے متعلق جبکہ دوسرا حصہ پاکستانی جہادی تنظیموں سے متعلق ہے ۔ سوال کے پہلے حصے کا جواب یہ ہے کہ سپاہِ صحابہ بنیادی طور پر دفاعِ ناموسِ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کے مقصد کی خاطر پاکستان میں قائم کی گئی تھی اور پاکستان میں شیعیت کے کفر اور اُن کے بعضِ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کو عامۃ المسلمین پر واضح کرنے کے سلسلے میں سپاہِ صحابہ کی مساعی قابلِ قدر ہیں۔ اِس امر میں شک کی قطعاً گنجائش نہیں اور سلف و خلف کے علماء کی اکثریت کا بھی یہی مؤقف ہے کہ گستاخیٔ اہلِ بیت و صحابہ رضی اللّٰہ عنہم موجبِ کفر ہے لیکن اپنی تمام تر کوشش و مساعی کو صرف اِسی ایک نکتے پر مرکوز رکھنا اور بلادِ اسلامیہ پر مرتد حکام ، اُن کے صلیبی و صہیونی آقاؤں کے تسلط، شعائرِ اسلام کی پامالی اور دورِ حاضر کے دیگر سُلگتے مسائل کو نظر انداز کردینا کسی طرح بھی قابلِ فہم طرزِ عمل نہیں ہوسکتا۔ آج دُنیا میں ’’اسلامی‘‘ کہلانے والے ۵۷ نام نہاد آزاد ممالک پر نظر دوڑایئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کہیں بھی اسلام بطورِ غالب نظام نافذ نہیں ، الٰہی احکام و قوانین کی پامالی مملکتِ خداداد کہلانے جانے والے اِس ملک میں اپنے عروج پر ہے ۔ نظامِ حکومت اللّٰہ ، اُس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بغاوت پر مبنی اور کافرانہ ہے ۔ ہماری معیشت سود کی بنیاد پر قائم ، معاشرت رسوم و رواج کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی، نظام تعلیم لارڈ میکالے اور ڈارون کے گمراہ کن نظریات پر عمل پیرا، خارجہ / داخلہ پالیسیاں وسیع تر قومی مفاد یعنی ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے کفریہ نعرے کی بنیاد پر غرض ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ (الروم ۴۱) خلاصہ یہ کہ حاکمیتِ الٰہی کے قیام کی جدوجہد میں شامل ہوجایئے ، اِس لئے کہ –أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (الاعراف ۵۴)جب حکم اُس کا چلے گا تو باقی مسائل آپ اپنی موت مرتے جائیں گے۔ دوسری بات یہ کہ شیعیت کو کافر قرار دینے کا مطالبہ کس سے کیا جاتا ہے ؟ اُسی سیاسی قیادت سے جس کی اکثریت شیعہ ، سیکولر اور لادین جمہوری نظام کو اختیار کرنے والی ہے ۔ سپاہِ صحابہ کو دفاعِ ناموسِ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم اور شیعیت کو قانوناً کافر قرار دِلوانے کی جدوجہد کرتے ۲۰ برس ہوچکے ہیں ۔ بے نظیر بھٹو، نواز شریف، اور اب زرداری ۔۔۔۔ کتنی ہی بدعنوان اور لادینیت پسند حکومتیں آئیں اور گزر گئیں ، آخر یہ سعیٔ لاحاصل کب تک ؟ اور اگر شیعیت کو اللّٰہ سے باغی اِس نظام نے کافر قرار دے بھی دیا تو اِس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ (المائدہ ۵۱) مسلمانوں کے بہت سے گروہ نہایت اہم لیکن ضمنی مسائل ہی کے محور پر کام کررہے ہیں ۔ کسی نے شیعوں کو ہدف بنا رکھا ہے ، کوئی قادیانیوں کے خلاف جدوجہد کررہا ہے تو کوئی محض دعوت و اصلاح کی بنیاد پر کام کررہا ہے ۔ یہ تمام اُمور حد درجہ اہم ہیں لیکن اِن سب کے ساتھ ساتھ ہماری نظر مذکورہ مسائل کی جڑ یعنی حاکمیتِ الٰہی اور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کی واپسی پر کیوں نہیں؟ کیوں نہ ہم اُس بڑے مقصد کے لئے کام کریں جس کے پورا ہونے پر ہمارے تمام مسائل – خواہ وہ دینی ہوں یا دُنیاوی ، اِس دنیا کے ہوں یا اُس دنیا کے – حل ہوجائیں گے اور ہمیں نصرتِ مہدی اور نصرتِ مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا شرف بھی حاصل ہوجائے گا ۔ انشاء اللّٰہ مذکورہ بالا تمام اُمور کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک ایسے گروہ میں شامل ہوکر اپنی توانائیاں صرف کیوں نہ کریں جو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے منہج اور دعوت کے مطابق کا م کررہا ہو ۔ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے : ’’خراسان سے کالے جھنڈے نکلیں گے اور اُن کو کوئی بھی واپس نہیں کرپائے گا یہاں تک کہ وہ ایلیاء (بیت المقدس) میں نصب کئے جائیں گے‘‘ (رواہ احمد؛ مسند ابوہریرہ؛ حدیث ۸۵۷۷) اور ایک روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ جب تم اُن کو دیکھ لو تو تم پر لازم ہے کہ اُن کی اتباع کرو اور اُن سے آملو خواہ تمہیں برف پر گھسٹ کر ہی کیوں نہ آنا پڑے۔ بے شک اُن میں اللّٰہ کے خلیفہ مہدی ہوں گے (سنن ابن ماجہ ؛ کتاب الفتن ؛ حدیث ۴۰۸۲) نیز علی رضی اللّٰہ عنہ کا قول ہے کہ جب تم پر حق و باطل کی پہچان دُشوار ہوجائے تو یہ دیکھو کہ باطل کے تیروں کا رُخ کس جانب ہے ؟ حق کو پہچان لو ، حق والوں کو خود ہی پہچان جاؤ گے۔ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللّٰہ علیہ نے مجموع الفتاویٰ میں امام عبداللّٰہ بن مبارک اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللّٰہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جب لوگ کسی بات میں اختلاف کا شکار ہوجائیں تو یہ دیکھو کہ محاذ والوں کی رائے کیا ہے! اِس لئے کہ حق اُن کے ساتھ ہے ، اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (العنکبوت ۶۹) ----------------------------- بلد العجائب ’’پاکستان‘‘ میں جہاں کئی دیگر چیزیں ساری دُنیا سے نرالی ہیں ، وہیں اِس کی ایک انوکھی بات یہ بھی ہے کہ یہ شاید دُنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں جہاد کی بھی دو اقسام ہیں : قانونی جہاد اور غیر قانونی جہاد ۔ قانونی جہاد سے ہماری مراد اُن پاکستانی جہادی تنظیموں کا جہاد ہے جن کے لئے پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے خود کشمیر کا دروازہ کھولا ، اُنہیں حکومتِ پاکستان کے مفادات کے لئے استعمال کیا اور اپنے مذموم مقاصد پورا کروانے کے لئے (اِس کے لئے کارگل کے محاذ کی مثال ہی کافی ہے)اِن تنظیموں سے جتنا تعاون ضروری تھا ، اُتنا تعاون بھی کیا ۔ پس اِن تنظیموں کو آزاد کشمیر میں تربیتی معسکرات چلانے اور دارالحکومت اسلام آباد سمیت پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں دفاتر کھولنے اور اپنی سرگرمیاں علانیہ جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی ۔ اِس سب کے بدلے اِن کے قائدین کو محض ایک بات کا پابند کیا گیا کہ یہ چاہے ساری دُنیا کے خلاف جہاد کی بات کریں لیکن پاکستان میں قائم نظامِ کفر کے خلاف جہاد کا سوچیں بھی مت۔ جہاد کی یہ قسم قانوناً جائز ہے اور اسے پاکستانی سرکار کی پشت پناہی بھی حاصل ہے ۔ گوکہ ملکی مفاد کی خاطر کبھی اُن کو بھی قربانی کا بکرا بننا پڑ جاتا ہے جیساکہ آج کل بعض تنظیموں کے ساتھ عملاً ہورہا ہے ۔ (اِس امر میں کوئی شک نہیں کہ ان تنظیموں میں نچلی سطح پر مخلص مجاہدین کی کوئی کمی نہیں چنانچہ ہم یہاں بحیثیت مجموعی ایک تنظیم کے طور پر اُن کا ذکر کررہے ہیں ، اُن کے مخلص افراد یہاں موضوعِ بحث نہیں) طاغوتی چھتری تلے چلنے والی اِن تنظیموں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اُن کے تربیتی نظام میں (جسے آئی ایس آئی نے بڑی توجہ سے ترتیب دیا ہے ) اس بات کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے کہ جہاد کی نیت سے آنے والے مخلصین یہ نہ جان سکیں کہ شریعت میں جہاد فی سبیل اللّٰہ کے اصل اہداف و مقاصد کیا ہیں ؟ پس معسکرات میں تربیت کے دوران ، نیز تحریر و تقریر اور ترانوں و نعروں وغیرہ کے ذریعے ایک ہی مفہوم ذہن میں راسخ کیا جاتا ہے کہ جہاد سے مقصود محض کشمیر و افغانستان کی سرزمین کی آزادی اور مظلوم ماؤں بہنوں کی مدد کرنا ہے ۔ (خواہ آزادی کے حصول اور ظلم کے خاتمے کے بعد وہاں کوئی نام نہاد مسلمان اسی کفریہ نظامِ حکومت کو بعینہٖ اُسی طرح بحال رکھے) چنانچہ کفر و شرک کا خاتمہ ، کفر پر مبنی نظام ہائے حکومت کی بربادی ، شریعت کا نفاذ اور خلافت کے قیام جیسے مقاصدِ اساسی کا قطعاً کوئی تذکرہ اُن تنظیموں کے یہاں نہیں ملتا ۔ پاکستانی فوج اور ایجنسیاں اِس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ جو شخص بھی شریعت کی روشنی میں جہاد کے مقاصد کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لے گا ، وہ نہ صرف کشمیر و افغانستان کے محاذوں پر لڑتے ہوئے اُن کو اوامر کا پابند نہیں رہے گا بلکہ اُس کی بندوق کا رُخ کسی بھی وقت کسی دوسرے علاقے میں قائم نظامِ کفر کی طرف بھی پھر سکتا ہے ۔ اِسی لئے وہ مجاہدین کو جہاد کے بنیادی مقاصد سے غافل رکھنے کا پورا اہتمام کرتے ہیں ۔ انہی مقاصد جہاد کا ذہنوں میں راسخ نہ ہونا گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیر کی آزادی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اِنہی مقاصد سے غافل ہونے کے سبب روس کے خلاف جہاد کے بعد مجاہدین کی تنظیموں خانہ جنگی کا شکار ہوئیں ۔ جیسا کہ ڈاکٹر ایمن الظواہری حفظہ اللّٰہ اپنی ایک ویڈیو ٹیپ بعنوان ’’پاکستانی افواج اور عوام کے نام ایک پیغام ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’یہاں میں جس چیز پر زور دوں گا ، وہ یہ ہے کہ کشمیر کی آزادی سے پہلے خود اس جہاد کو آئی ایس آئی سے آزاد کرانا ضروری ہے‘‘ جہاد کی دوسری قسم پاکستان میں غیرقانونی قرار دی گئی ہے ۔ یہ اُن فی سبیل اللّٰہ مجاہدین کا جہاد ہے (خواہ اُنہیں طالبان کا نام دیا جائے یا القاعدہ کا) جو جہاد کے معنی اور مقاصد کتاب اللّٰہ ، سُنَّتِ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور تشریحاتِ سلف سے سمجھے ہیں ۔ جو نہ صرف اپنے مظلوم بھائیوں اور بہنوں کی تکالیف دور کرنے ، اُن پر مسلط غاصب کفار کو پچھاڑنے اور مسلم سرزمینیں بازیاب کرانے اُٹھے ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ اُن کی نگاہیں کفر و شرک کے خاتمے ، کلمۂ توحید کی سربلندی اور خلافت کے قیام کے مقاصدِ اساسی پر بھی مضبوطی سے جمی ہیں ۔ یہ مجاہدین آدھا نہیں ، پورا کلمۂ حق کہنے کے خوگر ہیں۔ اور اسی لئے وہی فوج جو جہاد کی اوّل الذکر قسم کو فروغ دیتی ہے ، اس شرعی جہاد کو لمحہ بھر برداشت نہیں کرتی ۔ اپنی پوری قوت لے کر پہاڑوں اور غاروں تک میں ان کا تعاقب کرتی ہے اور امریکہ کے ساتھ مل کر ان کا خون بہاتی ہے ۔ بلاشبہ یہ پورا منظر نامہ ان مخلصین کے لئے لمحہ فکریہ ہے جو ابھی تک ’’قانونی جہاد‘‘ کرنے والی تنظیموں سے علیحدہ نہیں ہوئے ۔ اللّٰہ ہمیں جہاد

فی سبیل اللّٰہ کی راہ میں استقامت اور اُسی راہ میں شہادت کی موت عطا فرمائے ۔ آمین

مکمل تحریر  »