Friday, October 7, 2011

حق شخصیات اورتنظیموں سے نہیں بلکہ شخصیات اورتنظیمیں حق سے پہچانی جاتی ہیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم
حق شخصیات اورتنظیموں سے نہیں بلکہ شخصیات اورتنظیمیں حق سے پہچانی جاتی ہیں
تحریر : صلاح الدین غزنوی
انصار اللہ اردو ویب سائٹ کی خصوصی پیشکش
حق اور باطل کے درمیان جاری لڑائی ازل سے ہے اور ابد تک جاری رہے گی۔لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ اس جنگ ولڑائی میں کامیابی صرف ان لوگوں کے چہرے کا جھومر بنتی ہے جو اللہ رب العزت کی بندگی کو اختیار کرتے ہیں اور اس کے تمام احکامات کو بغیر کسی چوں وچراں کے بجالاتے ہیں۔کائنات کے اس حقیقی مالک کے علاوہ نہ وہ کسی کے در پر اپنی پیشانی کو جھکاتے ہیں اور نہ ہی وہ کسی کے آگے اپنے آپ کو سلنڈر کرتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جواپنا تن من ودھن سب کچھ حق کی خاطر قربان کردیتے ہیں اور باطل کی طرف سے آنے والی ہرتکالیف ومصائب کے سامنے صبرواستقامت کے ایسے پہاڑ بن جاتے ہیں کہ ریزہ ریزہ ہوکر اپنی جانوں کو توآفرین کے سپرد کردیتے ہیں لیکن اسلام پر ذرا سی بھی آنچ نہیں آنے دیتے ۔ان لوگوں کا جینا مرنا حق کے لئے ہوتا ہے اور یہ لوگ ہمیشہ حق کا ساتھ دیتے ہوئے اس کے ساتھ وفاداری کرتے ہیں ۔ ان کی خوشیاں ، ان کی غمیاں، ان کی دوستیاں اوران کی د شمنیاں بھی حق کی بنیادپر ہوتی ہے۔اس حوالے سے کسی ملامت کرنے والی کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے۔یہی وہ لوگ ہیں جو اہل حق کہلانے کے حقدار ہیں اور اللہ تعالی کی تائیدونصرت اوررحمت وشفقت کوپانے کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آج کے اس دلفریب پُر فتن دور میں اہل حق اوراہل باطل کون ہیں؟ان کی علامات ونشانیاں کیاہیں؟حق وباطل کے ترازو میں لوگوں کو پرکھنے کی کسوٹی اور معیار کیاہے؟
ان سوالات کے جوابات جاننے سے پہلے یہ جاننا بیحد ضروری ہے کہ حق کیاہے اورباطل سے کیا مرادہے؟
آج ہم مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے حق کو پہچانا نہیں اورجو کوئی اہل حق ہونے کا دعوی کرتا ہم اس کے ساتھ چل پڑتے اور جو کچھ وہ بتاتااسے ہی حق سمجھنے لگتے۔ ہم نے کبھی یہ کوشش ہی نہیں کی کہ ہم حق کو پہچانے اور پھراس کے بعداس کے ماننے والوں کو تلاش کرکے ان کے ساتھ چلیں اوران کا ساتھ دیں۔ہم پاکستانی مسلمانوں کی اکثریت حق کو شخصیات ،مغربی زدہ کفری میڈیا،تنظیموں اورپارٹیوں کی بنیاد پر سمجھنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ہم پاکستانیوں کی حالت یہ ہے کہ ہمارے رہنما ولیڈرنے جو کہہ دیا،بس وہ حرف آخر ہے۔انہوں نے جس کام کوحلال اور واجب قراردیدیا، ہم اس کام کو واجب اورنیکی سمجھتے ہوئے اس کوبجالانے میں لگ جاتے ہیں۔ اور جس کام کوانہوں نے ممنوع اور حرام قراردیدیا،ہم اس کو گناہ سمجھ کر چھوڑدیتے ہیں۔افسوس کہ ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ ہم سے جو کچھ کہا جاتاہے اورجوکچھ کرنے کا حکم دیاجاتاہے آیا وہ حق ہے کہ بھی نہیں؟ہم جس کام کو اپنے قائدین کے کہنے پر حق اوراسلام کی خدمت سمجھ کرکررہے ہیں،کبھی اس کے بارے میں ہم نے یہ سوچا ہے کہ اس سے حق کوکیافائدہ پہنچ رہاہے یاپھرباطل کواس سے مزیدتقویت مل رہی ہے۔ہماری تنظیمی ودینی سرگرمیوں سےاہل حق کوکس قدر فائدہ اورکس قدرنقصان پہنچ رہا ہے ؟
ہمیں کبھی اس کے بارے میں سوچنے کی فرصت ہی نہیں ملی۔بلکہ ہم نے کبھی اس کے بارے میں سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔ کیونکہ ہم نے حق کوپہچاناہی نہیں ہے اورہم حق کو اپنی شخصیات وتنظیموں کی بنیادپرپہچانتے ہوئے اسے اپنے لئے کافی سمجھنے میں لگے ہوئے ہیں۔
یہی وہ بنیادی اور مرکزی غلطی ہے جس کا ارتکاب ہم پاکستانی مسلمانوں نے کیا اور آج ہم اس کاخمیازہ بھگت رہے ہیں۔اس غلطی کی وجہ سے ہمیں اب تک یہ پتہ ہی نہیں چل رہا کہ اہل حق کون ہیں؟
اس غلطی کو فروغ دینے میں تنظیموں اور ان کے قائدین کا مرکزی کردار ہے جوکسی بھی قسم کا معاملے پیش آنے کی صورت میں سڑکوں پرچندللکارشدہ دھمکیوں اور نعرے بازی والے مظاہرے اورریلیاں نکالتے ہیں اوراسٹیجوں پر بڑھکیں مارکراپنے گھروں میں جاکرائیرکنڈیشنڈروم میں بکرے کھاکرسوجاتے ہیں۔انہیں دعووٴں کی بجائے عملی اقدام کرنے اورحق واسلام کاساتھ دینے کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی ہے۔ان کے مطمع نظرصرف یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح اپنا کیرئیراورمقام ومرتبہ جوانہوں نے لوگوں کے سامنے بنارکھا ہے، اسے برقرار رکھاجائے اورمقامی اہل باطل کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مسلم عوام میں ایسی سرگرمیوں کوانجام دیاجائے جن سے انہیں تقویت پہنچے اوروہ مزیدمضبوط ترہو۔یہ سب کچھ ایسے ڈرامائی انداز میں کیاجاتاہے کہ عام مسلمان ان کے فریب میں آکر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ دین کاکام کررہے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ دین کی بجائے مقامی کفری ایجنسیوں کے ایجنڈوں کوپایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے سرگرم ہوتےہیں۔مسلمانوں کو بیوقوف بنانے اوران کی حمایت حاصل کرنےکے لئے وہ دعووٴں کے ساتھ چندایسے امورسرانجام دیتے ہوئے نظرآئیں گے جن سے بسااوقات جزوی طورپرمقامی مسلمانوں کوچندفوائدحاصل ہوجاتے ہیں لیکن اسلام کواکثراوقات ان سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔اگر ان جماعتوں وتنظیموں کی سرگرمیوں سے اسلام کو کوئی جزوی فائدہ پہنچ بھی جائے تووہ فائدہ ایساہوتاہے کہ اس سے مقامی کفری ایجنسیاں اوران کے آقاوٴں پر کوئی ضرب کاری نہیں لگتی اورنہ ہی ان کے مفادات کو کوئی ٹھیس پہنچتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج ہم ان تنظیموں کے رہنماوٴں کواسٹیجوں پرامریکی ڈرون طیاروں کوگرانے اورامریکہ کوتباہ وبرباد کرنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے توسنتے ہیں لیکن عملی طور پران لوگوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ جہادکرنا تودور کی بات علی الاعلان امریکیوں کوقتل کرنے والے جہادکے فرض عین کا فتوی دینے اورامریکہ کیخلاف جہاد کرنے والے اہل حق کا ساتھ دینے کی دعوت دیتے ہو ئےنظر نہیں آئیں گے۔بلکہ ذرائع ابلاغ پر تویہ لوگ اہل حق (القاعدہ وطالبان) سے دستبردارہونے کااعلان کرنے ، مقامی باطل ایجنسیوں کی چاپلوسیاں کرنےاوراقوام متحدہ کے قوانین وپاکستان کے انگریزی ملکی آئین کے احترام کا عہد کرنے میں لگے ہوئے دکھائی دیں گے ۔ اس کے علاوہ غلبہ اسلام اورخلافت اسلامیہ کے قیام کے لئے جدوجہدکرنے والے مجاہدین پرمن گھڑت جھوٹے الزامات لگانے اورناپاک فوج اوراس کی ایجنسیوں کے ہاتھوں اسلام ومسلمانوں کیخلاف ہونے والے مظالم وجرائم کی پردہ پوشی کرنے میں مصروف عمل ہونگے۔اسی طرح پاکستان میں رائج انگریزی نظام اوراس کی محافظ ناپاک فوج کیخلاف پاکستانی عوام میں پیدا ہونے والی نفرت کو ختم کرنے کے لئے مختلف حیلے وبہانے سے سرگرم نظرآئیں گے۔ ایسے لوگوں کا کوئی باضابطہ طریقہ کارنہیں ہے اوران کی تمام سرگرمیوں کا مقصددنیا میں بالعموم اورپاکستان میں بالخصوص رونماہونے والے حالات وواقعات سے اپنےاور ناپاک فوج کے مفادات ومقاصدکوفائدہ پہنچانے کے لئے سرگرم ہوناہے۔یہ سرگرمی اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک وہ ایشوزمیڈیاپر زندہ ہوتے ہیں جیسے ہی وہ ایشوز میڈیا سے اوجھل ہوجاتے ہیں تو وہ ان ایشوز کو چھوڑدیتے ہیں اوران پراپنے آپ کواوراپنی تنظیم کو چمکانے کا عمل ترک کردیتے ہیں۔پھراس کے بعدوہ میڈیاپر آنے والے نئے ایشوزپرپینترے بدل کر کام کرنا شروع کردیتے ہیں ۔یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے اورہم پاکستانی مسلمان اب تک ان لیڈران وقائدین کے ہاتھوں بیوقوف بن کر حق اور اہل حق کاساتھ دینے میں تذبذب اورتشویش کاشکارہے۔یہ گھبراہٹ اورتذبذب اس وجہ سے ہے کہ ان رہنماوٴں اوران کی تنظیموں نے مکروفریب کا ایساجال بچھارکھا ہے کہ جس سے یہ سمجھنا مشکل اوردشوارہوگیاہے کہ اصلی اہل حق اوراہل باطل کون ہیں؟کون اسلام کے غلبہ کے لئے کام کررہاہے اورکون باطل کو تقویت پہنچانے کے لئے سرگرم ہے؟
ان لیڈران وقائدین اوران کی تنظیموں میں سے ہرایک یہ دعوی کرتاہوانظرآئے گاکہ وہ اہل حق ہیں اوران کاموقف وپالیسی درست ہے جبکہ دوسرے تمام اہل باطل اوران کاموقف وپالیسی غلط ہے۔ہم جوکہہ رہے ہیں اورجس کی تائیدوحمایت کررہے ہیں ، بس وہی حق اورصحیح ہے اورجس کی ہم مخالفت ومذمت کررہے ہیں، وہی باطل اورغلط ہے۔وہ کسی سے حق کی بات سننا گوارا نہیں کرتے اور نہ اپنی صفوں میں کسی ایسے شخص کو برداشت کرتے ہیں جوان کےموقف سے ٹکرانے والی ذراسی حق کی بات بیان کریں۔
ان لیڈروں ورہنماوٴ ں اوران کی تنظیموں کاحال وہی ہے جواللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرعون کاحال بیان کیا ہےکہ فرعون بھی اپنے آپ کوحق پرسمجھتاتھااور یہ دعوی کرتاتھاکہ وہ جوکہتااور کرتا ہے وہی درست اورٹھیک ہے۔اس لئے فرعون بھی یہ چیز برداشت نہیں کرتاتھاکہ اس کے سامنے کوئی حق کی بات کہے اوراس کی صفوں میں کوئی ایساشخص موجود ہو جو اس کے موقف کے مخالف ذراسی حق کی بات کہے۔چنانچہ سورہ مومن میں ہے کہ فرعون اوراس کے حواریوں کوجب ایک مومن شخص نے حق کی دعوت دینے کی کوشش کی توفرعون نے اس کو برداشت نہیں کیااورحق کی بات بے اثراوربیکاربنانے اورلوگوں کواس سے متنفرکرنےکے لئےاپنے حواریوں سےیہ کہا
قَالَ فِرْعَوْنُ مَا أُرِيكُمْ إِلَّا مَا أَرَىٰ وَمَا أَهْدِيكُمْ إِلَّا سَبِيلَ الرَّشَادِ) المؤمن40: 29)
فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی بات سُجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور اور میں تمہیں بھلائی کی راہ کے سوا )اور کوئی راستہ( نہیں دکھاتا۔
اس آیت کریمہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ فرعون بھی یہی کہتاتھا کہ میں حق پر ہواورمیں تمہیں جوراہ دکھارہاہو وہی صحیح اورکامیابی کی راہ ہے۔
آج ان لیڈروں اورتنظیموں کے سربراہوں نے اسی روش کو اختیارکرکےاس قدر عصبیت اورتنگ نظری کوفروغ دیا ہے کہ ان کے کارکن وحامی افراد حق کی بات سننا تک گوارانہیں کرتے اورجوکوئی انہیں صحیح بات کی طرف نشاندہی کریں تواس پرغوروفکرکرنے کی بجائے اس سے اعراض اور پیٹھ پھیرنے والابرتاوٴ کرتے ہیں۔ایساوہ اس وجہ سے کرتے ہیں کیونکہ ان کی سوچ وفکریہ بن چکی ہے کہ حق بس وہی ہے جوان کے رہنمااورتنظیم کے سربراہان بتاتے ہیں،اس کے سوا جو کچھ ہیں وہ تمام باطل ہیں۔
اس سوچ اورذہنیت کاشاخسانہ ہے کہ ہرتنظیم اور اس کےلیڈرحضرات اپنے نقطہٴ نظر کوصحیح اورحق پرسمجھنے کی وجہ سے یہ ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے کہ وہ حق کوپہچان کراس پر چلیں اوردنیامیں رونماہونے والے حالات وواقعات میں حق پر ثابت قدمی کو اپناتے ہو ئے اس کے تقاضوں کو پوراکریں ۔اسی وجہ سے اگرآپ اپنے اردگردنظردوڑائے گے توآپ کو پتہ چلے گا کہ ہرتنظیم اوراس کے رہنماوکارکنان کی اپنی الگ سوچ وفکرہے اور وہ سب اپنی تنظیم وجماعت کے طریقہ کارپرخوش ہیں اوراسے ہی حق سمجھ کراپنے لئے کافی سمجھتے ہیں۔اللہ تعالی نے ایسی ہی جماعتوں اورتنظیموں کی حالت کی عکاسی کرتے ہوئے قرآن کریم میں فرمایا:
كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ )الروم۳۰: ۳۲(
ہر جماعت کے پاس جو کچھ ہے وہ اس پر نازاں و فرحاں ہے۔
آج آپ دیکھ لیں کہ کتنے ہی لیڈرحضرات اورجماعتیں ایسی ہیں جو اعلانیہ طورپرباطل کا ساتھ دیں رہی ہوتی ہیں مگران کے معتقدوپیروکارحق کے عیاں ہونے کے باوجودان کا ساتھ دیتے ہیں اورانہیں تقویت پہنچانے سے بازنہیں آتے۔ایسااس لئے ہوتا ہے کہ ہم ان رہنماوٴں اوران کی جماعتوں کے ذریعے سے حق سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم اس خام خیالی میں مبتلاہوتے ہیں کہ ان لیڈران اوران کی تنظیموں کی باتوں کو اپنی عقل پر پرکھتے ہیں اوران میں سے جس کی بات ہم کواچھی لگتی ہے،اسے حق سمجھ کراختیارکرلیتے ہیں اوراس پر عمل کرنے کواپنے لئے کا فی سمجھتے ہیں۔
یہی وہ ایک سنگین غلطی ہے جس کی وجہ سے ہم پر حق وباطل خلط ملط ہواہے اور ہمیں حالات کی تیزی سے رونمااورتبدیل ہونے کی وجہ سے حق کوپہچان کراس کےموجودہ تقاضوں کوجاننااورپھران کوپوراکرتے ہوئے اہل حق کا ساتھ دینامشکل اورناممکن ہوگیاہے۔
ہمیں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ حق کسی شخص اورتنظیم کی وراثت اورملکیت نہیں ہے جوجائیدادکی طرح نسل درنسل تقسیم ہوتاپھرے۔بلکہ حق ایک نظریہ اورعقیدہ ہے۔جوشخص بھی اس کوپہچان کراس کے تقاضوں کو پوراکرتے ہوئے اس پرعمل کرے گا وہ اہل حق کہلانے کا مستحق ہوگا۔لیکن اس کا شمارہمیشہ اہل حق میں اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک وہ حق کوپہچان کراس کے تقاضوں پرعمل کرتے ہوئے اپنی ساری زندگی اس کے مطابق نہ گزاردیں یہاں تک کہ وہ اپنی جان اپنے خالق حقیقی کے حوالے کرکے اس فانی دنیاکو خیرآبادنہیں کہہ جاتا۔اسی طرح ایسے لوگوں کا شماراہل حق میں نہیں ہوتا جنہوں نے حق کو پہچانا اور وقتی طور پر اس پرعمل کرکے پھراس کو چھوڑدیااوراس کے بعداپنی زندگی کو رائیگاں وبے مقصدگزارناشروع کردیا۔
بہرحال حق کیا ہے اورحق کا ساتھ کیوں اور کس وجہ سے دیں؟اہل حق کی نشانیاں وعلامات کیا ہیں؟حق کا ساتھ دینے سے کیافوائدملتے ہیں اورحق کوچھوڑنے کی صورت میں کن نقصانات کاسامنا کرناپڑتاہے؟اہل حق اوراہل باطل کی پہچان کس طرح کی جاسکتی ہے اورلوگوں کوکس طرح پہچاناجاسکتاہے کہ کون حق کا ساتھ دے رہاہے اور کون باطل کی پشت پناہی کررہا ہے؟
اس طرح کے تمام سوالات کاجوابات اگلے کسی مضمون میں تفصیل کے ساتھ قرآن وحدیث کی روشنی میں ذکرکیاجائے گا ۔ان شاء اللہ
لیکن جوبات سب سے پہلے ذہن نشین کرلینے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ ان سوالات کے جوابات ہمیں اس وقت تک سمجھ نہیں آجاسکتے جب تک ہم اس بھیانک غلطی کا ازالہ نہیں کردیتے جس کاذکرمندرجہ بالاسطورمیں گزرچکا ہے۔وہ غلطی یہ ہے کہ حق کوشخصیات اورتنظیموں وجماعتوں کے ذریعہ سمجھنا۔
یہ غلطی ایسی ہے کہ جو شخص اس کا مرتکب ہو،اسے حق سمجھ آنا ناممکن ہے۔وہ کبھی بھی حق کی بات کواس وقت تک نہیں قبول کرسکتا جب تک اپنے دلوں کوتعصب،اپنی شخصیات وتنظیموں پراندھااعتماد کرنا،ان کی ہربات کوحرف آخرسمجھنا،وہ جس کوحلال کہہ دیں اسے حلال سمجھنااورجس کو حرام کہہ دیں اسے حرام سمجھنا،جس کی حمایت وتائیدکریں اس کی حمایت وتائیدکرنا،جس کی مخالفت کریں اس کی مخالفت کرنا،جس کو اہل حق قرارددیدیں صرف اسے اہل حق قراردینا،جس کواہل باطل قراردیدیں اس کو اہل باطل قراردینا،جس چیزکوحق کہہ کراپنانے کی دعوت دیں اس چیزکوحق سمجھ کراپنانااورجس چیزکوباطل قراردیکرچھوڑنے کا حکم دیں اس کام کو باطل سمجھ کرچھوڑدینے والا رویہ اپنانا نہ چھوڑدیں۔
جو شخص ایسانہیں کرتاوہ حق کو نہ پہچان سکتاہے اورنہ ہی سمجھ کراس پرعمل پیراں ہوسکتاہے کیونکہ حق کبھی شخصیات اورتنظیموں کے ذریعہ سے پہچانااورسمجھا نہیں جاسکتااور نہ ہی حق وباطل کوان کے مقررکردہ معیاراورترازوسے سمجھا جاسکتاہے۔یہ ایک اصول وقاعدہ ہے،جسے سمجھناانتہائی ضروری ہے۔
ایک شخص جس کا نام حارث بن حوط تھا۔وہ امیرالموٴمنین سیدناعلی رضی اللہ عنہ کے پاس جنگ جمل کے موقع پر آیا اوروہ تذبذب کا شکارتھا کہ جنگ کے دونوں فریقین میں سے اہل حق کون ہے اوراسے کس کاساتھ دیناچاہئے؟اس نے علی رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں استفسارکیاتوآپ نے اسے جو جواب دیاوہ سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔وہ جواب یہ تھا:
»إنّك لملبوسٌ عليك ، إن الحق والباطل لا يعرفان بأقدار الرجال، وبإعمال الظن، اعرف الحقّ تعرف أهله ، واعرف الباطل تعرف أهله«
یقیناتجھ پرمعاملہ خلط ملط ہے۔بلاشبہ حق اورباطل شخصیات کی حیثیت ورتبوں اورگمان کے اندازوں سے نہیں معلوم کیا جاسکتا۔حق کی پہچان کروتمہیں خود ہی اہل حق کا علم ہوجائے گااورباطل کی پہچان کروتمہیں خودہی اہل باطل کا علم ہوجائے گا۔
اسی طرح ایک اور شخص نے علی رضی اللہ عنہ سے حق کی بابت پوچھنے آیا توآپ نے اسے جواب دیا:
«إنّما يُعرفُ الرجالُ بالحقّ ولا يُعرفُ بالرجال«
بیشک شخصیات حق کے ساتھ پہچانی جاتی ہیں اورحق شخصیات کے ساتھ نہیں پہچانا جاتا۔
(فیض القدیر 1/17، الإحياء 1/53، صيد الخاطر 36، تلبيس إبليس 77، الجامع لأحكام القرآن 1/380،اورأقاويل الثقات 222 )
آج ہماراسب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ہم لوگوں اورتنظیموں کے قائم کردہ تولنے کے ترازواورناپنے کے معیار پرحق کوپرکھنے اورسمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کے بنائے ہوئے اصولوں وقواعدپراہل حق اوراہل باطل کی پہچان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے دلوں کوہرقسم کے تعصب اورشخصیات،میڈیا وتنظیموں کی من مانی سے پاک کرکے اپنے آپ کوحق کے حوالے کردیں۔پھر ہمیں حق کی پہچان ہوجائے گی اورہمیں بآسانی پتہ چل جائے گا کہ کون اہل حق ہے اور کون حق کے نام پرذاتی مفادات کوحاصل کرنے اورلوگوں کوگمراہ کرکے اہل باطل کی مددکرنے میں لگا ہواہے۔اسی طرح ہمارے اوپر یہ بھی واجب ہے کہ جب ہم حق کو پہچاننے لگ جائیں گے تواس کی کسوٹی ومعیارپراورترازومیں لوگوں اور تنظیموں کوپرکھے گے توجن کے بارے ہمیں پتہ چلتا جائے گا کہ یہ اہل حق میں سے ہیں توپھرہم پر ان کا ساتھ دینااور ان کی مددونصرت کرناواجب ہیں۔اور جن کے بارے میں یہ حقیقیت عیاں ہوجائے کہ وہ اہل باطل میں سے ہیں توہم پر لازم ہیں کہ ہم ایسی شخصیات اورتنظیموں کابائیکاٹ کریں اوراگرہم ان پر حجت کا اتمام کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں توہمیں انہیں احسن طریقے سے دعوت دینی چاہئے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ ہمیں حق کوسمجھ کراس کی روشنی میں چلنا چاہئے اور میڈیا،تنظیموں اورشخصیات کے خیالات اورآراء کو ہرگزحق نہیں سمجھنا چاہئے۔یہ حق کی پہچان حا صل کرنے کے لئے سب سے پہلااوّلین فرض ہے۔جب ہم اس فرض کی پابندی کریں گے تو ہمیں خودبخوداہل حق واہل باطل میں تمییز کرنے کا ملکہ حاصل ہوجائے گا۔پھرہم کسی کے خوشنماومزین کردہ پروپیگنڈوں کا شکارہوئے بغیربآسانی اہل حق واسلام کاساتھ دینےاوراپنے اعمال کوبربادوارائیگاں ہونے سے بچانے کے قابل ہو جائیں گے۔
آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں حق کی سمجھ عطافرمااوراس کی ہدایات واحکامات پر عمل پیراں ہوکران مجاہدینِ اسلام کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرما جوخلافت اسلامیہ کے قیام کے لئے اورحق کوغالب کرنے کے لئے اپنی جانوں کو ہتھلیوں پر رکھ کراہل باطل وکفرکیخلاف ہر میدان میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈٹے ہوئے ہیں ۔انہیں دنیا کاکوئی مفادعزیز نہیں اورنہ ہی وہ کسی حکومت یا ایجنسیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے سرگرمِ عمل ہیں۔بلکہ انہیں رب کی رضااور اس کی خوشنودی چاہئے۔اسی مقصد کی خاطر انہوں نے پوری دنیا سے ٹکر لی اور کسی ملک ونظام کے کفری آئین اورباطل قانون کا احترام کرکے چندعارضی سہولیات اورفانی آسائشوں ولذتوں کوحاصل کرکے زندگی بسرکرنے کی بجائے گولے وبارود کی بارش میں قانونِ اسلام ونظامِ الہی کے ساتھ زندگی بسرکرنے کو قبول کیا۔یہی لوگ واقعی مجاہدین اوراہل حق کہلانے کے قابل ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں انہی لوگوں میں سے بنااور ان کے ساتھ ہرقسم کی جانی ومالی تعاون کرنے کی توفیق عطافرما۔اللہ تعالی اہل حق کے دشمنوں کوقتل وغارت کریں اوراہل حق سے ذاتی مفادات کی خاطردشمنیاں مول لینے والوں کو ذلیل ورسواکریں۔اللہ تعالی حق اور اسلام کا جھنڈابلندکریں اورکفروباطل کونیست ونابودفرمائیں ۔اللہ تعالی ہم سب کو حق کی دولت نصیب فرما کر اس پر عمل کرنے والوں میں سے بنائے اورباطل کی پہچان عطاکرکے اس سے اجتناب کرنے والوں میں سے بنائے۔
آمین یارب العالمین
وما علینا إلا البلاغ المبین
انصار اللہ اردو ویب سائٹ

مکمل تحریر  »

Innal quwwat al rammi


مکمل تحریر  »

’’ معصوم افراد‘‘ سے کیا مراد ہے؟
’’ معصوم افراد‘‘ سے کیا مراد ہے؟’’معصوم ‘‘سے لازماً ان تینوں معانی میں سے کوئی ایک مراد ہو گا:
۱۔ وہ لوگ جنہوں نے نہ تو اپنی ریاست کے ساتھ مل کر قتال کیا،نہ ہی بدن،مال رائے ، مشورے یا کسی اورذریعے سے قتال میں معاونت کی:
یہ لوگ اگر دیگر افراد سے علیحدہ اور قابلِ تمیز رہیں تو ان کا قتل جائز نہیں،البتہ اگر یہ دوسرے لوگوں میں گھل مل جائیں تو محاربین کو نشانہ بناتے ہوئے ان کا ضمناً مارا جانا جائز ہے؛مثلاًبوڑھے، عورتیں، بچے، مریض، معذور، اور تارک ِدنیا راہب۔ابنِ قدامہ فرماتے ہیں:
’’عورتوں اور بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ نہ بنایا جائے،لیکن اگر رات کے حملے میں یا محاربین میں گھلے ملے ہونے کی وجہ سے وہ مارے جائیں تو جائزہے ۔ اسی طرح دشمن کو قتل کرنے یا پچھاڑنے کی غرض سے ان کے جانوروں )اونٹ، گھوڑے وغیرہ( کا قتل جائز ہے۔اس رائے سے کسی کو اختلاف نہیں ۔‘‘ )المغنی و الشرح:10۔ (503
آپ کا یہ قول بھی منقول ہے کہ
’’شب خون مارنا جائز ہے۔‘‘
امام احمد بن حنبلکی رائے بھی یہی ہے کہ
’’ شب خون مارنے میں کوئی حرج نہیں اور غزوۂ روم بھی تو شب خون ہی تھا۔‘‘
آپنے یہ بھی فرمایا ہے کہ
’’ہمارے علم میں نہیں کہ کسی نے شب خون کو ناپسند کیا ہو۔‘‘)المغنی و الشرح:10۔ (503
۲۔وہ لوگ جنہوں نے اپنی محارب ریاستوں کی جانب سے جنگ میں عملاً شرکت تو نہیں کی ،لیکن اپنے مال اور مشوروں سے جنگ میں معاونت کی:
یہ لوگ ’’معصوم ‘‘اور’’بے گناہ‘‘ شہری نہیں،بلکہ محاربین ہی میں سے ہیں اور فوج کی پچھلی صفوں اور کمک فراہم کرنے والے مددگار و معاونین میں شمار کئے جائیں گے۔
ابنِ عبدالبر) الا ستذکار میں( لکھتے ہیں :
’’اس بات پر علماء میں کوئی اختلاف نہیں کہ جو عورتیں اور بوڑھے جنگ میں شریک ہوں ان کا قتل مباح ہے، نیز جو بچے لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور پھر عملاً لڑیں بھی ،تو ان کا قتل بھی جائز ہے۔‘‘ )الاستذکار: 14۔ (74
ابنِ قدامہنے ان عورتوں،بوڑھوں اور بچوں کے قتل کے جواز پر اجماع نقل کیا ہے جو جنگ میں اپنی قوم کی مدد کریں۔ابنِ عبدالبرکا قول ہے کہ
’’اس بات پر اجماع ہے کہ حنین کے دن رسول نے درید بن الصمۃ کو اس لیے قتل کروایا کہ وہ صاحبِ رائے تھا اور اپنے مشوروں اورجنگی چالوں کے ذریعے فوج کی مدد کرتا تھا۔لہٰذا جو بوڑھا بھی اس طرح جنگ میں شریک ہو،سب علماء کے نزدیک اس کا قتل جائز ہے۔‘‘)التمھید: 16۔ (142
امام نووینے شرحِ مسلمکے باب الجہاد میں صاحبِ رائے بوڑھوں کو قتل کرنے پر اجماع نقل کیا ہے۔ابنِ قاسمنے ’الحاشیۃ‘ میں نقل کیا ہے کہ
’’اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ جنگ میں بذاتِ خودبلاواسطہ شریک ہونے والے اور پچھلی صفوں میں رہتے ہوئے بالواسطہ شریک ہونے والے کا شرعی حکم ایک ہے۔‘‘
یہ اجماع امام ابنِ تیمیہنے بھی نقل کیا ہے ۔نیزامام ابنِ تیمیہ کی یہ رائے بھی منقول ہے کہ
’’دشمن فوج کے ساتھی و معاونین بھی حقوق اور ذمہ داریوں میں ان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔‘‘
۳۔وہ لوگ جو مسلمان ہوں:
ان کا قتل صرف اس وقت جائز ہے جب وہ دشمن کے ساتھ یوں گھل مل جائیں کہ انہیں مارے بغیر دشمن کو مارنا ممکن نہ ہو۔اس موضوع پر تفصیلی گفتگو مسلمان قیدیوں کو بطور ڈھال استعمال کرنے کے مسئلے میں گزر چکی ہے۔
لہٰذا وہ لوگ جو بلا سوچے سمجھے’’ معصوم‘‘ اور ’’بے گناہ افراد‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور ایسے سب لوگوں پر حملہ کرنے کو ہر حال میں ناجائز قرار دیتے ہیں،دراصل مغربی میڈیا کی عطا کردہ اصطلاحات کو بلا تنقید من وعن قبول کر کے دہرا رہے ہیں،حالانکہ یہ شرعی اصطلاحات نہیں اور بعض اوقات یہ شریعت سے متصادم بھی ہوتی ہیں۔
ایسے لوگوں کے لئے ایک جواب یہ بھی ہے کہ شریعتِ اسلامی ہمیں کفار کے ساتھ وہی معاملہ کرنے کی اجازت دیتی ہے جو انہوں نے ہمارے ساتھ کیا ہو)معاملۃ بالمثل(۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِہٖ )النحل: (126
)اور اگر تم بدلہ لو ،تو اتنا ہی لینا جتنی زیادتی تم پر کی گئی تھی(
وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا)الشوریٰ: (40
) اور برائی کا بدلہ اسی کے برابر کی برائی ہے(
انتقام با لمثل کے جواز پر علماء کی آراء:
ابنِ تیمیہ فرماتے ہیں:
’’زیادتی کے برابر انتقام لینا مجاہدین کا حق ہے۔چنانچہ وہ چاہیں تو بطور بدلہ انتقام لیں اور چاہیں تو بخش دیں۔جہاں بدلہ لینے سے جہاد کے مقاصد کو کوئی فائدہ نہ پہنچے اور نہ ہی کفار کے لیے باعثِ عبرت بن سکے، وہاں صبر کرنا ہی افضل ہے۔البتہ اگر بدلہ لینا کفار کو دعوتِ ایمان دینے یا ان کی سرکشی توڑنے کا باعث بنے تو ایسے میں انتقامی کاروائی حدود اللہ کے قیام اور جہادِ اسلامی کا تقاضا ہے۔یہ رائے ابنِ مفلح نے ’الفروع‘ میں نقل کی ہے۔‘‘6)۔ (218
’’معصوم‘‘ اور ’’بے گناہ‘‘ کی اصطلاح کو بلا قید و تخصیص استعمال کرنے کا لازمی نتیجہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ ﷺکے صحابہپر)نعوذ باللہ( معصومین کے قاتل ہونے کی تہمت لگانا ہے،کیونکہ آپ ﷺنے اہلِ طائف پر حملے کے لئے منجنیق نصب کی، حالانکہ منجینق اپنی ماہیت کے اعتبار سے ایک ایسا ہتھیار ہے جو’’ معصوم‘‘ اور ’’غیر معصوم‘‘ میں تمیز نہیں کر سکتا۔اسی طرح آپ ﷺنے’’ معصوم‘‘ اور’’ غیر معصوم‘‘ کی مغربی تقسیم کے برعکس بنوقریظہ کے تمام بالغ مردوں کو قتل کروایا۔
ابنِ حزم’المحلی‘ میں درج ذیل حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
حدیث:
عُرِضْتُ یَوْمَ قُرَیْظَة عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ فَکَانَ مَنْ اَنْبَتَ قُتِلَ
)مجھے )بھی( قریظہ والے دن رسول اللہ ﷺکے سامنے پیش کیا گیا، پس )اس دن بنو قریظہ کا( ہر بالغ مرد قتل کر دیا گیا(
تشریح:
’’ نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل ہمیں ایک عمومی اصول عطا کرتا ہے جس کی لپیٹ سے کوئی مزدور، تاجر، کسان یامعمر فرد محفوظ نہیں رہ سکتا۔اور اسی پر علماء کا اجماع بھی ہے۔‘‘)المحلی7۔(299
ابنِ قیم(رح) زادالمعاد میں لکھتے ہیں:
’’نبی ٔ کریم ﷺکا طریقہ یہی رہا ہے کہ جب آپ کسی قوم سے صلح یا معاہدہ کرتے اور وہ قوم یا اس کے کچھ لوگ معاہدہ توڑ ڈالتے اور قوم کے باقی افراد اس نقضِ عہد کی تصدیق کرتے اور اس پر راضی رہتے تو آپ ﷺان سب کو معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والا شمار کر کے سب کے خلاف جنگ کرتے، جیسا کہ آپ ﷺنے بنی قریظہ،بنی نضیر، بنی قینقاع اور اہلِ مکہ کے خلاف غزوات میں کیا۔عہد شکنی کرنے والوں کے بارے میں یہی آپ ﷺکی سنت ہے۔‘‘
آپنے یہ بھی لکھا ہے کہ
’’ابنِ تیمیہنے مشرق کے عیسائیوں کے خلاف جنگ کرنے کا فتویٰ دیا، کیونکہ انہوں نے مسلمانوں کے دشمنوں کو مسلمانوں کے خلاف جنگ میں مال اور اسلحہ فراہم کیاتھا۔ ابنِ تیمیہنے عیسائیوں کے اس فعل کو عہد شکنی گردانا، حالانکہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف باقاعدہ جنگ نہیں لڑی تھی ، کیونکہ نبی ﷺنے بھی قریش کے ساتھ ایسا ہی معاملہ فرمایا تھا جب انہوں نے مسلمانوں کے حلیف قبیلے کے خلاف بنی بکر بن وائل کی مدد کی تھی۔‘‘
|||

مکمل تحریر  »

Thursday, October 6, 2011

بنیان منصوص

مکمل تحریر  »

اللہ کی راہ میں


مکمل تحریر  »

Tuesday, September 20, 2011

بسم الله الرحمن الرحيم

تحریکِ طالبان پاکستان کفر کے ایک سرغنہ کے خلاف شہیدی کاروائی

{الَّذِينَ آمَنُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا} [النساء : 76]

"جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے، و ہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں، پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں"

الحمد للہ رب العالمین. والصلاة والسلام علی نبیہ الکریم، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین. أما بعد:
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے تحریکِ طالبان پاکستان کے شیروں میں سے ایک شیر نے اپنی جان اللہ کےہاتھ بیچ دی،اس چیز کے عوض جو اللہ کے پاس ہے.....دھماکہ خیز مواد سے بھری اپنی گاڑی، دنیا میں اللہ کی غلیظ ترین مخلوقات میں سے ایک مخلوق کے گھر سے ٹکرا دی - مرتد چودھری اسلم خان - سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) اور کراچی میں کریمینل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) میں اینٹی ٹیررازم (انسدادِدہشت گردی ) یونٹ کا سربراہ۔
یہ خبیث مرتد ، مجاہدین کے اہم ترین اہداف میں سے ایک تھا...... اللہ کے ان دوستوں کے خلاف اپنے گھناؤنے جرائم کی وجہ سے جو صرف اعلائے کلمۃ اللہ کے سوا کچھ نہیں چاہتے تھے۔
ہم اس نجس مرتد مخلوق سے کہتے ہیں:

تمہارے گھر پر تمہارے اہلِ خانہ کے درمیان تمہاری موجودگی کے دوران تم پر حملہ کرنے پرتم نے ہمیں بزدل کہا ہے ، کیا یہ خودتم نہیں ہو جو مجاہدین پر رات کی تاریکی میں ان کے گھروں پر حملہ کر کے ان کے اہل و عیال کے درمیان سے انہیں اچک لیتے ہو اور پھر انہیں اپنے عقوبت خانوں کے اندھیروں میں اپنے خدا فراموش سخت اور تند خوجلادوں کے تشدد کے تحت رکھتے ہو؟

تم نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم ہندووں سے بھی بڑھ کر کافر ہیں، تو تمہارے بارے میں کیا حکم لاگو ہوتا ہے جبکہ تم طاغوت کے پجاری ہو اور اس کی راہ میں لڑ رہے ہو؟
یقیناً اب تمہیں جان لینا چاہیئے کہ جب مجاہدین کوئی دھمکی دیتے ہیں تو ہم اس پر آخر تک عمل درآمد کرتے ہیں۔ اور جان لو کہ ہم تم جیسوں سے لڑتے تھکتے نہیں اور نہ ہی ہم تمہارے سروں کو تن سے جدا کرنے کے لئے ایسی کاروائیوں کو بار بار دہراتے ہوئے مایوس ہوتے ہیں، اگر تم اس مرتبہ بچ گئے ہوتو جان لے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، یہ تو محض معرکے کا ایک دورہ تھا، کہ یقیناًاللہ ظالم کو مہلت دیتا ہے تا کہ وہ اور گناہ اکٹھے کر لے، پس رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے (یعنی دنیا میں اس کی عمر دراز کرتا ہے تاکہ وہ اپنے ظلم کا پیمانہ لبریزکرے اور آخرت میں سخت عذاب میں گرفتار ہو) یہاں تک کہ جب اس کو پکڑے گا تو چھوڑے گا نہیں (اور وہ ظالم اس کے عذاب سے بچ کر نکل نہیں پائے گا)۔‘‘ اور جان لے اے اللہ کے دشمن کہ جو لوگ اپنی جانیں اللہ کی خاطر لٹانا چاہتے ہیں اور اللہ کے دشمنوں کی کھوپڑیوں کو کچل ڈالنا چاہتے ہیں ، اللہ کے فضل سے تعداد میں بہت ہیں، پس تم مزید کاروائی کے لئے خبردار ہو جاؤ جو ان شاء اللہ تمہیں تباہ و بربادکر کے رکھ دے گی۔
اللہ کی قسم، اے اللہ کے دشمن ہمیں اس وقت تک قرار نہیں آئے گا اور نہ ہی ہمیں ذہنی سکون حاصل ہو گا جب تک ہم اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کا بدلہ نہ لے لیں جنہیں تم نے ان کے گھروں سے نکالا اور ان کی عزتوں کو پامال کیا اور انہیں بے پردہ کیا۔

وہ سب جو طواغیت کی حمایت کرتے ہیں، ہم ان سب سے کہتے ہیں: یقیناً تم اللہ کے عذاب کا مزہ چکھو گے، چاہے مجاہدین کے ہاتھوں یا اللہ کی طرف سے۔ پس اپنے کفراور ارتداد سے توبہ کرلو قبل اس کے کہ موت تم کواچانک آ پکڑے اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔ کفار اور مرتدین کے لئے اپنی حمایت ترک کر دو اور اللہ اور اس کی شریعت کے مددگار بن جاؤ۔
ہم مسلمانانِ پاکستان کو کہتے ہیں کہ تحریکِ طالبان پاکستان کے مجاہدین پولیس، فوج، اور سیکیورٹی ایجنسیز کو ہدف بناتے رہیں گے ،اور ان کے علاوہ ان سب کو بھی جو اسلام کے خلاف جنگ میں صلیبیوں اور مرتدین کے مددگارہیں۔ بلا شبہ یہ خبیث، اللہ کے نیک بندوں سے لڑتے ہیں اور کفار اور ان کے دوستوں کی مدد کرتے جو مسلمانوں کے اموال کی لوٹ کھسوٹ کر رہے ہیں اور ان کی عزتیں پامال کر رہے ہیں۔ یہ کفر اور اہلِ کفر کی حمایت کے لئے اور اسلام اور اہلِ اسلام سے لڑنے کے لئے نصب کیے گئے ہیں، اور یہ طواغیت کے سپاہی ہیں جو عوام پر دباؤ ڈالتے ہیں، اور ان کو ذلت اور جبر کا شکار بناتے ہیں ، اورجبکہ قاتل،آبرو ریز، اور لٹیرے پاکستان کی سڑکوں پر بدمعاشی سے دندناتے پھرتے ہیں تا کہ زمین میں فساد پھیلائیں۔

یقیناً یہ تمہارے حقیقی دشمن ہیں، نہ کہ تمہارے مجاہدین بھائی، جنہوں نے اپنے گھروں کے آرام کو، اپنی دولت کو، اپنے امن کو، اور اپنی جانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے دفاع پر قربان کر رکھا ہے۔ پس اپنے دوستوں کو جانیں اور اپنے دشمنوں کو پہچانیں، اور مجاہدین کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالیں اور اللہ کے مقصد کی تکمیل میں اپنا حصہ شامل کریں۔
اور جو لوگ مسلمان عوام میں سے قتل ہوئے تو ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ انہیں شہداء میں قبول فرمائے، اور ہم مسلمانوں پر یہ واضح کرتے ہیں کہ یہ طواغیت ان بے گناہوں کے قتل میں سب سے پہلے ذمہ دار ہیں کیونکہ یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور یہ نشانہ بنائے جا رہےہیں ، پھر بھی یہ جان بوجھ کر عوام کے درمیان رہائش اختیار کرتے ہیں تا کہ معصوم مسلمانوں کو مجاہدین کے حملوں کے خلاف ڈھال کے طور پر استعمال کریں۔
لہٰذا ہم تمام مسلمانوں کو تاکید کرتے ہیں کہ دشمن کے گرد ونواح سے حتی الامکان اجتناب کریں تا کہ مجاہدین کے حملوں سے محفوظ رہیں۔

ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ(اے اللہ!) اس با شرف شہسوار کو قبول فرمائیں، کہ جس نے اپنی جان آپ کے آگے ، آپ کی خاطر اور آپ کے مقصد کی تکمیل کے لئے بیچ دی، اسے شہداء میں اٹھائیں اور اس کا خون اپنے نقشِ قدم پر پیچھے آنے والوں کے لئے روشنی اور کفار اور مرتدین کے لئے آگ بنا دیں۔

الحمد لله رب العالمین وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم.


﴿وَ لِلّه العِزَّةُ وَ لِرَسُوله وَ لِلمؤُمِنِینَ وَلکِنَّ المُنَفِقِینَ لَایَعلَمُونَ﴾

سنو! عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے رسول کے لئے اور ایمانداروں کے لئے ہے لیکن یہ منافق جانتے نہیں۔ (المنافقون: ۶٣)

مرکزی اِدارہ برائے نشرواِشاعت
تحریکِ طالبان پاکستان
۲١/١۰/١۴۳۲

-------------------
إنجليزي

بسم الله الرحمن الرحيم



Tehrik-e-Taliban Pakistan Martyrdom Operation
against a Leader of Kufr



الَّذِينَ آمَنُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَان إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا ﴾

Those who believe fight in the cause of Allah, and those disbelieve fight in the cause of Taghoot: So fight ye against the friends of Satan: feeble indeed
is the cunning of Satan.

All Praise be to Allah, and may peace and blessings be upon the final Prophet, Muhammad, and all his family and companions. To proceed:
By the Guidance and Grace of Allah, a lion from the lions of Tehrik-Taliban Paki-stan sold his soul to Allah in hopes of Paradise, slamming his explosive-laden vehicle into the house of one of the filthiest creatures in the world, the apostate Chaudhry Aslam Khan, Senior Superintendent of Police (SSP) and the head of the Anti Terrorism Unit of the Criminal Investigation Department (CID) of Kara-chi.

This filthy apostate was one the most wanted targets of the Mujahideen, due to his atrocities against the beloved slaves of Allah who sought nothing other than to raise His Word.
We say to this filthy apostate creature: You call us cowards for attacking you in your home with your family…aren’t you the one who snatches the Mujahideen from their families from their homes in the midst of night, locking them in your dungeons with your godless executioners?
You call us worse than Hindus… while it is you who are a worshipper of Satan and his army, fighting for him and his cause.

Indeed now you should know that when the Mujahideen make a threat, they fol-low it through. Know that we are a people who never tire from killing your likes, and we do not despair from repeating the likes of this operation to pluck your rotten head. If you were spared this time, know that the war has not ended, and indeed the Allah grants respite to the oppressor, as the Prophet () said, “Indeed Allah grants respite to the oppressors until the time comes for Him to take him, and when He does, He does so ever-so severely.”

Know, O enemy of Allah, that there are many who wish to sacrifice themselves and tear apart their bodies in your pursuit, so beware of more operations to come which will do away with you for good, Allah willing!
Know, you enemy of Allah, that we will never rest nor find peace of mind until we exact retribution for your crimes against our brothers and sisters who you steal from their homes and make naked.
We say to all those who support the Tawagheet: Indeed you will taste the wrath of Allah, whether at the hands of the Mujahideen or at the Hands of Allah. Repent from your infidelity before death strikes you suddenly, and stop your support the infidels and the Tawagheet and become supporters of Allah and His Shariah.

We say to the Muslims of Pakistan, that the Mujahideen of Tehrik-e-Taliban Pakistan will continue to target the police, the army the security agencies, and all others who are allied with the West in their Crusades against Islam. Indeed these filthy creatures fight the beloved slaves of Allah, while the infidel West and their slaves plunder Muslim life, land and wealth. Their only job is to guard the West and their interests and to fight Islam and Muslims. They are the soldiers of the Tawagheet who suppress, subjugate and humiliate the Muslims of Pakistan, while killers, rapists and robbers are left to run amok and wreak havoc in the streets of Pakistan.
Indeed these are your true enemies, not your brother Mujahideen, who have sacrificed the comfort of their homes, their wealth, their security and their lives in defense of Islam and Muslims. Know your friends and know your foes, and join hands with the Mujahideen and aid the Cause of Allah.
As for those who were killed of the general Muslim public in this operation, we ask Allah to raise them amongst the martyrs, while we emphasize that these Tawagheet are the first and foremost to be held responsible for their death, as they intentionally choose to live amongst the general masses, while they know that they have received threats and are being targeted, only to use innocent Muslims as human shields from the attacks of the Mujahideen.

Thus, we advise all Muslims to stay clear from all areas of enemy presence, so that they do not become collateral damage in the attacks of the Mujahideen.

We ask Allah to accept this noble lion, who sold his soul to You in Your defense and cause. Raise him from the martyrs, and make his blood a source of guidance for those after him, and fire for the infidels and apostates.

May peace and blessings be upon his Prophet Muhammad, and all praise be to Allah, the Lord of all that exists


﴿وَ لِلّه العِزَّةُ وَ لِرَسُوله وَ لِلمؤُمِنِینَ وَلکِنَّ المُنَفِقِینَ لَایَعلَمُونَ﴾

”And all honor, power and glory belong to Allah, to His Messenger, and to the believers, but the hypocrites know not.”


The Media Department - Central
Tehrik-e-Taliban Pakistan
21/10/1432


-------------------

البيان بالعربية و الأرودية و الإنجليزية

للتحميل


الروابط
winrar
1.5 MB

http://mir.cr/AGRJ34YS
http://mir.cr/0WXOGSHY
http://mir.cr/P5TBBBVB
http://www.multiupload.com/CPD81KFWZ3

-----------------------

المصدر : (مركز صدى الجهاد للإعلام)
الجبهة الإعلامية الإسلامية العالمية

رَصدٌ لأخبَار المُجَاهدِين وَ تَحرِيضٌ للمُؤمِنين

مکمل تحریر  »