Wednesday, April 25, 2012

بدترین نظام


جمہوریت ( دو تہائی اکثریت /لوگوں کی خواہشات کی بنیاد ) کے تحت بنایا گیا کوئی بھی آئین احکامات الٰہی(قرآن و سننہ) کا انکار ہوتا ہے،ہ دینِ جمہوریت اللہ کے مقابلے میں انسان کو قانون سازی کا حق دیتا ہے جو کہ سراسر کفر اور شرک ہے۔

اور جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم نہیں لگاتے وہی لوگ کافر ہیں، ظالم ہیں ، فاسق ہیں۔ (المائدۃ )

مکمل تحریر  »

Monday, February 27, 2012

Aik Yaad

مکمل تحریر  »

Sunday, February 19, 2012

دعوت وجہاد کا راستہ

دعوت وجہاد کا راستہ
دعوت و جہاد کا راستہ سازشوں سے گھرا ہوا ہے۔ یہ خطرات، قیدوبند، قتل، دھتکارے جانے اور جھٹلائے جانے کا راستہ ہے۔ جو بھی عقیدے کا گراں بار اٹھانے اور دعوت کو پھیلانے کا ارادہ کرے وہ جان لے کہ یہ سب مشکلات تو اس کی راہ میں آئیں گی۔ جو کوئی اس کو دلچسپ تفریح، نرم کلام اور میٹھے بولوں کے ذریعے حاصل کرنے کا خواہش مند ہو تو اسے چاہیئے کہ اس دین کی بعثت سے لیکر آج تک اس دین کے داعیوں اور پیامبروں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لے اور تمام انبیائے کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام کی تاریخ بھی اٹھا کر دیکھ لے۔
ڈاکٹر عبداللہ عزام شہید رحمہ اللہ تعالیٰ
(نوائے افغان جہاد ۔۔۔دسمبر2012۔۔۔۔۔صفحہ نمبر: 8)

مکمل تحریر  »

Thursday, February 16, 2012

پاکستان میں جاری جہاد کے حوالے سے کچھ شبہات کا ازالہ

بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم

پاکستان میں جاری جہاد کے حوالے سے کچھ شبہات کا ازالہ

مرتب کردہ: انصاراللہ اردو ٹیم

السلام علیکم !
سوال: میں اپنے مجاہد بھائیوں کا تہہ ِدل سے احترام کرتا ہوں جو کفار کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ لیکن مجھے ان تمام لوگوں سے نفرت ہے جو پاکستانی فوج کے خلاف لڑرہے ہیں ۔ حالات پہلے ہی اتنے خراب ہوچکے ہیں اور آپ لوگ پاک فوج کو مرتد کہتے ہیں! پاکستان میں ہونے والے بم دھماکوں میں بلیک واٹر کا بھی ہاتھ ہے لیکن کیا پتہ! کہیں آپ بھی ان کے ہاتھوں میں نہ کھیل رہے ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ عام مجاہد بھائی جنت کے لئے شہید ہو رہا ہے، لیکن آپ کو کیا پتہ کہ آپ کس چیز کے لئے لڑ رہے ہیں؟ آپ پہلے افغانستان میں اپنا قبضہ مستحکم کرلیں، پھر پاکستان کی بات کیجئےگا ۔ اسلام ہمیں تحقیق کا حکم دیتا ہے، آپ بھی پہلے دیکھیں ، غور کریں کہ کہیں آپ غلط ہاتھوں میں تو نہیں استعمال ہورہے ؟ آپ کو فنڈ فراہم کرنے والا کون ہے؟ ان کے عزائم کیا ہیں؟ میرے بھائیو! میں ایک عام آدمی ہوں، میرے خاندان میں کسی کا بھی فوج کے ساتھ تعلق نہیں، لیکن میرے بھائیو ! ذرا غور تو کیجئے ! بھارتی، افغان، ایرانی اور امریکی فوج ، پاکستانی مجاہدین کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ کیونکہ آپ ان کا کام آسان بنارہے ہیں ۔ آپ کی تمام ترتوجہ اور پہلی ترجیح امریکا کو افغانستان سے شکست ہونی چاہئے ۔ اب وہ پاکستان میں آپ لوگوں کی آڑ لے کر ڈرون حملے کر رہا ہے جن میں روز درجنوں بے گناہ مسلمان مرتے ہیں۔ خدارا! اپنے آپ کو اڑانے سے پہلے تھوڑا سوچ لیا کریں ۔ والسلام!
جواب: بے شک قابلِ احترام ہيں وہ پاک باز ہستياں جو اللہ کی راہ میں اپنا تن من دھن اسکی رضا اور اعلائے کلمۃ اللہ کے ليے قربان کرنے میں مصروف جہاد ہيں کہ اللہ کا دين غالب ہو ، تمام باطل اديان مغلوب ہو جائيں ، روئے زمین پر اللہ کی حاکميت کا قيام عمل ميں آجائے اور صرف اسی کا قانون نافذ العمل ہو ۔
سورہ حج میں اللّٰہ تبارک و تعالیٰ کا ارشادِ پاک ہے :
جن سے کافر لڑتے ہیں انہیں بھی لڑنے کی اجازت دی گئی ہے اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا اور بیشک الله ان کی مدد کرنے پر قادر ہے (۳۹) وہ لوگ جنہیں ناحق ان کے گھروں سے نکال دیا گیا ہے صرف اس کہنے پر کہ ہمارا رب الله ہے اور اگر الله لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا توگرجاؤں اور مدرسے اورعبادت خانے اور مسجدیں ڈھا دی جاتیں جن میں الله کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے اور الله ضرور اس کی مدد کر ے گا جو اللہ کی مددکرے گابیشک الله زبردست غالب ہے ۔(۴۰)
اس واضح ارشادِ ربانی کے بعد کسی مومن کو وضاحت کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے کہ فوج سے مجاہدین کیوں لڑ رہے ہیں۔
اگر آپ حالات کا جائزہ لیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ پاکستانی حکومت ، فوج اور اس کی ذیلی ایجنسیوں نے بش کے اعلان کردہ صلیبی جنگ کے فرنٹ لائن اتحاد کو پسند کیا اور مسلمانوں کے خلاف صلیبی لشکر کا حصہ بنے ۔ جب افغانستان پر حملہ ہوا تو وہاں سے امارت اسلامیہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے عجم و عرب کے مجاہدین کو حکمت عملی کے تحت پیچھے ہٹنا پڑا۔اس وقت ان مظلوم مسلمانوں کے پاس روئے زمین پر کوئی جائے پناہ نہیں تھی ۔ ایسے میں ان قبائلی مسلمانوں نے اپنے گھروں کے دروازے انکے لیے کھول دیے ۔ انکے بیوی بچوں کو اپنے گھروں میں پناہ دی ۔ اپنی تمام تر خستہ حالی اور غربت و افلاس کے باوجود انصار مدینہ کی سنت کو پھر سے تازہ کیا ۔ ان غیور قبائلی مسلمانوں نے اپنی ایمانی غیرت کے بل بوتے پر اپنے مہاجر بھائیوں کی مدد و نصرت کی ، اُن کے شانہ بشانہ ہوکر کفر کی عالمی طاقتوں سے نبردآزما ہوگئے یہاں تک کہ پاکستان کی سرکاری جہادی جماعتوں کا دوغلا کردار کھل کر سامنے آگیا ، ان جماعتوں نے جہاد کی عجیب و غریب تاویلیں پیش کیں اور راہِ جہاد سے عملاً راہِ فرار اختیار کی ۔
آزاد قبائل سے تعلق رکھنے والے اللّٰہ کے ان شیروں نے جب شہید نیک محمد رحمہ اللہ کی قیادت میں امریکہ اور اُس کی حواری فوج کے خلاف عَلمِ جہاد بلند کیا تو امریکہ نے براہِ راست قبائل کے ساتھ الجھنے اور ایک نیا محاذ کھولنے سے بہتر سمجھا کہ اپنے آزموده غلام پاکستان كی تجربہ کار فوج کو آزاد قبائل میں فوج کشی پر لگایا جائے کیونکہ وہ اس خطہ کی تاریخ سے بڑی اچھی طرح واقف تھے ۔ اُن کو معلوم تھا کہ یہ خطہ اس وقت بھی آزاد تھا جب عالم اسلام کے اکثر ممالک کفر کی براہِ راست غلامی میں جاچکے تھے اور خلافتِ عثمانیہ کا سقوط ہوچکا تھا ۔ چند سال قبل ملا کنڈ ایجنسی کے ایک گاؤں ”ملاکنڈ“ کے باشندوں نے ایک سیاسی رہنما سے شکایت کی کہ ملاکنڈ کئی نسلوں سے ہمارا گاؤں ہے۔ اس کی مٹی میں ہمارے آباؤو اجداد کی ہڈیاں ملی ہوئی ہیں،مگر اب پاکستانی فوج ہمیں اپنے گاؤں سے بے دخل کرنا چاہتی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ ہم نے ۱۸۸۷ءمیں اس علاقے کو فتح کیاتھا، اس لیے یہ ہمارا مفتوحہ علاقہ ہے۔ پاکستان کی وزارت دفاع نے ایک خط میں انھیں یہ لکھ دیا تھا کہ ہم نے اس علاقے کو ۱۸۸۷ءمیں فتح کیا تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستانی فوج آج بھی اپنے آپ کو برطانوی سامراج کی وارث سمجھتی ہے اور ان کے مفتوحہ علاقوں کو اپنا مفتوحہ علاقہ قرار دیتی ہے اورانہی کے بنائے ہوئے قوانین اور طریقہ کار کے مطابق آج تک اپنے تمام معاملات کو چلارہی ہیں۔ اپنی اس تربیت کی بنا پر پاکستانی فوج کو امریکی فوج کے حلیف کے طور پر اپنی ہی قوم کو سوات ، باجوڑ ،مہمند ،وزیرستان ،قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں بم باری اور گولہ باری کا نشانہ بنانے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا۔اس وقت لاکھوں لوگ اِس فوج کے ہاتھوں اپنے گھروں سے باہر نکالے گئے ہیں اورسخت سردی میں کھلے آسمان کے نیچے پڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم تین نسلوں سے سپاہیانہ کردار ادا کررہے ہیں ۔یہ فوج پاکستان کی محافظ نہیں بلکہ رائل انڈین آرمی کی وارث ہے۔ (روزنامہ ’’جسارت ‘‘ کراچی ، ۲۲ نومبر ۲۰۰۸؁ء)
ان تمام چیزوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے امریکہ نے پاکستان کوحکم دیا کہ قبائل میں پناہ گزین القاعدہ ، طالبان مجاہدین اور انکی قیادت کو گرفتار کرکے ہمارےحوالے کیا جائے ۔ یہ نسلی غلام فوج اپنے آقا کا حکم اور انعام کا لالچ پاتے ہی قبائل پر چڑھ ددڑی ۔ رائل انڈین آرمی کی عسکری وارث َغلام فوج نے اپنی عددی و عسکری برتری کے نشے میں قبائل کے ان شیروں کو حکم دیا کہ عرب و عجم سے اللّٰہ کی رضا کی خاطر ہجرت کرکےآنے والے اِن مہاجرین کو ہمارے حوالے کر دو ۔تاکہ ہم اپنے آقا امریکا سے اُن کی قیمت وصول کرسکیں اور اُن کی خوشنودی حاصل کر سکیں ۔
لیکن غیرت و حمیت سے معمور قبائل کے اِن شیروں کی طرف سے یہ پیغام آیا کہ اگر ہمارے باپ کا قاتل بھی ہم سےپناہ طلب کرے تو ہم اسکو کبھی بھی اسکے دشمن کے حوالے نہیں کرتے ۔ یہ تو صحابہ رضی اللہ عنہم کے خانوادوں سے تعلق رکھنے والے مجاہدین ہیں ، انکو تمہارے حوالے کیسے کر دیں!
نسل در نسل غلام رہنے والی اس نام نہاد پاک فوج نے قبائل کو اِس گستاخی کی سزا دینے کا فیصلہ کیا اور ۱۵۰،۰۰۰ کرائے کے سپاہیوں کو اپنے دیرینہ حریف ہندوستان کی سرحد سے ہٹا کر قبائل پر حملہ کر دیا ۔ ایسے میں ایمان و عزیمت کے پیکر اپنے مہاجر بھائیوں کی حفاظت کے لیے سیسہ پِلائی ہوئی دیوار کی مانند ڈٹ گئے ۔ قبائلی ابطالِ اسلام نے وہ لازوال قربانیا ں پیش کیں کہ انسانی تاریخ میں اسکی مثال ملنا مشکل ہے ۔انہیں قربانیوں کی برکت سے انہوں نے عرب دنیا کے نامور علمائے حق سے وہ عقیدہ سیکھا جس میں انکے لیے ایمان اور کفر بالکل واضح ہو گیا اور یوں یہ دفاعی جنگ نفاذ اسلام کی بابرکت جنگ کی صورت اختیار کر گئی جس میں ایک طرف یہ کفر یہ نظام ، مالِ حرام پر پلنے والی اسکی محافظ مرتد فوج اپنے امریکی آقاؤں کے مفادات کا تحفظ کررہی ہے ، جس کے مد مقابل اللّٰہ کی رضا کی خاطر اسلام کی سربلندی کی غرض سے دُنیا بھر کے سرفروش مجاہدین موجود ہیں ۔
اگر کسی کے لئے اِس بات کا سمجھنا دشوار ہے کہ آخر کسی کلمہ گو کے لئے مرتد کا لفظ کیونکر استعمال ہوسکتا ہے تو اسکے لیے مختصر وضاحت یہ ہے کہ مرتداصول دین کی ایک تسلیم شدہ اصطلاح ہے کہ جب کوئی مسلمان شخص کسی کفریہ قول و فعل کا مرتکب ہو جاتا ہے تو اسکو مرتد کہا جاتا ہے ۔ علماء نے نواقضِ اسلام (وہ کام جن کے انجام دینے سے کوئی کلمہ گو دین سے خارج ہوجاتا ہے) کی ایک فہرست مرتب کی ہے جن میں سے ایک امر مسلمانوں کے مقابلے پر کفار کی مدد کرنا ہے، خواہ یہ مدد زبانی ہی کیوں نہ ہو ، اس کے علاوہ دیگر متعدد ایسے امور اِس ناپاک مرتد فوج کا خاصہ ہیں جن سے کوئی مسلمان دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے مثلاً شریعتِ الٰہی کے عملی نفاذ میں روڑے اٹکانا ، اُس کی جگہ کسی نظام کفر کو لوگوں پر بزور قوت نافذ کرنا اور کسی مسلمان کو اسکے اسلام کی وجہ سے قتل کرنا وغیرہ شامل ہیں ۔

آپ کے سوال کا ایک حصہ مجاہدین پر دبے لفظوں میں نامعلوم قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے اور اُن کے مذموم مقاصد کی غرض سے استعمال ہونے کے الزام پر مشتمل ہے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اِس خطے میں استعماری طاقتوں کے آلۂ کار اور اُن کے اصل کارندے کون ہیں ؟ وہ طبقہ جو اُن سے اپنی جان و مال سے جہاد کررہا ہے یا وہ نسل در نسل غلام پاکستانی فوج جس کی تاریخ ہی استعمار کی غلامی سے عبارت ہے اور جو ، اب بھی تاریخ کی سب سے بڑی صلیبی جنگ کی فرنٹ لائن اتحادی ہے۔؟ ایک امریکی اخبار نے ۲۵ فروری ۲۰۱۰؁ء کی اشاعت میں لکھا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی طالبان کے خلاف متحد ہیں اور دونوں اداروں سے تعلق رکھنے والے افسران(مجاہدینِ اسلام کیخلاف ہونے والی) بعض کارروائیوں کی کامیابیوں کا جشن بھی اکٹھے ہی مشترکہ طور پر مناتے ہیں ۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے القاعدہ اور طالبان کے خلاف اس جنگ کو پاک افغان سرحدی علاقوں سے پشاور اور کوئٹہ تک لے گئی ہے اور ماضی کی نسبت سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے تعلقات زیادہ بہتر ہیں ۔اس کے علاوہ پاکستانی فوج کے سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کے مطابق امریکی فوج اور نجی سکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کو اسلام آباد کے میریٹ اور سیرینا ہوٹلوں اور پشاور کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں مشترکہ ڈرون پروگرام چلانے کے لئے نہ صرف جگہ، خفیہ معلومات، تحفظ فراہم کیا گیا بلکہ ان کے ساتھ مل کر اس پروگرام کو چلایا جا رہا ہے۔
برائے مہربانی! ذرا آنکھیں کھول کر یہ ویڈیو کلپ بھی دیکھ لیجئے کہ ناپاک فوج کا عرب مجاہدین سے کیا سلوک ہے:
کیا قبائل کے مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے ذریعے موت مسلط کرنے والے کلمہ گو مسلمان ہیں؟
ملاحظہ کیجئے:
رہی یہ بات کہ ان کے پاس فنڈ کہاں سے آتا ہے تو اسکا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جہاں سے اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ میں تمہاری مدد کروں گا ۔ مجاہدین کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ کفر کی عالمی فوج اور اُس کے مقامی آلۂ کار مرتد فوجوں سے چھینا گیا مالِ غنیمت ہے اور پھر جیسا کہ خود اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ:
ھُوَالَّذِی اَیَّدَکَ بِنَصْرِہِ وَبِاْلمُؤمِنِیْن ْ۔
اے نبی ﷺ! وہ رب وہی ہے جس نے آپ کی مدد کی
اپنی تائید سے اور مومنین کی تائید کے ذریعے سے ۔
تو ہمارا دوسرا سہارا اہلِ ایمان ہیں ۔ یہ امت ہے جو ہم سے محبت کرتی ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔ یہ ہمارے پیچھے کھڑی ہے ۔ جس کی دعاؤں ، جس کے اموال اور جس کی مددو نصرت سے یہ جہاد جاری ہے اور انشاء اللّٰہ کفر و شرک کی بالادستی خاک میں ملانے تک جاری رہے گا ۔

اب سوال یہ کہ پہلے افغانستان میں پہلے امریکہ کو شکست دو پھر پاکستان کی فکر کرنا ۔

تو میرے خیال میں مذکورہ بالا بیان کردہ حقائق کے بعد اس بات کا جواب دینے کی ضرورت باقی نہیں رہتی لیکن سوالات کی نوعیت سے سوال کنندہ کے فہم کا ادراک ہوتا ہے ، ا س لیے پھر وضاحت کروں گا کہ طالبانِ پاکستان نے ہی تو امارتِ اسلامی افغانستان کے سقوط کے بعد نئے سرے سے جہاد کا آغاز کیا تھا ۔ درحقیقت افغانستان اور پاکستان تو دونوں ایک ہی محاذ ہیں اور دونوں جگہ جاری جنگ کوئی علیحدہ جنگ نہیں ہے ، ایک ہی جنگ ہے ۔ یہ تو مغرب سے آئے ہوئے ان قوم پرستانہ اور وطن پرستانہ تصورات کا کرشمہ ہے ۔ ان قومی ریاستوں کے تصور کا کرشمہ ہے جو ہمارے ذہنوں میں مغرب سے درآمد کرکے ڈالا گیا ہے کہ ہم شعوراً یا لاشعوراً اپنے آپ کو انہی خانوں میں بند رکھ کر سوچنے پر مجبور رہتے ہیں اور اس جغرافیائی تقسیم سے جو کہ ایک فطری تقسیم نہیں بلکہ کفر کی بنائی ہوئی تقسیم ہے ، ہم میں سے ہر شخص اپنے آپ کو باہر نکال نہیں پاتا۔ بات صرف اتنی نہیں کہ صرف ہمیں ہی اس حقیقت کا ادراک ہے کہ یہ سارا علاقہ آپس میں ایک مربوط خطہ ہے اور اس کے حالات ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں ، دشمن کو ہم سے بڑھ کر اس کا احساس و ادراک ہے ۔ باوجود اس کے کہ اس نے ہمیں ان جغرافیائی حدود کا پابند کردیا ہے ، وہ خود ان کی پابندی ہرگز نہیں کرتا ۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ماضی قریب میں اوباما نے بھی اس خطے کے لئے اپنی نئی پالیسی یا جنگی حکمتِ عملی کا نام پاک افغان حکمتِ عملی (Afpak Strategy) رکھا ہے ۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہمارے دشمن بھی اس پورے خطے کو ایک محاذ کے طور پر دیکھتے ہیں ۔
دوسری بات یہ کہ جو شخص بھی ماضی قریب کے جہاد کی تاریخ سے واقف ہو ، وہ یہ جانتا ہے کہ روس کے خلاف جہاد کے دوران وہ تمام افغانی کمیونسٹ جنہوں نے روس کا ساتھ دیا تھا ، ان کے خلاف قتال اور ان کو نشانہ بنانے کے جواز کا فتویٰ صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام کے علماء نے دیا تھا ۔ اور اس کے بعد ابھی بھی جو جہاد افغانستان میں جاری ہے ، اس میں افغانستان بھر کے علمائے حق ، پاکستان کے علمائے حق اور امت کے دیگر علاقوں کے علماء بھی اس بات پر مطمئن ہیں کہ امریکا کا ساتھ دینے والی افغان ملی فوج کے خلاف قتال صرف واجب ہی نہیں بلکہ اس کی فرضیت و اہمیت فرضِ عین کے درجے میں ہے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہیے کہ کیا پاکستانی فوج بھی امریکہ کی اتحادی نہیں ؟ اگر وہ افغان ملی فوج جس کی کل تعداد پاکستانی فوج کی تعداد کے چوتھائی حصے کے برابر بھی نہیں بنتی ، اور جس کا اپنے عسکری تجربے ، سازوسامان اور اپنی مہارت کے اعتبار سے کسی طرح بھی پاکستانی فوج سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر اس جرم کی بنیاد پر اُس کے خلاف قتال واجب ہے اور امارتِ اسلامیہ کے قیام کی خاطر جہاد کرنے والے تمام مجاہدین اس کو نشانہ بناتے ہیں اور اس کے اوپر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا تو اس پاکستانی فوج کے خلاف قتال عین اسی وجہ سے کیوں نہ واجب ہو ؟ جبکہ اس کی قوت و طاقت بھی ان سے بڑھ کر ہے اور اس کا اس صلیبی جنگ میں کردار بھی ملی فوج سے کہیں زیادہ خطرناک ہے ۔ یہ سادہ سی بات ہے جس پر کوئی بھی آنکھیں کھول کر غور کرے تو نتیجہ نکالنا اور اس جہاد کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں رہتا ۔
امید کرتا ہوں کہ اتنی وضاحت کے بعد کسی مزید سوال کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔۔۔۔۔۔
آخر میں اس دعا پر اختتام کرتا ہوں ۔۔۔۔
اَلَّلھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اِتّبَاعَہ وَاَرِنَا الْبَاطِلَ باطِلًا وَّارْزُقْنَا اجْتِنَابَہُ ۔
اے اﷲ،ہمیں حق کو حق کرکے دکھا اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق عطافرما ،اور ہمیں باطل کو باطل کرکے دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔آمین ۔یارب العالمین۔

ڈاؤن لوڈ کریں:

پی ڈی ایف،یونی کوڈ

مکمل تحریر  »

Monday, December 12, 2011

کیا دورحاضر میں جہاد کرنا فتنہ ہے؟

ترجمہ: انصاراللہ اردو ٹیم

سوال نمبر: 5243
ہمارے عالی قدر اوربا بصیرت امام ابوہمام الاثری: اللہ کی قسم میں آپ سے اللہ کی خاطر محبت کرتاہوں۔ اللہ تعالی طواغیت کے دلوں میں آپکا رعب ودبدبہ قائم ودائم رکھے اور مرجئہ کی زبانوں کے لئے آپکو لاجواب کردینے والی کاٹ دار تلوار بنائے رکھے ۔
ہمارے ہاں عراق میں مرجئہ لوگوں کے سامنے جب کبھی بھی جہادو غزوہ کا مسئلہ بیان ہوتاہے تو یہ اسکو رد کریتے ہیں، اس حجت کی بناء پر کے ہم فتنے کے دور میں رہ رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم فتنوں سے کنارہ کشی اوردوری اختیار کریں۔اپنے اس نظریہ پر وہ احادیثِ فتن سے استدلال کرتے ہیں۔ اس شبہے کے ذریعے سےان لوگوں نے بہت سے نوجوانوں کو جہاد ترک کرنے پر اکسایا ہے۔
ہم آپ سے اس شبہے کا لاجواب رد کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ ہمارے محبوب شیخ!اللہ آپکوجزائے خیرعطافرمائے۔
سائل: داحر الطواغیت
جواب: منبر کی شرعی کمیٹی
میں اس ذات کی خاطر آپ سے محبت کرتاہوں کہ جس کی خاطر آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔
میرے سائل بھائی !
یقیناَ اللہ اور اسکے رسول کےحکم پر لبیک کہتے ہوئے سرکشوں، حملہ آوروں اور ان کے مددگاروں کے خلاف جہاد کرنا فتنہ نہیں بلکہ فتنہ تو اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی میں ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا:
فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ )النور: 63)
"رسولؐ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آ جائے "
اس لئے امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک مرفوع حدیث ذکر کی ہے جس میں ہے کہ:
(ألا وإنه يُجَاء برجال من أمتي فيؤخذ بهم ذات الشمال، فأقول: يا رب أصيحابي، فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك..) )الحديث(
" خبردار میری امت کے کچھ نوجوان آئیں گے تو انہیں جانب شمال سے پکڑ لیا جائےگا تو میں کہوں گا اے میرے پرودگار! یہ میرے امتی ہیں تو کہاجائےگا آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کرلیں تھیں"۔
امام بخاری نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں کتاب الفتن میں ذکر کیا ہے(یہ ان کی طرف سے اشارہ ہے جیساکہ اپنے تراجم ابواب میں ان کی عادت ہے)دین میں نئے کام ایجاد کرنا، دین کوبدل دینا اور اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کرنا فتنوں کا سب سے بڑاسبب اوروہ اس کی ایسی بنیاد ہے جو زمانہ قدیم اوردورجدید میں بھی ہے۔
میرے سائل بھائی جان لیں کہ جہاد جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے ،فتنہ نہیں جیساکہ جہاد کوچھوڑنے والے کہتے ہیں بلکہ جہاد کو ترک کرنا فتنہ ہے جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا:
وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِّي أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا )الفاضحة: 49)
" ان میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے کہ "مجھے رخصت دے دیجیے اور مجھ کو فتنے میں نہ ڈالیے۔ سن رکھو! فتنے ہی میں تو یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں ۔"
جہاد فتنہ کودور کرنے کاشرعی طریقہ ہے جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا:
وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ (193) )البقرة(
" تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے پھر اگر وہ باز آ جائیں، تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی روا نہیں ۔"
نیز فرمایا:
وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (39) )الأنفال(
" (اے ایمان لانے والو!) تم ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے پھر اگر وہ فتنہ سے رُک جائیں تو ان کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے۔ "
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"الجهاد وإنفاق الأموال؛ قد تكون مضرة، لكن لما كانت مصلحته راجحة على مفسدته؛ أمر به الشارع".اهـ )مجموع الفتاوى 1/265)
"جہاد کرنا اور مال خرچ کرنا کبھی کبار باعث نقصان ہوتاہے لیکن چونکہ اس کی مصلحت (فائدہ) اسکی خرابی پر مقدم ہے۔ تو شریعت نے اس کا حکم دیاہے۔ (مجموع الفتاوی 1/265)
اسی طرح آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
"الجهاد؛ هو دفع فتنة الكفر، فيحصل فيها من المضرة ما هو دونها".اهـ )مجموع الفتاوى 20/52)
"جہادفتنہ کفر کودور کرنےکانام ہے چنانچہ اس میں کچھ نقصان بھی ہوتاہے جوفتنہ کفر کے نقصان سے کم ہوتاہے"۔
"الشريعة تأمر بالمصالح الخالصة والراجحة، كالإيمان والجهاد، فإن الإيمان مصلحة محضة، والجهاد – وإن كان فيه قتل النفوس – فمصلحته راجحة، وفتنة الكفر أعظم فسادا من القتل، كما قال تعالى: (وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ) )البقرة: 217)".اهـ )مجموع الفتاوى 27/230)
"شریعت خالص اورراجح مصلحتوں کاحکم دیتی ہے جیساکہ ایمان وجہاد ۔چنانچہ ایمان خالص مصلحت ہے اورجہاد (اگرچہ اس میں جانوں کی ہلاکت ہے) تو اسکی مصلحت مقدم ہے اور فتنہ کفر قتل سے بڑافسادہے جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا: "اور فتنہ خونریزی سے شدید تر ہے۔"(مجموع الفتاوی27/230)
آپ رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے :
"(كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ…) ، فأمر بالجهاد، وهو مكروه للنفوس، لكن مصلحته ومنفعته راجحة على ما يحصل للنفوس من ألمه، بمنزلة من يشرب الدواء الكريه لتحصل له العافية، فإن مصلحة حصول العافية له؛ راجحة على ألم شرب الدواء".اهـ )مجموع الفتاوى 24/279)
"تمہیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لیے بری ہو۔ اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔")البقرة: 216) لہذا جہاد کاحکم انسانی جانوں کے لئے ناپسند شے ہے لیکن اس کی مصلحت اوراس کا فائدہ جانوں کوملنے والی تکالیف پرمقدم ہے۔ اس شخص کی طرح جو بدذائقہ (کڑوی) دوا پیتاہے تاکہ اسے عافیت مل جائے تو اسے عافیت ملنےکی مصلحت دواپینے کی تکلیف پر مقدم ہے۔" (مجموع الفتاوی24/ 279)
اسی طرح آپ رحمہ اللہ نے فرمایا:
"الله سبحانه إنما حرم علينا الخبائث لما فيها من المضرة والفساد، وأمرنا بالأعمال الصالحة لما فيها من المنفعة والصلاح لنا، وقد لا تحصل هذه الأعمال إلا بمشقة – كالجهاد والحج والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر وطلب العلم – فيحتمل تلك المشقة ويُثاب عليها، لما يعقبه من المنفعة".اهـ )مجموع الفتاوى 25/282)
"اللہ تعالی نے ہمارے پر خبیث (گندی) چیزوں کوحرام قرار دیا ہے کیونکہ اس میں نقصان اورخرابی ہے ،اور ہمیں صالح اعمال کاحکم دیاہے کیونکہ اس میں ہمارے لیے فائدہ اور بہتری ہے۔ بسااوقات یہ اعمال صرف مشقت سے حاصل ہوتے ہیں (جیساکہ جہاد ، حج ،امربالمعروف ونھی عن المنکراور حصول علم) ہیں ۔اس مشقت کوبرداشت کیاجائے اور اس پرثواب حاصل کیاجائے کیونکہ اس میں فائدہ ہے"۔ (مجموع الفتاوی 25/282)
شیخ علامہ سلیمان بن سحمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"إذا عرفت أن التحاكم إلى الطاغوت كفر, فقد ذكر الله في كتابه: أن الكفر أكبر من القتل, قال: (والفتنة أكبر من القتل) )البقرة: 217) وقال: (والفتنة أشد من القتل) )البقرة: 191) والفتنة: هي الكفر؛ فلو اقتتلت البادية والحاضرة حتى يذهبوا, لكان أهون من أن ينصبوا في الأرض طاغوتاً, يحكم بخلاف شريعة الإسلام, التي بعث الله بها رسوله صلى الله عليه وسلم".اهـ )الدرر السنية 10/510)
"جب آ پ یہ جان چکے کہ طاغوت کی طرف فیصلہ لے جانا کفرہے تواللہ تعالی نے اپنی کتاب میں بیان کیاہے کہ کفر قتل وغارت سے زیادہ بڑاہے جیساکہ اللہ نے فرمایا:
"فتنہ قتل سے زیادہ شدید تر ہے۔" فتنہ سے مراد کفرہے ۔پس اگر گاؤں والے اور شہروالے باہم لڑیں حتی کہ مرجائیں یہ اس سےہلکا اور معمولی ہے کہ لوگ زمین پر ایسے طاغوت کو نامزدکریں جو اس شریعتِ اسلام کے خلاف فیصلہ کرے جس کے ساتھ اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کومبعوث فرمایا ہے۔"(الدرر السنیہ10/ 510)
شیخ علامہ عبدالقادر بن عبدالعزیز (اللہ آپکو رہائی عطافرمائے) فرماتے ہیں کہ:
"ولا شك أن الضرر النازل بالمسلمين من تسلط الحكام المرتدين عليهم، وما في ذلك من الفتنة العظيمة، هذا الضرر يفوق أضعافا مضاعفة قتل بعض المسلمين المكرهين في صف العدو أو المخالطين له عن غير قصد حال القتال، إن كثيرا من بلدان المسلمين تسير في طريق الردة الشاملة من جراء هؤلاء، فأي فتنة أعظم من هذا، هذه فتنة تفوق ما يصيب المسلمين بالجهاد من قتل أو سجن أو تعذيب أو تشريد، قال تعالى: (وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنْ الْقَتْلِ)، وقال تعالى: (وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنْ الْقَتْلِ). فيجب دفع المفسدة العظمى (فتنة الكفر والردة) بتحمل المفسدة الأخف (وهو ما يترتب على الجهاد من قتل وغيره) وهذا هو المقرر في القواعد الفقهية الخاصة بدفع الضرر، كقاعدة (الضرورات تبيح المحظورات) وقاعدة (يُتحمل الضرر الخاص لدفع الضرر العام) وقاعدة (الضرر الأشد يُزال بالضرر الأخف) وقاعدة (إذا تعارض مفسدتان روعي أعظمهما ضررا) وقاعدة (يُختار أهون الشرين) وغيرها".اهـ"
"بلاشبہ مسلمانوں پر مرتدین کے تسلط کی صورت میں انہیں پیش آنے والا نقصان اور اس میں موجود فتنہ عظیم کا نقصان قتال کی صورت میں دشمن کی صف میں زبردستی لائے گئے مسلمانوں یابغیر ارادے کے ان سے مل جل کر رہنے والے مسلمانوں کے قتل سے کئی گناہ زیادہ بڑھ کرہے۔ یقینا بہت سے مسلمان ممالک ان کی وجہ سے ہمہ گیر ارتداد کے راستے پرچل رہے ہیں تو اس سے بڑھ کر اورکیا فتنہ ہوسکتاہے۔ یہ فتنہ جہاد کی وجہ سے قتل ،قید وسزا اورجلاوطنی کی صورت میں مسلمانوں پر نازل ہونے والے مصائب سے زیادہ بڑاہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: " فتنہ قتل وغارت سے بڑاہے۔"
چنانچہ چھوٹی خرابی (جو قتل وغارت کی صورت میں جہاد کرنے کے نتیجے میں برآمد ہوتی ہے)کو برداشت کرتے ہوئے بڑی خرابی کو دورکرناواجب ہوتاہے اوریہ دفع ضرر(نقصان کودورکرنے) سے متعلق خاص فقہی قواعد میں مقرر ہےجیساکہ یہ قاعدہ "ضرورتیں ناجائز امور کو جائز کردیتی ہیں۔"اسی طرح یہ قاعدہ " کہ عام نقصان کو دور کر نے کے لئے خاص نقصان کو برداشت کیا جائے"۔
اس کے علاوہ یہ قاعدہ "کہ بڑے نقصان کا چھوٹے نقصان کےذریعے ازالہ ہوتاہے۔" علاوہ ازیں یہ قاعدہ " کہ جب دو خرابیاں آپس میں ٹکرائیں (متعارض ہوں) تو اس میں سے زیادہ نقصان دہ خرابی کودور کیاجائے۔" نیز یہ قاعدہ "دو برائیوں میں سے ہلکی ومعمولی کو اختیار کیا جائے"۔ (لعمدۃ فی اعداد العدۃ ص :320)
آخر میں میرے سائل بھائی آپ اور آپکے اردگرد رہنے والے لوگ جان لیں کہ آپ نے اپنے سوال کے اندر جن لوگوں کی طرف اشارہ کیا، دراصل ان کا یہ کلام ہی فتنہ ہے پس آپ اسے ماننے سے انکاراور قتال کوترک کرنےوالے سے بچیں ۔اللہ ذوالجلال نے ہمیں اس طرح کے لوگوں سےآگاہ کیاہے چنانچہ ارشادباری تعالی ہے :
لَوْ خَرَجُوا فِيكُمْ مَا زَادُوكُمْ إِلَّا خَبَالًا وَلَأَوْضَعُوا خِلَالَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ وَفِيكُمْ سَمَّاعُونَ لَهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ (47) لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَقَلَّبُوا لَكَ الْأُمُورَ حَتَّى جَاءَ الْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَارِهُونَ (48) )الفاضحة(
" اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہارے اندر خرابی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے وہ تمہارے درمیان فتنہ پردازی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے، اور تمہارے گروہ کا حال یہ ہے کہ ابھی اُس میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اُن کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں، اللہ اِن ظالموں کو خوب جانتا ہے ۔"
لہذا جوشخص یہ فتوی دے کہ جہاد کرنا غیر مشروع ہے اس حجت سے کہ جہاد فتنہ ہے یاہم فتنوں کے دور میں ہیں یامجاہدین فتنوں میں مبتلا ہیں تو وہ مفتی نہیں مفتن (فتنے میں مبتلاہے)۔
صحیح مسلم میں صحیح روایت موجودہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ :
(من قال هلك الناس فهو أهلكهم)
"جوشخص یہ کہے کہ لوگ ہلاکت میں پڑگئے تووہ ان میں سب سے زیادہ ہلاکت میں ہے۔"
میرے سائل بھائی کیاہی خوب ہوگاکہ آپ کسی کہنے والے کی یہ مثال پیش کریں کہ:
سأغسلُ عنّي العارَ بالسيفِ جالباً *** عليَّ قضاء اللهِ ما كانَ جالباً
وأذهل عن داري وأجعلُ هدمها *** (لديني) من باقي المذمَّةِ حاجباً

مفہوم اشعار:

میں اللہ تعالی کے ہرفیصلے پرراضی ہوتےہوئے عنقریب تلوار سےاپنے عیب کو دھو ڈالوں گا اور عنقریب اپنے گھر سے بے پرواہ ہوکر دین کی خاطر اس کے منہدم ہوجانےکو دیگر برائیوں کے لئے رکاوٹ بنادوں گا۔
اللہ تعالی سے دعاہے کہ وہ آپکی مدد فرمائے اورآپکے ذریعے اسلام ومسلمانوں کی مدد فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
جواب منجانب: شیخ ابوہمام بن عبدالعزیز الاثری
عضو شرعی کمیٹی
منبرالتوحید والجہاد
ڈاؤن لوڈ کریں:

مکمل تحریر  »

جہادی قیادت کے شہید ہوجانے کے پیچھے اللہ تعالی کی حکمت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جہادی قیادت کے شہید ہوجانے کے پیچھے اللہ تعالی کی حکمت

شیخ ابوسعد العاملی حفظہ اللہ

القاعدہ کےقائدین کی شہادت ۔۔۔۔ ایک سنت اور قاعدہ ہے۔

ترجمہ :انصار اللہ اردو ٹیم

الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات وتنجلي الكربات ، القائل {وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَاءَ}، والصلاة والسلام على إمام المجاهدين القائل "لوددت أني أجاهد فأُقتل ثم أجاهد فأُقتل ثم أجاهد فُقتل لما للشهيد من درجة عند الله"، ثم أما بعد:
تمام تعریفیں اس ذات کے لیےہیں جس کی نعمت ہی سے نیک کام مکمل ہوتے ہیں اورمصیبتیں چھٹتی ہیں۔جو فرمانے والا ہے: "اللہ ایمان والوں کو متمیز کر دے اور تم میں سے گواہ بنائے۔"، اوردرود وسلام ہو مجاہدین کے پیشوا پر جو فرماتے ہیں:
"میرا جی چاہتا ہے کہ جہادکروں پھرقتل کیا جاؤں پھرجہادکروں پھر قتل کیاجاؤں پھر جہاد کروں پھرقتل کیاجاؤں کیونکہ اللہ تعالی کے ہاں شہید کابڑامرتبہ ہے۔" امابعد :
بلاشبہ اللہ عزوجل نے مخلوق کو اپنی عبادت کے لئے پیداکیا۔ اس نے عبادت کو نہایت اعلیٰ طریقوں سےاوربہت پاکیزہ طورپرسرانجام دینے کےلئے بہت سے راستے اورذریعے مقرر کئے۔اسی طرح اس نےاپنے بندوں پر جہاد جیسی عبادت فرض کی تاکہ اُن تمام رکاوٹوں کوختم کیاجاسکے جو اُس کی عبودیت کی تکمیل میں آڑے آتی ہیں۔
اللہ سبحانہ وتعالی فرماتا ہے:
{وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ }
"اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ ( کفروشرک) باقی نہ رہے اور دین سب اللہ ہی کے لیے ہوجائے ۔" )الأنفال:8 -:39)
جہادی کارروائی کے دوران اللہ تعالی نےظلم کرنے کاحکم نہیں دیا :
{وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ} )البقرۃ٢:١٩٠)
"اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی اللہ کی راہ میں ان سے لڑو اور زیادتی نہ کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔"
لیکن اس کے بالمقابل اللہ تعالی نے دین الٰہی کی مدد کےلئے قتال شروع کرنے کاحکم دیاہےجسے جہاد الطلب کہاجاتاہے اورصرف دفاعی جہاد پر جس میں اسلام اورمسلمانوں کے مقدسات کا دفاع ہوتاہے، اکتفا نہ کرنے کا کہاہے، چنانچہ وہ فرماتا ہے:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ}) التوبة٩: ١٢٣)
"اے اہلِ ایمان! اپنے نزدیک کے (رہنے والے) کافروں سے جنگ کرو اور چاہیئے کہ وہ تم میں سختی (یعنی محنت وقوت جنگ) معلوم کریں۔ اور جان رکھو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے ۔"

كتب عليكم القتال وهو كره لكم:

جی ہاں لڑنا نفس پر ناگوار گزرتاہے کیونکہ وہ توچاہتا ہےکہ اسے ہزار سالہ زندگی مل جائے۔انسان اپنی جان کویہ امیدیں دلاتاہے کہ وہ لوگوں میں خیر پھیلانے کے لیےاوران کی اصلاح کی خاطر زندہ رہناچاہتاہے۔ اس کی یہ خواہش ہوتی ہےکہ کوئی اس کے سامنے موت کا تذکرہ نہ کرے، اس لیے کہ اسے یہ ڈرہوتا ہے کہ وہ جو پُرکیف زندگی کی بہاریں گزار رہاہے کہیں وہ مکدّر نہ ہوجائے۔اللہ تعالی نے ، جونفسوں کا خالق اوران سے باخبر ہے، اس حقیقت کوخود بیان کیاہے:
{أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ}(٦٧:١٤)
"بھلا جس نے پیدا کیا وہ بےخبر ہے؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور (ہر چیز سے) آگاہ ہے۔ "
وہ فرماتاہے:
{كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ}
"(مسلمانو) تم پر (اللہ کے رستے میں) لڑنا فرض کردیا گیا ہے جبکہ وہ تمہارے لیے ناگوار ہے۔"(البقرۃ۲ :۲۱۶)
نفس سب سے زیادہ جس چیز سے ڈرتاہے، وہ موت ہے ۔موت سے کم تر ہر چیز نفس پر اس کی نسبت آسان ہے۔ نفس کسی حد تک موت کو برداشت کرسکتاہے۔لیکن جہادی معرکے میں جو موت ہے وہ عام زندگی والی موت نہیں۔جس کا انسان سامناکرتاہے بلکہ یہ جنت میں ہمیشہ رہنے کےلئے ایک دروازہ اورایسا پُل ہے جسے مؤمن اس لئے پار کرتاہے تاکہ وہ ایک ایسا خصوصی أجروثواب حاصل کرسکے کہ رب العزت نے اس پردیگرجوعبادات فرض کی ہیں ان میں ایسے أجروثواب کا ملناممکن نہ ہو۔
یہ شہید ہوتاہے یا اللہ کے راستے میں شہادت ہے ۔یہ ایک ایسی موت ہے جس کی تمنا انبیاء کرام اورپیغمبر کرتے آئے ہیں اورا ن میں سب سے بڑھ کر نبی سیدالمرسلین محمد بن عبداللہ علیہ افضل الصلاۃ واز کی تسلیم ہیں جنہوں نے خود شہادت کی تمناکی۔

قتال اس اُمت پرفرض ہے: عام سپاہیوں پربھی اورقائدین پربھی:

بلاشبہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں پرلڑنا فرض کیاہے تاکہ وہ اپنے دین کی حفاظت کرسکیں اور اس کی شریعت کوپھیلاسکیں۔یہ لڑنا صرف مال ، عزت اورجان کے دفاع کی خاطر نہیں۔ جس طرح کہ آج کل بعض لوگوں کا خیال ہے۔ اس طرح کہ انہوں نے جہاد کو ایک تنگ مفہوم میں منحصر کردیا ہے جودفاعی جہاد ہے اوریہ مفہوم کتاب وسنت کے نصوص کے مخالف ہے:
{ إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ}
"اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں (اور اس کے) عوض ان کے لیے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں۔ " (التوبۃ:9 -:111)
جہاد اللہ تعالی نے ہم پرشرعاً فرض کیاہے ۔یہ موجودہ حالات میں بھی فرض ہے کیونکہ دشمن ہمارے دروازوں پر ہیں،ہماری زمینوں میں فساد مچارہے ہیں اورہمارے لوگوں کوذلت ورسوائی سے دوچارکررہے ہیں۔۔ کسی عاقل کے لئے بھی یہ روانہیں ــ چہ جائیکہ وہ اللہ ،رسول اورروز آخرت پرایمان رکھتاہو ــ کہ وہ اپنے اردگرد پیش آنے والے واقعات کے سامنے زبان اورہاتھ روک کر تماشائی بنا بیٹھارہے۔ اس کا کم از کم یہ فرض بنتاہے کہ وہ اپنے رب کی اس پکار پر لبیک کہتےہوئے اٹھ کھڑاہوجائے :
{انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ}
"تم سبکبار ہو یا گراں بار ( مال و اسباب تھوڑا رکھتے ہو یا بہت، گھروں سے) نکل آؤ۔ اوراللہ کے رستے میں مال اور جان سے لڑو۔" ( التوبۃ:9 – 41)
وہ اپنے آپ کو اپنے رب عزوجل کی اس وعید سے بچالے:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ ۚ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ} )التوبة٩: ٣٨)
"مومنو! تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو تم (کاہلی کے سبب سے) زمین پر گرے جاتے ہو (یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے) کیا تم آخرت (کی نعمتوں) کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔ دنیا کی زندگی کے فائدے تو آخرت کے مقابل بہت ہی کم ہیں ۔"

شہادت ہی سب سے بلند مقصدہے:

جلدیابدیر تمام لوگوں کومرناہے ۔لیکن موت کےاسباب مختلف ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہےکہ جو ہرلحظۂ زندگی میں پیش آتی ہے لیکن ہم اس سے غفلت برتتے ہیں اور اس کو نہیں سمجھتے ــ إلا من رحم الله ــ اس لیے آپ دیکھتے ہیں کہ جو لوگ اس موت کی حقیقت سے واقف ہوئےہیں اور اس کی حقیقت کو سمجھ چکے ہیں ان کی خواہش ہوتی ہےکہ ان کی موت یکتا اورانوکھی ہو۔وہ چاہتے ہیں کہ ان کی یہ موت دنیا وآخرت میں رفعت وبلندی کا دروازہ بن جائے۔ مؤمن نصرت،فتح اوردین کاغلبہ تلاش کرتاہے۔اس کی یہ تمناہوتی ہےکہ وہ ایسی خلافت راشدہ کی حکومت کے سائے میں زندگی گزارے جس میں رحمٰن کی شریعت کے مطابق فیصلے ہوتے ہو ۔ جب اس مقصد میں وہ کامیاب نہ ہوسکے تو اس کا دوسرا ہدف یہ ہوتاہےکہ وہ اللہ تعالی کے راستے میں شہادت حاصل کرلے ۔گویا یہ اس کی پہلی نیت کوعملی جامہ پہنانے کی ایک دلیل ہوتی ہے۔
وہ اس کے ذریعے سےآخرت میں ایسا ثواب اوراللہ تعالی کی ایسی رضاحاصل کرناچاہتاہے جسے شہداء کے علاوہ کوئی حاصل نہیں کرسکتا۔

قائدین کمانڈربننے سےپہلےعام سپاہی ہوتے ہیں:

مؤمن ابتداء ہی سے اپنے رب کی رضا حاصل کرنے کے لئے کوشش کرتاہے۔اس کی یہ خواہش ہوتی ہےکہ ایسے اعمال آگے بھیجے جواسے اللہ کےقریب کردیں اوراس کے نواہی اور محرمات سےاسے دور کردیں۔ اسے اس بات کی کوئی پریشانی نہیں کہ یہ مقصدکسی بھی محاذ پرحاصل ہو ۔ اس کے لئے یہی کافی ہےکہ جہاں اللہ تعالی نے اسے حکم دیاہے یہ وہاں ہو اور جہاں سے روکاہے یہ وہاں نہ ہو ۔ اسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیاوی نفسانی خواہشات کو توڑنے اور ذاتیات کو روندنے پرصحابہ کرام کی تربیت کی ہے۔اس چیز کو ہم نے شریعت کے اس طریقے میں پاتے ہیں جوطریقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم أجمعین کےساتھ اپنایا تھا۔ اس کے باوجود کہ ان کی ایمانی سطح ایک جیسی نہیں تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیحد خواہش اورترغیب ہوتی تھی کہ صحابہ کرام کے اعمال اللہ کے لئے خالص ہوجائیں تاکہ اللہ تعالی کے ہاں ان کے ثواب محفوظ رہے۔ بنابریں ہم دیکھتےہیں کہ آپﷺ کسی صحابی کو غزوے یادستےیامہم میں قائد بنادیتے اوراکثر اوقات اسے کسی اورصحابی کے زیرِ قیادت عام سپاہی بنادیتے۔ اسی طرح باقی سارے صحابہ کےساتھ کرتے تھے تاکہ انکو عہدوں سے سروکارنہ رہے اوراخلاص کی تعلیم ملے۔اس کے مقابلے میں صحابہ کرام کامل اطاعت کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوامر کی بجاآوری کرتے ۔ وہ مسؤلیت سےبھاگتے تھے اوراسےاپنے سروں پر ایک مصیبت سمجھتے تھے۔ اس وقت کی جہادی جماعتوں میں ،خاص کرقاعدۃ الجہاد میں، ہم ان منفرد مثالیں دیکھ سکتےہیں ۔آپ دیکھیں گے کہ بھائی کس طرح قائدین کےاحکام پر لبیک کہتے ،ایک دوسرے سے آگے بڑھتے اورہر قسم کی ریاکاری وشہرت کےمظاہر سےدوررہتے ہیں۔ان کی انتہائی تواضع ، خودکو گرانے اور نفسانی خواہشات کوکچلنے کی وجہ سے مسئولیت کے عہدوں پر بھی آپ ان میں اورباقی بھائیوں میں کوئی فرق محسوس نہیں کرسکیں گے۔

قیادت عام سپاہیوں کی بنسبت دشمن سے زیادہ قریب ہوتی ہے:

اسلام کے عرف عام میں ایک قانون ہےکہ جوجاہلی قوانین سےمختلف ہے۔بالخصوص یہ کہ قائد اپنے سپاہیوں کے ساتھ تعامل اورطرزعمل اور اسی طرح ان تصرفات اورحرکات میں جوقائدین کے ساتھ امن وجنگ کے عرصے میں مخصوص ہیں، وہ عام سپاہی کے برابر ہیں۔ہم اس کے بالمقابل مادہ پرست جاہلی معاشروں میں دیکھتے ہیں کہ ان کے قائدین بہت سے حفاظتی پہروں اورزبردست حصار میں گھرے ہوئے ہوتےہیں۔ تاکہ وہ ہمیشہ اپنے ماتحتوں اور اپنے دشمنوں کے سامنے ایک جیسی بلند اوراونچی پوزیشن میں رہے جبکہ انکی حقیقت اور قدروقیمت اس سے بہت کم تر ہے جووہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ وہ معرکوں کی سختی اورہرقسم کے خطروں سے دوررہتے ہیں، جبکہ ایمانی معاشروں میں ،خاص کرجہادی معاشرے میں یہ قاعدہ اس سے بالکل برعکس ہے۔ مسلمان قائد ہمیشہ اگلے صفوں ہی میں لڑتے ہیں،دین کی نصرت کی راہ میں وقت اور مال خرچ کرنے اورقربانی دینے میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔
یہ ایک دائمی سنت ہے جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے قیامت تک ایمانی معاشرے میں چلی آرہی ہے۔ قائدین اللہ کی اطاعت اوراپنے ماتحت افرادکی خدمت کی طرف اس سے کہیں زیادہ دوڑتے ہیں جوکفار کے سپاہی اپنے سربراہوں کی خدمت کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے دوڑتے ہیں۔ قائدین اپنے اردگرد لوگوں کے لیے ایک نمونہ ہوتے ہیں ۔ان پر سب سے پہلافرض یہ ہوتا ہے کہ وہ سختی اورآسانی ہروقت صفوں میں سب سے آگے ہوں تاکہ لشکرکے عام لوگ قربانی دینے کےزیادہ خواہشمند ہو اوران کی زیادہ اطاعت کرنے والے ہوں۔
یہاں ایک معروف مقولہ ہےکہ جوموجودہ دور کے جہادی قائدین میں سے کسی کا ہے ، شاید یہ ابوأنس شامی تقبلہ اللہ کامقولہ ہے جو دونہروں والے بلاد(عراق) میں تھے :
"كن أَمامي تكن إِمامي"
"میرے آگے رہو (تو) تم میرے امام بن جاؤگے
قائدین پرلازم ہےکہ وہ اپنے ماتحتوں کوجوحکم دیتے ہیں، خود سب سےپہلے اسےبجالانے والے ہوں:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ} )الصف٦١ :٢)
"مومنو! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جو تم نہیں کرتے ہو ۔"
{ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ} )الصف٦١ :٣)
"اللہ کے ہاں ناراضگی کے اعتبار سے یہ بات بہت بڑی ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں ہو ۔"

دشمن پہلے قیادت کونشانہ بناتاہے:

{وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ}
"اور (اے محمدﷺ اس وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں ۔"( الأنفال:8 – 30 )
یہ ایسی قرآنی حقیقت ہے جس کی ہم موجودہ صورتحال میں عملی تطبیق دیکھتے ہیں۔ دشمن قائدین کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے بہت جدوجہد کرتے ہیں اوران تک پہنچنے، انہیں شہید کرنے،انکو پکڑنے، کمزورترحالات میں ان کا محاصرہ کرنے یا ان کو جلا وطن کرنے کے لیے بہت وسائل خرچ کرتے ہیں۔
یہ ایسی حالت ہےجوجہادی قائدین ہر جگہ پر ہمارے اوردشمنوں کےدرمیان جاری کشمکش کے اس مرحلے میں گزاررہے ہیں ۔ ہم ابھی تک قرب ظہور اورخلافت راشدہ یااسلامی مملکت کی بنیادی اینٹیں رکھنے کے مرحلے میں ہیں ۔یہ طبعی بات ہےکہ قائدین اوراسی طرح عام سپاہی بھی اس صورتحال میں رہے جو بظاہر آرام دہ نہیں لیکن جہاد کے مستقبل کے لیے بہت مثبت ہے۔ اس طرح کہ اس کی وجہ سے مجاہدین اپنے تمام تروسائل استعمال کریں گے اورمکمل ہوشیار رہیں گے برخلاف خوشحالی کے جس میں ہمتیں بہت پست پڑجاتی ہیں، مجاہدین کی طرف سے احتیاط کادرجہ بہت کمزور پڑجاتاہے اور بے احتیاطی ادنی سطح تک پہنچ جاتی ہے۔اسی طرح ان کے دشمنوں پر انہیں محدود کرنے کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔
پس سختی،ناکہ بندی اورتنگی اللہ تعالی کی طرف سے اپنے مجاہدین بندوں پرنعمتیں ہیں تاکہ انکے نفس ہوشیاررہیں،انکی ہمتیں بلند رہیں اورانکی احتیاط اعلی درجہ کی سطح پرہو۔ یہ چیزیں مدد کے اہم ترین اسباب اورشکست سے بچنے کے ذرائع ہیں۔
ہمارے قائدین دوسروں کے علاوہ کہیں زیادہ نشانے پرہیں۔وہ خود بھی اپنے کردار سے اس حقیقت کو سمجھتے ہیں اور اس کی بنیاد پرنقل وحرکت کرتے ہیں۔ وہ قوت کےحصول کے اسباب میں سے کسی بھی سبب کونہیں چھوڑتے اور نہ ایسا کوئی شگا ف باقی رہنے دیتے ہیں جس سے وہ اللہ کا تقرب حاصل کرسکتے ہیں۔یہ سب کچھ کرنے کے بعد اگرانہیں کوئی آزمائش آتی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے مقدر کردہ ہے اور اس کو قبول کرنا ،اس پر ایمان لانا بلکہ اس پرراضی رہنا ضروری ہے۔

قائدین کی شہادت سے جہاد کوتقویت ملتی ہے:

یہاں سے ہمارے سامنے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہےکہ اس دین کےاندرا للہ تعالی کی لازمی حکمت میں سے یہ ہے کہ اسکے راستے میں مال خرچ کرکے اور جان دیکر اس کی قیمت چکائی جائے ۔یہاں نفسِ جان سے بڑھ کر کوئی ایسی مہنگی چیزنہیں جسے مؤمن اپنے رب تعالی کے سامنے پیش کردے،اسکے ذریعے سے وہ اعلی درجات اوربلند مقامات حاصل کرسکے۔
{لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ}
"(مومنو!) جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمھیں عزیز ہیں (راہِ الہی میں) صرف نہ کرو گے۔" ( آل عمران:3 – 92)
یہ چیز ایک مجاہد فرد کےلئے یاپوری مجاہد جماعت کے لئے برابر ہےکیونکہ قربانی پیش کرنا ضروری ہے تاکہ ہم ایک طرف اپنے ایمان کی سچائی پردلیل پیش کرسکیں اوردوسری طرف وہ اجروثواب حاصل کرسکیں جس کے وہ منتظر ہوتے ہیں ۔
{يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ. وَأُخْرَى تُحِبُّونَهَا نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ}
’’وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو جنت کے باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں اور پاکیزہ مکانات میں جو ہمیشہ کی بہشت میں ہیں داخل کرے گا یہی بڑی کامیابی ہے۔اور ایک اور چیز جس کو تم بہت چاہتے ہو (یعنی) تمہیں اللہ کی طرف سے غلبہ نصیب ہو گا اور فتح عنقریب ہو گی اور مومنوں کو اسکی خوشخبری سنا دو۔ ‘‘ ( الصف:61 –12۔۱۳)
پس واضح مدد اورقریبی فتح جس کا مؤمن انتظارکررہے ہیں ، وہ شہادت کے بغیر کبھی پوری نہیں ہوسکتی۔خاص کر قیادت کی شہادت کے بغیر ان فتوحات کا آنا توعقل کے منطق کےخلاف ہے کیونکہ مدد اورغلبہ کی بات کیسے کی جاسکتی ہےجب جہادی قائدین لڑائی سے غائب ہوں، جو مجاہدین کی جماعت کو فتح حاصل کرنے تک اوراس کے بعد بھی قیادت کرتے ہیں!!!
لیکن جہادی دنیا میں یہ قانون مختلف ہوتاہے ۔وہاں موجود قائدین صرف ایک پُل کی طرح ہوتےہیں جس کے اوپر سےحق کے لشکر گزرتے ہیں ۔یہ جہادی قائدین ایسےایندھن ہیں جس سے بہت جلد ایسی نئی قیادتیں نکلتی ہیں جو علم کے لحاظ سے اورنقصان پہنچانے کے اعتبارسے اپنی سابقہ قیادتوں سےبڑھ کرہوتی ہیں،کیونکہ انہوں نے وہ علم اور جہادی تجربات جمع کرلیے ہیں جواس سے پہلے سابقہ قیادتوں کے پاس تھے۔ بلاشبہ یہ دونوں چیزیں جہادی معاشرے کےلئے ایک مضبوط پوائنٹ اورجہادی کارواں کے تسلسل کو جاری رکھنے کی ضامن ہے۔
اس سے ان شہداء کوفائدہ حاصل ہوجاتاہے جنہوں نےا پنا وعدہ پوراکیا ــ جس کی خاطروہ جہاد کرتے تھےــ وہ اس کو پالیں گے اوروہ شہادت ہے۔ اسی وقت یہ جہادی معاشرے کو مضبوط بنانے ، ثابت قدم رکھنےاوراس تسلسل کو جاری رکھنے کا باعث بنتاہے۔اسی طرح دشمن کی وہ توقعات ناکام پڑجاتی ہیں جن کی تکمیل کا وہ ان قائدین کی شہادت کےذریعے انتظار کرتے ہیں۔ کیونکہ جہادی معاشرے کواسکے ذریعے سے ایسی قوت اورتجربہ حاصل ہوتاہے جس سے قیادت کے فقدان کی کچھ بھی کمی محسوس نہیں ہوتی۔
یہ اللہ تعالی کے میزان میں شہادت کی حقیقت ہے اوریہ ایک عجیب ذاتی طاقت ہے جسے مجاہدین اپنے قائدین کے عالم اخروی کی طرف انتقال سے حاصل کرتےہیں، جواپنے پیچھے تجربات کا ایساخزانہ چھوڑ دیتے ہیں جو اپنے بعد والوں کے لئے مشعل راہ بنتاہے اوردشمن کی امیدوں اوردلوں پرآگ لگادیتاہے۔
ڈاؤن لوڈ کریں:

مکمل تحریر  »