Monday, December 30, 2013

آسمانی تعلیمات کے مطابق حکمرانی کرنے کا اصل مفہوم

آسمانی تعلیمات کے مطابق حکمرانی کرنے کا اصل مفہوم
اس مفہوم سے روشناس ہونا اور انسانی معاشرے کے ہر خاص و عام کو آگاہ کرنا بے حد ضروری ہے کیونکہ دین اسلام کے اصل حقائق سے ناواقفیت اور اس کے اصل مدعا سے دور ہونے کے ساتھ ساتھ اسلام دشمن، مغرب نواز اور اسلامی لبادے میں پیش ہونے والے مستشرق دانشوروں کی اسلام کش سازشوں کی وجہ سے اسلام کے بہت سے شعبوں، پہلوؤں اور زاویوں کو سمجھنے میں بے اعتدالی، تذبذب اور شکوک پیدا ہو چکے ہیں۔ ان بے اعتدالیوں اور شکوک کے نتیجے میں بہت سے مسلمان یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ’’آسمانی تعلیمات کے مطابق حکمرانی کرنے کا اصل مفہوم‘‘ صرف مندرجہ ذیل باتوں پر منحصر ہے:
1۔            پانچ ارکانِ اسلام کو ماننا اور ان پر عمل کرنا ہے۔
2۔ شادی بیاہ اور خاندانی تعلقات کا جوڑ توڑ۔
3۔ حکومتی سطح پر مجرموں، سفاکوں اور ملزموں کو سزائیں دینا ہے۔
4۔ نام نہاد شریعت بل اور خود ساختہ اسلامی دستور کو تسلیم کرنا ہے۔
     چنانچہ میں نے قرآن اور فرمانِ رسول ﷺ کی روشنی میں اس عنوان کو صاف صاف بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس عنوان کو ٹٹولنے سے ہمارے سامنے دو طرح کی آیات اور آسمانی تعلیمات سامنے آتی ہیں۔
1۔            ایک تو وہ آیات جو ہر فرد انسانی کو دین اسلام کے مطابق اپنی زندگی گزارنے اور اپنے مسائل کو اس کی تعلیمات کی روشنی میں حل کروانے پر زور دیتی ہیں۔ اس پہلو کی آیات ایسی جامع آیات ہیں جنہوں نے اسلام کے تمام شعبوں کو گھیر لیا ہے خواہ وہ پہلو اسلامی عقائد ہوں یا اسلام کے عملی پہلو کے مثبت اور منفی احکام اور حدود ہوں۔
     سورۂ مائدہ آیت نمبر 44میں دین اسلام کی حکمرانی کی جامعیت اور اکملیت کو خوب اُجاگر کیا گیا ہے، اﷲ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:
اِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِیْھَا ھُدًی وَّ نُوْرٌ یَحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ھَادُوْا وَالرَّبّٰنِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبِ اﷲِ وَ کَانُوْا عَلَیْہِ شُھَدَآءَ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلاً ط وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ فَاُولَـٰٓـئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ
بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے، اسی کے مطابق انبیاء جو (اللہ کے) فرمانبردار تھے یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہیں۔ اور مشائخ اور علماء بھی کیونکہ وہ کتاب اللہ کے نگہبان مقرر کئے گئے تھے اور اس پر گواہ تھے (یعنی حُکمِ الٰہی کا یقین رکھتے تھے) تو تم لوگوں سے مت ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لینا۔ اور جو کوئی اﷲ کے نازل کردہ احکام (وقوانین) کے مطابق فیصلہ (و حکم) نہ کرے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں۔
اس آیت میں تورات کا ذکر کر کے تمام آسمانی کتابوں کو قانونِ اسلامی کا علمبردار ٹھہرایا گیا ہے اور ضمناً قرآنِ کریم کو اسلامی دستور کا مجموعہ قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا اس دنیا میں جہاں بھی مسلمان رہتے ہوں وہاں اسلامی طرزِ زندگی کو اپنا کر اسلامی حکمرانی کے تقاضوں کو فروغ دیں اور اپنی زندگی کے کسی بھی گوشے کو اسلامی دستور اور اس کی تعلیمات سے منحرف نہ کریں تب دین اسلام کی جامعیت سامنے آئے گی جس کا رب العزت نے اس آیت کریمہ میں حکم دیا ہے۔
وَکَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَ عِنْدَھُمُ التَّوْرٰةُ فِیْہَا حُکْمُ اﷲِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْ بَعْدِ ذَالِکَ وَمَآ اُولٰئِکَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ (المائدہ:43)
اور یہ تم سے (اپنے مقدمات) کیونکہ فیصل کرائیں گے جبکہ خود ان کے پاس تورات، موجود ہے جس میں اﷲ کا حکم لکھا ہوا ہے (یہ اسے جانتے ہیں) پھر اس کے بعد اس سے پھر جاتے ہیں اور یہ لوگ مومن نہیں ہیں۔
اور اسی عنوان کو سورۂ الممتحنہ آیت نمبر10 میں دہرایا گیا ہے:
ذَالِکُمْ حُکْمُ اﷲِ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ وَاﷲُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ
یہی مذکورہ اُمور اﷲ تعالیٰ کی تعلیمات ہیں جن کو اے انسانو! ہم تم پر نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
اور اسی عنوان کو سورۂ انعام آیت نمبر 62 میں بیان کیا گیا ہے:
ثُمَّ رُدُّوْآ  اِلَی اﷲِ مَوْلٰھُمُ الْحَقِّ اَلَا لَہُ الْحُکْمُ وَھُوَ اَسْرَعُ الْحَاسِبِیْنَ
خوب سن لو فیصلہ اﷲ ہی کا ہو گا اور وہ بہت جلد حساب لے گا۔
اس حکمرانی میں انسانی ساخت کی طرز تعلیمات اور حکمرانی ناقابل تسلیم ہونا بتاتے ہوئے اﷲ تعالیٰ نے سورۂ کہف آیت نمبر 26 میں فرمایا ہے:
لَا یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖٓ اَحَدًا
اﷲ تعالیٰ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔
اﷲ تعالیٰ کے پیارے پیغمبر محمد رسول اﷲ ﷺ کی زبانی بھی واشگاف انداز میں اس عنوان کو سورۂ انعام آیت نمبر 114 میں واضح کیا گیا ہے:
اَفَغَیْرَ اﷲِ اَبْتَغَیْ حَکَمًا وَّ ھُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتَابَ مُفَصَّلاً 
اے انسانو!اور میری امت کے لوگو! کیا میں اﷲ کی حکمرانی کو چھوڑ کر تمہارے لئے کسی اور خود ساختہ حاکم کو تلاش کر لاؤں؟
درج بالا تمام آیات میں اسلامی شریعت کی بالادست اور حکمرانی اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں اسی سے رجوع کرنے کے پہلو کو عموم اور جامعیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ یہی مفہوم آسمانی تعلیمات کے مطابق حکمرانی کرنے کا عام اور جامع مفہوم ہے۔
2۔ اور دوسری وہ آیات جن میں خاص طور پر عدل و انصاف کے فروغ کے لئے معاشرے میں پیش آمدہ فوجداری، دیوانی، اخلاق سوز اور انصاف شکن مقدمات میں اسلامی طرزِ حکومت کے ذریعے حل ڈھونڈنے کے لئے زور دیا گیا ہے۔
چنانچہ اﷲ تعالیٰ سورۂ نساء آیت نمبر 58 میں فرمایا ہے:
وَاِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ
اے امت محمد (ﷺ) کے لوگو! جب تمہیں اپنے سماجی اور معاشرتی اُمور میں آپس میں لین دین کرنے کی نوبت آئے تو ہمیشہ عدل و انصاف اور برابری کا سلوک اپنایا کرو۔
عمومی عدل و انصاف کی تعلیمات اُجاگر کرنے کے بعد اﷲ تعالیٰ سورۂ مائدہ آیت نمبر 44 میں اپنے آخری پیغمبر ﷺ کو خصوصی تعلیم دیتا ہے کہ:
جب آپ کسی بھی نزاع میں اصلاح کرنا چاہیں تو ہمیشہ انصاف کا دامن تھامے رکھیں۔
چنانچہ اس آیت میں اﷲ نے اپنے نبی ﷺ کو ایک قاضی، منصف اور عدل کے علمبردار کی حیثیت سے خطاب کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ دین اسلام ایک جامد اور خاموش دین نہیں ہے بلکہ دین اسلام ایک سرگرم، بیدار، متحرک، حساس اور ہمدردی سے سرشار دین ہے جو افراد سے لے کر قوموں اور ملکوں کے انفرادی اور اجتماعی امن و صلح اور سالمیت کے قیام کے لئے کوشاں ہے۔
کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے آغازِ کائنات سے لے کر آج تک جب بھی کسی بھی معاشرے میں فسادِ عقیدہ یا معاشرتی بے اعتدالی دیکھی تو فوراً اس کی روک تھام کے لئے اپنے پیغمبر اور نمائندے بھیجے ہیں اور ہر ناانصافی کے پہلو اور اخلاق سوز کردار کا بائیکاٹ کیا ہے۔ قرآن مجید ایسی تعلیمات سے بھرا پڑا ہے۔
دین اسلام ایک مکمل ضابطہء حیات اور لائحہ عمل ہے ، اس میں ہر لحاظ سے حکمرانی کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ لہٰذا (الحکم بما انزل اﷲ) کے تحت انسانی زندگی کے تمام گوشے شامل ہیں نہ کہ چند جزئیات ہیں جس طرح بعض اسلامی حقائق سے نابلد نام نہاد دانشور اور مغرب نواز مفکرین کا خیال ہے۔
چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے دین اسلام کی جامعیت اور اکملیت کو بیان فرما کر (الحکم بما انزل اﷲ) کی مکمل تشریح کر دی ہے۔ اس عنوان کے تحت اﷲ تعالیٰ نے انسانی زندگی کا کوئی گوشہ باقی نہیں چھوڑا جس کی نشاندہی اپنے امر و نواہی کے حوالے سے نہ کی ہو۔
کیونکہ قرآن و سنت نے جہاں (الحکم بما انزل اﷲ) کے حوالے سے :
1۔  عقائد کی اصلاح پر گفتگو کی ہے
2۔  تو عبادات پر بھی بات کی ہے۔
3۔  باہمی لین دین میں عدل و انصاف اور ہمدردی کی تلقین کی ہے۔
4۔  تو تجارتی اور اقتصادی شعبوں میں رواداری اور ناانصافی کی شکلیں بھی بیان کی ہیں
5۔  عائلی، بلدیاتی، شہری، ملکی اور بین الاقوامی تعلقات اور روابط کو استوار کرنے پر جہاں زور دیا ہے
6۔  وہاں حکومتوں کی تشکیل کا نقطہ بھی سمجھایا ہے۔
7۔ جہاں مسلم معاشروں میں باہمی تعلقات کے اصول بتائے ہیں
8۔ وہاں کافر ریاستوں اور طاغوتی حکومتوں سے امن کے معاہدوں کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
9۔  امن و سلامتی کے قیام کے لئے جہاں عدلیہ قائم کرنے کی تاکید کرنے کے ساتھ ساتھ نظام عدل و انصاف کے وسائل بھی بتائے ہیں۔
10۔  اور جرائم کی روک تھام کے لئے قوانین تعزیر اور شرعی حدود بھی قائم کی ہیں۔
11۔  اسی طرح صحتمند معاشرے کے قیام کے لئے طبی مشوروں سے بھی نوازا گیا ہے۔
12۔  بہتر اور صالح انسانی معاشرے کی تشکیل کے لئے تعلیمی و بہبود کے اوپر بھی خاص توجہ دی ہے اور علم سیکھنے اور سکھانے پر بھی۔
13۔  معاشرے سے غربت و ناداری کا خاتمہ کرنے کے لئے بہتر ضوابط بتائے ہیں۔
14۔  ماتحتوں اور کمزوروں کے ساتھ ہمدردی کے اصول بھی بتائے گئے ہیں۔
15۔  ازدواجی اور خاندانی روابط کے اصولوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
16۔  نسل انسانی کی افزائش، ان کی کفالت اور زمہ داریوں کا نظام بھی پیش کیا ہے۔
17۔  فلکیات، معدنیات اور انجینئرنگ کے ٹیکنیکل فنوں کی تعلیم بھی پیش کی ہے
درج بالا شعبوں کا خاکہ پیش کرنے پر بخوبی آگہی مل سکتی ہے کہ دین اسلام چند جزئیات کا نام نہیں بلکہ دین اسلام ایک عالمگیر، جامع اور ہمہ جہت انسانی معاشرے کی رہبری کرنے والا آسمانی دین ہے جس کے تمام شعبوں پر یکساں طور پر عمل کرنا ہی (الحکم بما انزل اﷲ) کا اصل مفہوم ہے۔
چنانچہ جو شخص خود تو نماز پڑھتا ہے مگر اپنے ماتحتوں، ملازموں اور زیر اثر افراد کو نماز کے مواقع فراہم نہیں کرتا اور خود تو اسلامی حدود احکام اور اوامر کی بجاآوری کرتا ہے مگر دوسروں کے لئے اﷲ کی نافرمانی، فحاشی اخلاق سوز کردار کے دروازے کھلے رکھتا ہے خود تو اسلامی مشن کی بقا اور ترویج کے لئے تگ و دو کرتا ہے مگر اپنے معاشرے میں رہنے والوں کو بدعات خرافات اور لادینی نظریات کے پھیلاؤ سے نہیں روکتا، خود تو اسلام کو ہمہ گیر دین اور شریعت مانتا ہے مگر اس کے معاشرے میں معاملات اور نزاعات کو نمٹانے کے لئے غیر اسلامی قوانین اور لادین نظریات کو اپنایا جا رہا ہے تو اس کا مفہوم یہ نکلا کہ ایسے شخص نے سرے سے (الحکم بما انزل اﷲ) کے تقاضوں کی کھلی نفی اور صاف تردید کی ہے۔

مکمل تحریر  »

Thursday, December 12, 2013

ووٹ کو مشورہ پر قیاس کرنا



ووٹ کو مشورہ پر قیاس کرنا 
اسی طرح جمہوریت کے شیدائیوں کا یہ مؤقف ہے کہ مشورہ اور ووٹ ایک ہی چیز ہے اور ووٹ مشورہ لینا کا ایک جدید طریقہ ہے۔اس بات کی وضاحت تو اوپر خلیفہ کے انتخاب کے عنوان کے ضمن میں واضح ہوچکی ہے مگر اس سلسلہ میں چند مزید چند اہم امور سامنے رہیں۔سب سے پہلے اصولی بات یہ ہے کہ مشاورت وہاں کی جاتی ہے جہاں نص موجود نہ ہو اور جب نص موجود ہوتو شوریٰ کی کوئی حیثیت نہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَ مَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لاَ مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَی اﷲُ وَ رَسُوْلُہٗ ٓاَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِھِمْ وَ مَنْ یَّعْصِ اﷲَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاً مُّبِیْنًا﴾
’’کسی مومن مرد یا مومنہ عورت کے لئے جائز نہیں جب اللہ اور اس کا رسول ایک بات کا فیصلہ کردیں کہ انہیں اپنے معاملے میں اختیار مل جائے‘‘۔
 (الاحزاب:۳۶)
دوسرا یہ کہ مشورہ اور ووٹ دو الگ الگ نظاموں پر مبنی ہیں اور انہی کی ترجمانی کرتے ہیں ۔ مشورہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے ،رسول اللہ ﷺکی سنت اور حضراتِ صحابہ ﷡کا فعل ہے۔اس کے برعکس ووٹ کا ذکر نہ تو قرآن میں ہے اور نہ ہی احادیث میں کہیں ملتا ہے اورامت کی ۱۴ سو سالہ تاریخ یعنی 1924ء میں خلافت عثمانیہ کے خاتمہ تک ووٹ کا کوئی ذکر نہیں ملتا ۔
مشورہ کی وضاحت کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے فرمایا:
﴿وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ﴾ 
’’’اورآپ معاملے میں ان سے مشورہ لیں پھر جب آپ فیصلہ کرلیں تو اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔بے شک اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتاہے‘‘۔
(آل عمران:۱۵۹)
یہاں فرمایا ’’جب آپ فیصلہ کرلیں ‘‘، یہ نہیں فرمایا کہ ان سے مشورہ لیں اور ان کی رائے کے مطابق فیصلہ کرلیں۔یہ بھی نہیں فرمایا کہ ان سے مشورہ لیں اور اکثریت کے مطابق فیصلہ کرلیں۔اسلام کا مزاج یہ ہے کہ مشورہ لینے والا ہی فیصلہ کرے ،مشورہ دینے والے نہیں۔
چنانچہ ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ’’مشورہ ‘‘الگ چیز ہے اور قصد یا فیصلہ کرنا الگ چیز ہے۔اگر مشورہ دینا فیصلہ قرار پاتا تو بات یوں کی جاتی کہ اکثریت کے فیصلہ کے مطابق ہی فیصلہ کیا کریں چنانچہ پھر مشورہ کو ووٹ قرار دیا جاسکتا تھا۔
 اسی طرح سورۃ الشوریٰ کی آیت۳۸میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ﴿وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ﴾ ’’وہ اپنے معاملات باہمی مشورہ سے طے کرتے ہیں ‘‘۔یہ نہیں فرمایا کہ ’’وہ اپنے معاملات اکثریت کے مشورہ کے مطابق کرتے ہیں‘‘۔اگر اللہ تعالیٰ اس طرح فرمادیتے تو قیامت تک کے لئے اکثریت کے مشورے اور رائے فیصلہ بن جاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے مشور ہ کو فیصلہ نہیں بنایا۔
اس کے برعکس جمہوریت میں حاکمیت ہی افراد کی ہوتی ہے اس لئے ہر انسان کاووٹ اس کا فیصلہ ہوتا ہے۔اگر ووٹ عوام کا فیصلہ نہیں اور صرف مشورہ ہے تو پھر ان کی حا کمیت بنتی ہی نہیں ۔حاکم حکم دیتے ہیں چنانچہ مشورہ دینے والے حاکم نہیں ہوسکتے۔چونکہ جمہوریت میں اکثریت حاکم ہے اس لئے اگر ہم ووٹ کو مشورہ اور رائے بنادیں گے تو ہمیں لوگوں کی حاکمیت کے جمہوری تصور اور نظریہ سے انکار کرنا پڑے گااور پھر جمہوریت کی تعریف ہی غلط ہوجاتی ہے۔اس لئے ووٹ نہ تو رائے ہے نہ مشورہ۔اسی طرح مشورہ عاقل اور عابد سے لیا جاتا ہے جبکہ ووٹ ہر جاہل و عالم دیتا ہے ۔مشورے میں بعض اوقات ایک آدمی کی رائے سو آدمیوں کی رائے پر بھاری ہوجاتی ہے۔جبکہ جمہوریت میں بقول علامہ اقبال   کہ:
جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے جس میں
بندوں کو  گنا  کرتے  ہیں  تولا  نہیں  کرتے
اس حوالے سے آخر میں ایک حدیث بات کو بالکل واضح کردیتی ہے۔مجمع الزوائد حضرت ابن عباس﷛سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں :
((قلت یارسول اللّٰہ ﷺ!أرأیت ان عرض لناامر لم ینزل فیہ القرآن ولم تمض فیہ سنة منک قال تجعلونہ شوریٰ بین العابدین من المؤ منین ولا تفضونہ برأی خاصة))
’’میں نے کہا کہ یارسول اللہ ﷺ!اگر پیش آئے ہمیں کوئی ایسا امر جس کو ہم قرآن میں نازل نہ پائیں اور نہ آپ کی سنت میں ؟آپﷺنے فرمایا:’’اہل ایمان میں سے نیک لوگوں کی شوریٰ بناؤاور کسی اکے دکے کی رائے پر فیصلہ نہ کرو‘‘۔
 (الطبرانی فی الکبیر بحوالہ مجمع الزوائدج:۱ص:۱۷۸)
حضرت علی ﷛سے روایت کردہ حدیث میں ہے کہ:
((قال شاوروافیہ الفقھاء والعابدین ولا تضوا فیہ رأی خاصة))
’’آپﷺنے فرمایا:مشاورت کرواس میں فقہاء اور نیک لوگوں سے اور نہ چلو کسی اکے دکے کی رائے پر‘‘۔
(الطبرانی فی الاوسط واسنادہ ،مجمع الزوائد ج:۱ص:۱۷۸)

مکمل تحریر  »

Wednesday, December 11, 2013

صرف مجاہدین اسلام ہی امید کی روشن کرن ہیں :



صرف مجاہدین اسلام ہی امید کی روشن کرن ہیں :
اللہ رب العزت کابھی یہ اٹل فیصلہ ہے کہ جن ناگفتہ بہ اوربدترین حالات سے آج بے چارے مسلمان دوچار ہیں اس ذلت ورسوائی کو عزت وفلاح میں وہی لوگ تبدیل کریں گے جو اللہ رب العالمین کے لیے ’’الولاء والبراء‘‘پر پختہ یقین رکھتے ہیں ۔یعنی ان کی دوستیاں بھی اللہ کے لیے ہیں اور اُن کی دشمنیاں بھی اللہ کے لیے ہیں ،قادر وقدیر اللہ رب العالمین سے مدد طلب کرتے ہوئے وہ میدانوں میں کھڑے ہوتے ہیں،اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں ،کافروں اور ان کا تعاون کرنے والے مجرم اور ایجنٹوں سے جنگ کرتے ہیں ۔میدانوں میں ایک دوسرے کو تھامے رکھتے ہیں ۔قربانیاں پیش کرتے ہوئے دنیا کا کوئی مفاد ان کے پیش نظر نہیں ہوتا ۔بلکہ صرف اللہ ہی سے اجر وثواب کی امیدیں وابستہ کرتے ہیں ۔اُس وقت تک میدانوں میں ڈٹے رہتے ہیں جب تک اللہ تعالیٰ اپنے خصوصی فضل وکرم اور اذن واجازت کے پسندیدہ اور محبوب دین ’’دین اسلام ‘‘کو دنیا کے تمام باطل ومنسوخ دینوں پر غالب کردیں۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
﴿وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًايَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾)النور: (55
’’تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اورجنہوں نے نیک اعمال کیے ہیں ۔اللہ تعالیٰ وعدہ فرماچکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا ۔جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا ،جو ان سے پہلے تھے اور یقینا ان کے لیے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جمادے گا ،جسے وہ ان لوگوں کے لیے پسند کرچکا ہے اور ان کے خوف وہراس کو وہ امن امان میں بدل دے گا ۔وہ لوگ میری عبادت کریں گے ۔میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے ۔اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں تو وہ لوگ فاسق ہیں ۔‘‘

مکمل تحریر  »

مجاہدین اسلام کے خلاف علماء کے فتاوٰی جات:


مجاہدین اسلام کے خلاف علماء کے فتاوٰی جات:

منافق اوربے دین مسلمانوں نے اپنی اپنی کرسیوں اور عہدوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کافروں کے ساتھ ذلتوں اور رسوائیوں پر مبنی معاہدے کیے ہوئے ہیں اور اِن کرسیوں اور عہدوں پر وہ بزور شمشیر وسناں قابض ہوئے ہیں۔

پھر نہلے پر دہلا یہ کہ ان کو مسلمانوں ہی کی صفوں سے ایسے ایسے علماء سوء،درباری اور سرکاری مفتیان اور اصحاب جبہ ودستار مولوی ہاتھ لگ گئے جنہوں نے ضمیر فروشی اور دین فروشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے ایسے فتوے دے ڈالے جن فتوؤں سے ان مجرم حکمرانوں کے جرائم کوبھی نیک اعمال بناکر پیش کیاگیا۔کافروں کے ساتھ ذلتوں کے معاہدے (Pacts) کو جائز قرار دیا گیا ۔مسلمانوں کی مال ودولت اور جائیداد واملاک کافرو ں کے ہاتھوں بیچ دینے کو بھی درست کہا گیا ۔یہاںتک کہ ایسے ایسے قوانین بھی بنائے اور پاس کئے گئے کہ جن کی بدولت کافر وملحد قوتیں مسلمانوں کی گردنوں پر سوار ہوتی چلی گئیں ۔

بلکہ معاملہ اس سے بھی کہیں آگے چلا گیا ۔ان دین فروش مفتیوں نے یہ فتوے بھی جاری کردیے کہ اگر کوئی ان جیسے مجرم وملحد اور بے دین وسیکولر حکمرانوں کے خلاف خروج کرتے ہوئے کلمہ حق سربلند کرتا توان لوگوں کو قتل کرنا اور ان پر گولی چلانا بھی جائز ومباح ہے۔یہ بھی فتوے جاری کئے گئے کہ جو بھی مجاہد فی سبیل اللہ ہے اس کو )دہشت گرد کانام دے کر(قتل کرنا واجب ہے ۔یہ بھی فتوے جاری ہوئے کہ اگر کوئی شخص اللہ ، اس کے رسول ﷺاورمومنوں کے کسی دشمن کو قتل کردے تو اس )مجاہد وغازی (کو قتل کرنا واجب ہے۔

خاص طورپر اگرکسی مجاہد کے ہاتھوں جہنم واصل ہونے والے کا تعلق کسی یہودی یا عیسائی لیڈر سے ہوتو پھر ساری حکومتی مشینری حرکت میں آجاتی ہے اور دین اسلام سے محبت کرنے والے سلفی العقیدہ اور مذہبی لوگوں کا جینا حرام کردیا جاتا ہے ۔ایسی صورت میں تو ان دین فروش مفتیان ،ضمیر فروش شیوخ ،محکمہ اوقاف کی وزارتوں پر براجمان ارکان حکومت ،ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں رکھنے والے درباری وسرکاری مذہبی پیشواؤں کے پاس تو ہر وقت فتوے تیار ہوتے ہیں کہ دین کاجذبہ رکھنے والوں ،دینی سوچ رکھنے والوں ،جہاد کی تڑپ رکھنے والوں اور جہاد کی تیاری کرنے والوں کی گردنیں اڑانا اشدضروری ہے ۔

اگرچہ اس مجاہد نے فقط اسلام کی لاج رکھتے ہوئے اللہ اور رسول ﷺکی عزت وناموس پر غیرت کھاتے ہوئے اور اسلام کی بے حرمتی پر کبیدہ خاطر ہوتے ہوئے اللہ رب العزت کے کسی دشمن کے خلاف برسر پیکار کسی یہودی کافر یا مرتد کو قتل کیا ہو۔

مکمل تحریر  »