Wednesday, October 15, 2014

تزکیہ واحسان

تزکیہ واحسان (آخری قسط )
خصائص مومن
حضرت مولانا شاہ ابرارالحق رحمۃ اللہ علیہ 

گناہوں کو چھوڑنے کا طریقہ:
اگرکسی گناہ کی عادت ہے ایک دم نہیں چھوڑ سکتے اور اس کی ہمت نہیں ہے تو رفتہ رفتہ چھوڑ دو،دس گناہ کی عادت ہے تو اس میں چند چھوڑو،ارے چار چھوڑدو،دوچھوڑ دو،یہ بھی نہ ہوتو کم از کم ایک دن ایک چھوڑ دو،پھر اسی طرح آٹھویں دن ایک ایک گناہ چھوڑتے چلے جاؤ۔
افیم چھوڑنے کا آزمودہ طریقہ :
کسی کو افیم کی عادت ہوکچھ لوگ فوراًچھوڑ دیتے ہیں،کچھ کو اس کا طریقہ بتلاتے ہیں کہ ایک دم نہیں چھوڑ سکتے تو اس کے لیے بھی طریقہ ہے اس پر عمل کیا جائے۔ ہمارے عزیزوں میں بعضے تھے ان کی اس طریقہ سے اصلاح ہوگئی جس کی صورت یہ کی گئی کہ پہلے ان سے پوچھ لیا گیا کہ کتنی افیم کھاتے ہو؟انہوں نے اس کی مقدار بتلا دی کہ روزانہ اتنی کھاتے ہیں۔تو اس لحاظ سے چالیس دن کی منگوا دی اور بوتل میں بھردی اور اس میں پانی ڈال دیا،پھر ان کو ایک ایک چمچی پینے کے لیے دیتے تھے،جتنا پانی پلاتے تھے اتنا پانی ملاتے تھے،چالیس دن بعد وہ افیم تو ختم ہوگئی بس پانی ملا ملا کر پلاتے رہے تو اس تدبیر سے ہلکے ہلکے عادت چھوٹ گئی۔اسی طرح جس گناہ کی عادت پڑی ہوئی ہے ہلکے ہلکے تھوڑا تھوڑااس کو چھوڑے ،پہلے اس کی تدبیر معلوم کرے پھر کے موافق عمل کرے تو بہت جلد گناہ چھوٹ جائیں گے۔
تہجد کے لیے اٹھنے کا نسخہ:
ایسے ہی طاعات میں بھی لگنے کا معاملہ ہے کہ ہلکے ہلکے بقدرِتحمل عادت ڈالے،اور دعا بھی کرتا رہے ،یہ بڑی خاص چیز ہے،اس سے پھر بڑی آسانی اور سہولت ہوجائے گی اور بزرگوں سے اس کی تدبیر معلوم کرے۔ان حضرات کے پاس ایسے نسخے ہوتے ہیں کہ ایک دو خوراک ہی میں بہت جلد نفع ہونے لگ جاتا ہے۔مثال کے طور پر بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ تہجد میں آنکھ کھل جائے تاکہ اس وقت نماز پڑھ لیں لیکن اٹھنے کی ہمت نہیں ہوتی تو اب کیا کریں؟
حضرت تھانوی نوراللہ مرقدہ‘ نے بھی بعضوں کو فرمایا کہ اچھا بھائی!آنکھ تو کھل ہی جاتی ہے کبھی نہ کبھی ،تو جب آنکھ کھل جائے تو اسی وقت چارپائی پر بیٹھ جاؤ،چاہے ایک ہی منٹ کے لیے بیٹھو،اور بیٹھ کرسبحان اللہ سبحان اللہ پڑھ لو،پھر لیٹ جاؤ۔۔۔اس پر عمل کرنا کیا مشکل ہے؟کتنی آسانی دے دی اور اگر یہ بھی نہیں کرسکتے ہوتو پھر کم از کم کروٹ ہی بدل لو ،جس جگہ لیٹے ہو اس سے ہٹ جاؤ تاکہ تہجد پڑھنے والوں کی جو شان بیان کی گئی ہے :
تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَ مِمَّارَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ(السجدۃ:۱۶)
’’ان کے پہلو خواب گاہوں سے علیحدہ ہوتے ہیں اس طور پر کہ وہ لوگ اپنے رب کو امید سے اور خوف سے پکارتے ہیں اور ہماری دی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرتے ہیں‘‘۔
ان کی تھوڑی بہت مشابہت ہوجائے۔ارے بھائی!وہ آدھ گھنٹہ اور ایک گھنٹہ کے لیے اٹھتے ہیں تو تم ایک منٹ کے لیے اٹھو تو اس اٹھنے میں ان کی مشابہت اختیار کرو تو اس کی برکت سے ان شاء اللہ تعالیٰ آج ایک منٹ کی توفیق ہوئی ہے تو کل ڈیڑھ منٹ کی توفیق ہوگی اور یہ سلسلہ بڑھتا چلا جائے گا،قطرہ قطرہ دریا ہوجاتا ہے ۔۔۔تو میرے عرض کرنے کا منشا یہ ہے کہ اپنی اصلاح کی فکر رکھے،اپنی درستی کی کوشش کرتا رہے اور دوسروں کو بھی اچھائی کی دعوت دے اور برائی سے روکے۔
مومنین کی صفات و خصوصیات:
جو آیت میں نے پڑھی تھی اس میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی خصوصیات اور ان کی صفات کو بیان فرمایا ہے،وہ صفات کیا ہیں؟ ایک صفت تو یہ ہے:
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ
مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔
ہمدرد اور خیر خواہ ہیں،دوسری صفت کیا ہے!
یَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ
اچھی باتوں کی تعلیم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں۔
تیسری خصوصیت یہ ہے کہ
وَیُقِیمُونَ الصَّلاَۃَ
اورنماز کی پابندی رکھتے ہیں
وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ
اورزکوٰۃ دیتے ہیں۔

بڑی محنت سے مال کماتے ہیں ،مشقت سے پھر سال بھر تک حفاظت کرتے ہیں،پھر اس کی زکوٰۃ قاعدہ سے نکالتے ہیں۔
وَیُطِیعُونَ اللّہَ وَرَسُولَہُ
اوراللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کہنا مانتے ہیں۔
کہنا ماننے کا مطلب کیا ہے؟اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم معلوم ہو جائے تو خوش دلی سے عمل کرتے ہیں،خوشی خوشی عمل کرتے ہیں،جیسے بچوں کو چھٹی ہوتی ہے تو گھر خوشی خوشی جاتے ہیں ایسے ہی انہیں کوئی حکم معلوم ہوجائے تو خوشی خوشی عمل کرتے ہیں،پھر فرمایا کہ جن لوگوں کی یہ شان او رصفات ہیں ان کے ساتھ معاملہ کیا ہوگا اور انعام کیا ملے گا؟فرمایا گیا:
أُوْلَءِکَ سَیَرْحَمُہُمُ اللّہُ
یہ وہی لوگ ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ جلد رحمت خاصہ فرمائیں گے۔
کیوں؟
إِنَّ اللّہَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ
بلاشبہ اللہ تعالیٰ قادرمطلق ہے اور حکمت والا ہے۔
جب چاہیں رحمت سے نواز سکتے ہیں،لیکن حکیم بھی ہیں جب مناسب سمجھتے ہیں دیتے ہیں
؂گڑگڑا کر جو مانگتا ہے جام
اس کو دیتا ہے ساقی گلفام
خلاصۂ کلام:
توخلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں مومن کی کچھ صفات اور خصوصیات بیان کی گئی ہیں کہ جن کے ذریعہ سے مسلمانوں کو پہچانا جاسکتا ہے جس طرح پولیس والے کو اس کی وردی سے پہچان لیتے ہو،پوسٹ مین کو اس کی وردی سے پہچان لیتے ہو،ایسے ہی مسلمان کو بھی اا ہونا چاہیے کہ اس کو دیکھ کر پہچان لیا جائے کہ یہ مسلمان ہے۔اس کے تعارف کی ضرورت نہ پڑے اس کی صورت یہی ہے کہ اپنے اندر ان صفات کو پیدا کیا جائے اور ان خصوصیات کو اختیار کیا جائے تو اس کی برکت سے ان شاء اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی عزت و راحت ملے گی اور آخرت میں بھی رحمتِ خاصہ سے نوازا جائے گا۔۔۔اب دعا کرلی جائے کہ اللہ تعالیٰ ان سب باتوں کو قبول فرمائے اور ہم سب کو ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور سب کو حسن خاتمہ کی دولت سے مشرف فرمائے،آمین۔
آخر دعوانا ان الحمدللّٰہ رب العالمین

مکمل تحریر  »

Tuesday, October 14, 2014

اسلام اخلاق سے پھیلا ہے نہ کہ تلوار سے ؟

بے شک اسلام اخلاق سے پھیلا ہے لیکن یہ دعویٰ غلط ہے کہ تلوار اخلاق کی ضد ہے۔ یہ شبہ اس وقت پیدا ہوا جب حضرات علمائے کرام سے پوچھا گیا کہ اسلام کی اشاعت کس طرح ہوئی۔ انہوں نے ایک جامع لفظ ’’اخلاق‘‘ کو استعمال فرمایا اور جواب دیا کہ اسلام اخلاق سے پھیلا ہے۔
لیکن علماء کرام کے اس قول سے یہ ثابت کرنا کہ اسلام کی اشاعت میں تلوار کا کوئی دخل نہیں ہے بلکہ تلوار تو اخلاق کی ضد ہے۔ دین کو بگاڑنے اور مسلمانوں کو نہتا کرکے اپنے دشمن کے لیے ترنوالہ بنانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔
اس مسئلے پر مفصل بحث کرنے سے قبل ایک بات کا ذکر ضروری محسوس ہوتا ہے کہ آخر اس سوال کی کیا ضرورت پیش آئی کہ اسلام اخلاق سے پھیلا ہے یا تلوار سے؟ اور ایک خاص دور میں خاص لوگوں کی طرف سے یہ سوال کیوں اس شد و مد کے ساتھ اٹھایا گیا؟
اصل بات یہ تھی کہ مسلمانوں کی بہادری، جوانمردی، تلوار بازی اور شوق شہادت کے سامنے پوری دنیا کا کفر بے بس ہو چکا تھا اور حالت یہ تھی کہ کافر کے لیے اسلام، موت یا غلامی کے علاوہ چوتھا اورکوئی راستہ باقی نہیں تھا۔ اطراف عالم میں مسلمان فاتحین پہنچ چکے تھے اور لاکھوں انسان جوق درجوق اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ علاقوں کے علاقے ان کے سامنے سرنگوں ہو رہے تھے۔ ایسے وقت میں مسلمانوں کے دشمن منافقین اور یہودیوں نے یہی سوچا کہ مسلمانوں کو میدان میں شکست دینا اور طاقت کے زور پر ان کی یلغارکو روکنا بالکل ناممکن ہے۔ اب کسی طرح سے اس بہادر قوم کو بزدل بنایا جائے۔ تیر و تلوار کے ان شیدائیوں کو اسلحے سے متنفر کیا جائے، عیش و عشرت کی زندگی کو شہادت کی موت کے بھلانے کا ذریعہ بنایا جائے۔ چنانچہ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کیا کہ اسلام تو طاقت کے بل بوتے پر دنیا میں مسلط ہوا ہے۔ اس نے تلوار کی نوک گلے پر رکھ کر لوگوں کو کلمہ پڑھایا ہے۔ اس نے جبر و استبداد اور استحصال کے ذریعے ملکوں پر حکمرانی حاصل کی ہے۔ کافروں کے اس خطرناک اورزہریلے پروپیگنڈے کے جواب میں وقت کے علماء نے ان قرآنی احکامات کی وضاحت فرمائی کہ اسلام کسی کو زبردستی مسلمان ہونے کا حکم نہیں دیتا، اسلام کا نظام، نظام جبر نہیں بلکہ نظام اخلاق ہے۔ علماء کرام کی یہ تصریح بالکل درست تھی کہ دین اسلام کے قبول کرنے کے سلسلے میں ہمارے مذہب میں کوئی جبرواکراہ نہیں ہے بلکہ جس کا دل چاہے مسلمان ہو جائے اور جس کا دل چاہے وہ جزیہ دے کر مسلمانوں کی غلامی میں رہے اور مسلمان اس کی جان و مال کا دفاع کریں گے اور اسلام کا نظام، نظام اخلاق ہے کہ اس میں ہر معاملے میں اخلاق کو مدنظر رکھا جاتا ہے (اخلاق کی تشریح آگے آرہی ہے) مگر سازشیوں نے علمائے کرام کی اس تصریح کا غلط مفہوم دنیا کو سمجھایا اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ علماء نے فیصلہ سنا دیا ہے کہ اسلام اخلاق سے پھیلا ہے۔ اس میں تلوار کی نہ کوئی گنجائش ہے اور نہ کوئی دخل۔
چنانچہ اس بات کو اتنے زور و شور سے بیان کیا گیا کہ مسلمان واقعی تلوار اور اخلاق کو دو متضاد چیزیں تصور کرنے لگے۔ انہوں نے سمجھا کہ ہمارے مذہب میں اسلحہ تو ایک جرم ہے۔ ہمارامذہب اخلاق کا درس دیتا ہے اوراخلاق کا تقاضہ یہ ہے کہ کچھ بھی ہو جائے، وطن چھن جائے، غلامی کرنی پڑے، جان دینی پڑے، عزت کو برباد کرنا پڑے مگر اسلحے کو ہاتھ نہیں لگانا۔ چنانچہ کافروں کے اس پروپیگنڈے کی بناء پر آج کا مسلمان اسلحے کے زیور سے محروم ہو چکا ہے۔ آج کی سوسائٹی میں علماء، مشائخ اور دیندار طبقے کے لیے اسلحہ رکھنا اور اسے سیکھنا کسی فحش گناہ کی طرح معیوب بن گیا ہے۔ تیر اندازی کی وہ محفلیں جو دور نبوت میں سجا کرتی تھی ویران ہو چکی ہیں۔ تلوار بازی کی بناء پر بارگاہ نبوت سے جو اعزازی کلمات ملتے تھے آج کا مسلمان ان سے محروم ہو چکا ہے۔ چنانچہ مسلمان تو اسلحے سے دور ہو کر فاختہ کی طرح امن پسند، کمزور اور نہتا ہو چکا جب کہ اسے اسلحے کے خلاف اکسانے والی قوموں نے اسے تباہ کرنے اور حرف غلط کی طرح مٹانے کے لیے ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم تیار کر لیے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے جس خطے کو یا جس فرد کو چاہتے ہیں منٹوں میں مٹا دیتے ہیں۔ انہیں کسی قسم کی مزاحمت یا دفاع کا سامنا تک نہیں کرنا پڑتا۔ یہ نتیجہ ہے اس اخلاق پر عمل پیرا ہونے کا، جس اخلاق کو ہم نے تلوار کی ضد سمجھا اور جس اخلاق کو ہم نے بزدلی سستی، کاہلی اور اپاہجی سمجھا، حالانکہ ایسے اخلاق کی تعلیم نہ قرآن نے دی ہے نہ حدیث نے فقہا نے یہ سمجھایا ہے اور نہ مشائخ اسلاف نے۔
اس مختصر تمہید کے بعد اب ہم اصل مسئلے کی طرف لوٹتے ہیں۔
(1 ) اخلاق کی تشریح
(2) اسلام قبول کرنے اور اس کے نافذ ہونے کا فرق۔ 
پہلا اہم مسئلہ اخلاق کی تشریح کا ہے تو خوب سمجھنا چاہیے کہ اخلاق مسکرانے، ہنسنے، ظلم سہنے کا نام نہیں بلکہ ہر وقت اور ہر حال کے مطابق ایسا کام کرنا جو اس حال اور وقت کے مناسب ہو اور اس کے بگاڑ کا ذریعہ نہ ہو یہ اخلاق ہے۔ پیار کے وقت نرمی اور سختی کی جگہ پر سختی اخلاق کہلاتی ہے۔ کوئی آدمی کسی خطرناک سانپ کو دودھ پلا کر پال رہا ہو، تا کہ یہ سانپ انسانوں کو نقصان پہنچائے تو اس کا سانپ کو دودھ پلانا بظاہر اخلاق ہے، مگر حقیقت میں ظلم ہے۔ اب کوئی مفکر بھی اس آدمی کو اخلاق کا تاج پہنانے کی لیے تیار نہ ہو گا۔
اخلاق کے اس معنی کو ایک عام فہم مثال کے ذریعہ سے سمجھا جا سکتا ہے، ایک آدمی نے کسی کتے کو پیاسا مرتے دیکھا اور اس نے اسے پانی پلا دیا اس کا یہ فعل یقیناً اخلاق ہے۔ لیکن اس نے جیسے ہی اس کتے کو پانی پلایا کتا کسی مسلمان عورت کو کاٹنے کے لیے لپکا۔ اب اس نے لاٹھی کے ذریعے سے کتے کا علاج کیا تو اس کا یہ مارنا بھی اخلاق ہی ہے۔ ایک باپ اپنے بیٹے کو کسی برائی یا مضر چیز سے روکنے کے لیے مارتا ہے، اس کا مارنا یقینا اخلاق کے زمرے میں شامل ہو گا لیکن ایک باپ اپنے بیٹے کو فحش کاری میں مبتلا دیکھ کر بھی کچھ نہیں کہتا اور اس پر اپنے احسانات کو جاری رکھتا ہے تو یہ باپ اخلاق کا خوگر نہیں ظلم کا پجاری ہے۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق کی گواہی قرآن مجید نے ان الفاظ میں دی ہے۔
وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍo (القلم:4)
اس گواہی کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجسم اخلاق تھے لیکن ہم سیرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعے میں جہاں آپ کی رحم دلی، غربا پروری، بیکسوں کی یاوری جیسی عظیم صفات کو دیکھتے ہیں وہاں ہمیں یہ بھی نظر آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ستائیس مرتبہ تلوار اٹھا کر کفر کے مقابلے میں نکلے اور آپ نے پچھتّر مرتبہ اپنے صحابہ کرام کو مختلف جنگی مہموں پر روانہ فرمایا۔ آپ نے اپنے دست مبارک سے ابی بن خلف جیسے خبیث النفس کافر کو قتل فرمایا اور کعب بن اشرف، حی بن اخطب، رافع بن خدیج، عصما، زید بن سفیان جیسے کافروں کے قتل کا حکم دیا اور ان کے قتل کرنے والوں کو بڑی بڑی بشارتوں سے نوازا۔ بنی قریظہ کے سات سو سے زائد یہودیوں کے ذبح کا حکم جاری فرمایا۔ بدر میں ستر کفار کے مرنے کی جگہیں جنگ سے قبل بتلا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو تلوار رکھنے کے فضائل بیان فرمائے، اس کے سیکھنے اور تیر اندازی ترک نہ کرنے کے احکامات جاری فرمائے، ظالم کافروں کے قتل کرنے کی فضیلت بیان فرمای۔ کیا خدا نخواستہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان افعال و اقوال کو نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ بد اخلاقی کہنے کی جرات کر سکتے ہیں؟ 
کیونکہ اگر اخلاق اور تلوار آپس میں متضاد چیزیں ہیں تو پھر یقینا تلوار اٹھانا بد اخلاقی ہی کہلائے گا۔
مگر تاریخ گواہ ہے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار اٹھائی اور اٹھوائی اور کفر کے کینسر کو سرزمین حجاز سے کاٹ پھینکا تو پورا معاشرہ صحت مند ہو گیا اور اسلام اور ایمان کی ہوائیں قیصرو کسری کے کفر کو ہچکولے دینے لگیں۔ ایک اور قابل غور نکتہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا کہ ’’آپ کا اخلاق قرآن مجید تھا‘‘۔ اس روایت میں صدیقہ کائنات نے قرآن مجید کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرار دیا ہے۔ اب قرآن مجید کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید تو مسلمانوں کو نماز، روزہ حج اور زکوۃ کے ساتھ جہاد اور قتال کا حکم بھی دے رہا ہے اور قتال کی فرضیت کا اعلان فرما رہا ہے۔
کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ۔ (البقرہ: 215)
ترجمہ: ’’تم پر قتال فرض کیا گیا۔‘‘
بلکہ قرآن مجید کی محکم آیات سے جس طرح جہاد کا حکم، اس کی فرضیت، اس کی فضیلت، اس کی جزئیات کی تشریح، اس کے مقاصد اور اس کی حدود معلوم ہوتی ہیں کسی اور حکم کے متعلق ایسی تشریح قرآن مجید میں موجود نہیں ہے، چالیس سے زائد مقامات پر تو قتال کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ شہداء کی ایسی فضیلتیں قرآن نے بتائی ہیں کہ اگر ان کا تذکرہ کیا جائے تو شوق شہادت سے دل پھٹنے لگ جائے۔
تو سوال یہ ہے کہ کیا قرآن مجید نعوذ باللہ بد اخلاقی کی دعوت دے رہا ہے یا صرف قتال جیسی مجبوری کے وقت کی چیز (جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے) پر اس قدر زور لگا رہا ہے اور قتال چھوڑنے پر طرح طرح کی وعیدیں سنا رہا ہے۔
بہرحال یہ بات ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسے اخلاق کسی کے نہیں اور قرآن مجید مکمل طور پر درس اخلاق ہے اور ہمیں ان دونوں میں تلوار، جہاد اور قتال جیسی چیزیں وافر مقدار میں نظر آ رہی ہے۔ چنانچہ ہم دعوے کی ساتھ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ اسلام اخلاق سے پھیلا ہے اور اخلاق اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس میں تلوار نہ ہو۔ 
اس کی عقلی حیثیت بھی مخفی نہیں ہے۔ ایک ڈاکٹر مریض کے جسم کے کینسر کاٹنے کا حکم دیتا ہے مگر اسے کوئی بھی نہیں کہتا کہ ڈاکٹر صاحب آپ تو پڑھے لکھے آدمی ہے آپ کس طرح کاٹنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ آپ کو تو اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بلکہ کینسر کو تیز دھار نشتر کے ذریعے کاٹنے پر ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے اور انہیں فیس بھی دی جاتی ہے۔
لیکن اگر معاشرے سے کفر کے کینسر کو کاٹنے کی بات کی جائے تو یہ بد اخلاقی نظر آتی ہے۔ حالانکہ اللہ کے دشمن اور انسانیت کے دشمن کافروں کا وجود اس معاشرے کے لیے کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ آج اس چیز کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ کفر کے کینسر کے غلیظ اثرات کس طرح سے اہل ایمان کے گھروں اور دلوں تک پہنچ چکے ہیں۔ فحاشی اور عریانی جیسی غلاظتیں اب عیب نہیں رہیں۔
سوچنے کی بات
پھر سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک چھوٹی سی مرغی اس وقت تک حلال نہیں ہوتی جب تک چھری کے ذریعہ اس کے ناپاک خون کو اس کے جسم سے نہ نکال دیا جائے اور چھری چلاتے ہوئے اللہ کی عظمت کی تکبیر نہ پڑھی جائے۔ تو اتنا بڑا معاشرہ جس میں بے انتہا گند سرایت کر چکاہے۔اس وقت تک کیسے پاک ہو سکتا ہے جب تک چھری کے ذریعے سے اس گند کو باہر نہ نکال دیا جائے اور جب یہ گند نکل جائے گا اس وقت لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوں گے۔
آج کے بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ کافر ہمارے اخلاق دیکھ کر خود مسلمان ہو جائیں گے۔ اس دور میں یہ دعوی انتہائی مضحکہ خیز ہے کیونکہ اخلاق اس قوم کے دیکھے جاتے ہیں جس کی اپنی کوئی حیثیت ہو، جس کا اپنا کوئی نظام چل رہا ہو۔ آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کوئی آزاد قوم کسی غلام قوم کے اخلاق سے متاثر ہو کر اس کی غلام بن گئی ہو۔ جس زمانے میں مسلمان فاتحین کی شکل میں ملکوں میں داخل ہوتے تھے تو لوگ ان کو دیکھتے تھے اور مسلمان ہوتے تھے مگر اس وقت تو ہم ایک قوم کی حیثیت سے کوئی وقعت ہی نہیں رکھتے۔ ہمارا اسلامی نظام کہیں بھی نافذ نہیں، صرف کتابوں میں موجود ہے اور ہمیں اس کے نافذ کرنے میں دلچسپی بھی نہیں ہے بلکہ ہم تو حکومت و خلافت کے نام سے چڑتے ہیں اور کرسی کو فساق و فجار کی ملکیت سمجھتے ہیں۔ ہم نے چند عبادات کو اسلام سمجھ رکھا ہے اور ایک عالمگیر نظام کو رہبانیت بنا دیا ہے۔ ایسے وقت جبکہ ہمارا قومی، ملی اور دینی وجود ہی پارہ پارہ ہے۔ ہم کس منہ سے کہتے ہیں کہ لوگ ہمارے اخلاق دیکھ کر خود اسلام میں آجائیں گے اور اگر چند افراد کہیں پر اسلام میںداخل ہو بھی گئے یا ہو رہے ہیں تو اس سے اسلام کو وہ غلبہ اور عظمت تو نہیں مل سکتی جس کا ہمارے رب نے ہمیں مکلف بنایا ہے۔
ہاں اس کا الٹ ہو رہا ہے اور ہمارے مسلمان اپنے حاکم کفار کے طور طریقوں سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں مرتد ہو چکے ہیں۔ معلوم نہیں ہم کب تک اپنے ان اخلاق کے ذریعے سے مسلمانوں کو کفر کی جہنم میں دھکیلتے رہیں گے۔ اگر ہم اسلاف کے نقش قدم پر چل کر اسلام کی عظمت کی محنت کرتے تو ہمیں آج یہ پستی نہ دیکھنی پڑتی۔
مگر آج ہمیں اپنی عزت و عظمت کا دھیان تو ہے لیکن دین کی ذلت و پستی کا کوئی غم نہیں۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو خود کافروں کی طرف بھیجا اور ان کو اسلام، جزیہ یا قتال کی دعوت دی اور پھر خلفائے راشدین کے دور میں بھی یہ طریقہ چلتا رہا کہ اسلامی دعوت کے پیچھے تلوار ضرور ہوا کرتی تھی کہ اس دعوت کو رد کرنے والے حکومت نہ کرتے رہیں بلکہ یا تو انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے کہ انہوں نے اپنے پالنے اور پیدا کرنے والے رب کی دعوت کو جھٹلایا ہے یا انہیں ذلیل و رسوا ہو کر جزیہ دینا پڑے گا۔
اس کے علاوہ کوئی اور صورت نہیں رکھی گئی کہ اسلامی دعوت کو رد بھی کر دیں اور عزت کے ساتھ حکومتیں بھی کرتے رہیں اور مسلمانوں پر مظالم بھی ڈھاتے رہیں۔ 
بہرحال یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ تلوار اخلاق کا ایک اہم ترین جزو ہے اور جو اخلاق تلوار سے عاری ہو گا وہ پستی اور ذلت کا باعث ہو گا۔
ایک اہم نکتہ
اس وقت تو اسلام کے پھیلنے کا نہیں بلکہ دفاع کا مسئلہ درپیش ہے۔ اخلاق کی غلط تشریح کرنے والے اگر اب بھی مسلمانوں کو تلوار اٹھا کر اپنے جان، مال، عزت و عصمت اور وطن کی حفاظت کرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اس وقت بھی تلوار اٹھانے کو اخلاق کے خلاف سمجھتے ہیں۔ تو پھر ہمیں یہ کہنے میں ذرہ برابر عار نہیں ہے کہ یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کے بدترین دشمن ہے۔ یہ قرآن و سنت میں تحریف کرنے والے ملحدین ہیں، یہ مستشرقین کا وہ ٹولہ ہے جو مسلمانوں کو مٹانے کے لیے ان کی صفوں میں گھسا ہوا ہے۔ ان ظالموں کا بس چلتا تو یہ قرآن مجید سے جہاد اور قتال کی آیات کو کھرچ دیتے مگر اس سے عاجز ہونے کی وجہ سے یہ فضول تاویلوں کا سہارا لے رہے ہیں حالانکہ مسلمان باپ کے سامنے بیٹی کو ننگا کیا جا رہا، بھائی کو باندھ کر اس کے سامنے اس کی بہن کی چادر عصمت تار تار کی جا رہی ہے مگر میر جعفر و میر صادق کے ان زندہ کرداروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ الحمد للہ مسلمانوں کے مقتداء علماء اور مشائخ جہاد کا فتوی دے چکے ہیں اور ان کے فتووں نے ان ملحدوں کے مکر کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اب مسلمان اپنے تحفظ کے لیے اسلحہ اٹھا چکے ہیں۔ کاش وہ کچھ پہلے اس زیور کو تھام لیتے تو آج یہ ویرانی اور بربادی اسلام کو نصیب نہ ہوتی۔
دوسرا اہم مسئلہ اسلام کے قبول کرنے اور نافذ کرنے کے درمیان فرق کا ہے
جہاں تک اسلام کے قبول کرنے کا مسئلہ ہے تو اس پر اہل اسلام کا اجماع ہے کہ کسی سے بھی جبرو کراہ کا معاملہ نہیں کیا جائے گا۔ یعنی کس کے گلے پر تلوار کی نوک رکھ کر کلمہ پڑھنے کی تلقین نہیں کی جائے گی اور یہی مفہوم ہے قرآن مجید کی اس آیت کا 
لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ۔ (البقرہ:256)
مگر جہاں تک اسلام کے نافذ کرنے اور اس کی ترویج و اشاعت کا مسئلہ ہے تو اس سلسلے میں جو بھی رکاوٹ ڈالے گا تو سختی کے ساتھ اس رکاوٹ کو دور کیا جائے گا۔
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے صرف زکوۃ دینے سے انکار کرنے والوں کے ساتھ قتال فرما کر اس مسئلے کو قیامت تک کے لیے واضح فرما دیا ہے کہ نظام اسلام میں کسی قسم کی رخنہ اندازی اور کتر و بیونیت کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے ان دونوں مسئلوں کو خلط ملط کرنے کی بجائے مکمل تفصیل کے ساتھ سمجھنا چاہیے کیونکہ اسلام کے مزاج میں کسی تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر ہم اس کے پھیلنے میں تلوار کو نظر انداز کر دیں گے تو نعوذ باللہ صحابہ کرام کی قربانیاں فضول قرار دی جائیں گی کہ اسلام کی ترویج و اشاعت میں تو تلوار کی اجازت نہیں تھی جب کہ ان حضرات نے تلوار کو استعمال کیا اور اکثر علاقے تلوار کی نوک پر فتح کئے اور تلوار ہی کے ذریعے سے گندے مواد کو صاف فرمایا۔ جب مطلع صاف ہو جاتا ہے اور مسلمان ایک با عزت حیثیت کے ساتھ کسی ملک میں داخل ہوتے تو اب لوگوں کو ان کے اخلاق دیکھنے کا موقع ملتا اور وہ گروہ در گروہ دین میں داخل ہوتے۔
اور حالات نے واضح کر دیا ہے کہ وہ داعی زیادہ کامیاب رہے جن کی دعوت کے پیچھے تلوار ہوا کرتی تھی۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے۔
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ۔ (آل عمران آیت 110)

’’تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے تم نیکیوں کا حکم کرتے ہو اور برائیوں سے روکنے ہو‘‘۔
امت محمدیہ کے خیر امت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی دعوت کوکوئی ٹھکرا نہیں سکے گا کیونکہ ان کی دعوت کے پیچھے جہاد کا عمل موجود ہے جو ان کی دعوت کو نہیں مانے گا۔ جہاد کے ذریعہ اس کا خاتمہ کیا جائے گا جب کہ پہلی امتوں میں دعوت کا عمل تو موجود تھا مگر ان کی دعوت کے پیچھے جہاد کی پاور نہیں تھی (یہ خلاصہ ہے جو اس تقریر کا جو معارف القرآن میں حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ نے آیت کریمہ کے ذیل میں فرمائی ہے)۔
آخری گزارش
بہت ساری احادیث کریمہ میں اسلحے کی مختلف فضیلتیں آئی ہیں۔ مثلاً ایک حدیث شریف میں ہے کہ رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ رب العزت تلوار اٹھانے والے پر اپنے ملائکہ کے سامنے فخر فرماتے ہیں (اوکما قال)
ایک حدیث شریف میں فرمایا تلوار اٹھا کر نماز پڑھنے والے کی نماز دوسرے لوگوں کی نماز سے ستر گنا زیادہ افضل ہے۔ (اوکما قال) بعض احادیث میں دشمن کو تیر مارنے کی فضیلت آئی ہے۔ بہرحال اس قسم کی احادیث بہت زیادہ ہیں تو اخلاق کے وہ شارحین جو اخلاق کو تلوار کی ضد بتاتے ہیں۔ ان احادیث کریمہ کے متعلق کیا کہیں گے؟ کیا یہ بد اخلاقی کی دعوت ہیں؟ ہر گز نہیں، ہر گز نہیں۔
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود نبی السیف (تلوار والے نبی) تھے۔ آپ خود نبی الملاحم (جنگوں والے نبی) تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجسم اخلاق تھے۔
اللہ رب العزت امت محمدیہ کو جناب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ کے اتباع کی توفیق عطا فرمائے، آمین

مکمل تحریر  »

مجاہدین کے لئے ہدایات

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمانِ مبارک ہے:
’’
شیطان ابن آدم کو گمراہ کرنے کے لیے مختلف راستوں میں بیٹھا ہوتا ہے ، پہلے اسلام کے راستے میں بیٹھتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ کیا تواسلام قبول کر کے اپنا اور اپنے آباؤاجداد کا دین ترک کردے گا وہ اس کی نافرمانی کر کے اسلام قبول کر لیتا ہے۔تو شیطان ہجرت کے راستے میں آ کر بیٹھ جاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تو ہجرت کر کے اپنے زمین اور آسمان کو چھوڑ کر چلا جائے گا مہاجر کی مثال تولمبائی میں گھوڑے جیسی ہے وہ پھر اس کی نافرمانی کر کے ہجرت کر جاتا ہے۔پھر شیطان جہاد کے راستے میں بیٹھ جاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ اس سے جان و مال دونوں کو خطرہ ہے تو لڑائی میں شرکت کرتا ہے اور مارا جائے گا تیری بیوی سے کوئی اور نکاح کر لے گااور تیرے مال کا بٹوارہ ہو جائے گا لیکن وہ اس کی نافرمانی کر کے جہاد کے لیے چلا جاتا ہے‘‘۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزیدفرمایا:
’’
جو شخص یہ کام کر کے فوت ہو جائے تو اللہ کے ذمہ حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے اگروہ شہید ہو جائے یا سمندر میں ڈوب جائے یا جانور سے گر کر فوت ہو جائے تب بھی اللہ کے ذمہ حق ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے‘‘۔(احمد،نسائی )
اس کاسبب جیسے میں نے پہلے بیان کیا تفقہ فی الدین کی قلت ہے ،چنانچہ علاج بھی تفقہ الدین ،صحیح اسلامی علوم کے حصول اور تربیت اور تزکیہ نفس کا اہتمام ہے ، اس کے ساتھ ایسے امین و صالح،اہلِ ورع امرا کاتقرر جو معتدل مزاج و اخلاق کے حامل ہوں،صبر و درگزر اور قربانی کے ایسے پیکر کہ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے سب کچھ قربان کریں اور کسی اور سے کسی جزایا بدلے کے طلب گار نہ ہوں،اپنے لوگوں کے ساتھ شفقت کا معاملہ رکھنے والے جو مخلوق پر اس لیے رحم کرتے ہیں کہ الرحمن ان پر رحم فرمائے گا۔اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِیْنَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوا وَ جَاہَدُوا بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللَّہِ أُوْلَءِکَ ہُمُ الصَّادِقُونOقُلْ أَتُعَلِّمُونَ اللَّہَ بِدِیْنِکُمْ وَاللَّہُ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الْأَرْضِ وَاللَّہُ بِکُلِّ شَیْْءٍ عَلِیْمٌ O یَمُنُّونَ عَلَیْْکَ أَنْ أَسْلَمُوا قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَیَّ إِسْلَامَکُم بَلِ اللَّہُ یَمُنُّ عَلَیْْکُمْ أَنْ ہَدَاکُمْ لِلْإِیْمَانِ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ Oإِنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ غَیْْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّہُ بَصِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (الحجرات:۱۵۔۱۸) 
’’مومن تو وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہ پڑے اور اللہ کی راہ میں مال اور جان سے لڑے یہی لوگ (ایمان کے)سچے ہیں۔ان سے کہو کیا تم اللہ کو اپنی دین داری جتلاتے ہو؟ اور اللہ تو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں سے واقف ہے اور اللہ ہر شے کو جانتا ہے ۔یہ لوگ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے ہیں ،کہہ دو کہ اپنے مسلمان ہونے کا مجھ پر احسان نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا راستہ دکھایا بشرطیکہ تم سچے (مسلمان)ہو ۔بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے دیکھتا ہے ‘‘۔
ان آیاتِ کریمہ میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کے لیے اس صفت کو مختص فرمایا ہے کہ وہ ایمان لا کر اس کے بارے میں کسی شک میں نہیں پڑتے اور اپنے اموال اور جانوں کی قربانی سے اللہ وحدہ لاشریک کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔پھر اعراب کے اس گروہ کو مخاطب کر کے تنبیہ و سرزنش فرمائی ہے جو ایمان کے دعوے دار تھے اور ایمان لا کر جتلا رہے تھے جب کہ مندرجہ بالا ایمانی صفات سے متصف بھی نہیں تھے۔اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان جتلانے پر ان کی سرزنش فرمائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ انہیں کہیں کہ اپنے اسلام کا احسان نہ جتلائیں اور انہیں خبردار کریں کہ ہدایت کا مل جانا صرف اللہ وحدہ لاشریک کا فضل و احسان ہے ۔سچے اہلِ ایمان کی صفات بیان کرنے کے بعد ایمان کے دعوے اور اس پر گھمنڈ کے عیب پر سرزنش فرمانا، اہلِ ایمان کو اس بیماری کے خطرے سے خبردار کرنا ہے ۔(واللہ اعلم)۔۔۔اسی طرح مجاہدین کی قیادت کو چاہیے کہ وہ قول و فعل کے تمام دستیاب شرعی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے مجاہدین کی صفوں کو مضبوط کرنے اور ان کے مابین محبت و عاطفت کو بڑھانے کے لیے بھرپور محنت کریں ۔مجاہدین کے باہمی تعلق کو ایسا بنا دیں جیسا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’
مسلمان آپس میں پیار ومحبت ،رحم وشفقت اور مہربانی برتنے میں ایک جسم کی مثال رکھتے ہیں کہ جسم کا ایک عضو بیمار پڑ جائے تو سارا جسم اضطراب اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے‘‘۔ (بخاری و مسلم)
اسی طرح اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِہِ صَفّاً کَأَنَّہُم بُنیَانٌ مَّرْصُوصٌ (الصف:۴)
’’اللہ محبت کرتا ہے ان لوگوں کو جو لڑتے ہیں اس کی راہ میں قطار باندھ کر گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں‘‘۔
یہ بات اللہ سبحانہ تعالیٰ کو محبوب اور اس کی رضا کا باعث ہے اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس کا حکم فرمایا ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کریں۔ اس کی عملی شکل یہ ہے کہ اہلِ ایمان کے درمیان محبت کو بڑھانے والے اسباب کی بھرپور ترویج کی جائے اور اس کے برعکس باہم اختلاف،دوری و رنجش یا بغض و عداوت پیدا کرنے والے امور کا تدارک کیا جائے ۔شریعتِ مطہرہ نے بہت تفصیل کے ساتھ باہم محبت کے اسباب ، ان کے فضائل اور آپس میں دوری و رنجش اور بغض و عداوت کے اسباب کے خطرات کو بیان کیا ہے ۔۔۔یہ پاکیزہ ربانی شریعتِ اسلامیہ کے محاسن میں سے ہے ۔اس کی تفصیل بہت طویل ہے ،اس کے لیے سلوک واخلاق اور فضائل پر اہلِ علم کی کتب ، کتبِ احادیث اور ان کی شروحات کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’
بدگمانی سے اپنے آپ کو بچاؤ کہ بدگمانی بڑی جھوٹی بات ہے اور دوسرے کے عیوب کی تلاش میں نہ رہا کرواور جاسوسی نہ کیا کرواور نہ دوسروں سے بڑھنے چڑھنے کی ہوس کیا کرو۔نہ باہم حسد کیا کرو ، نہ بغض رکھا کرو ، نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر چلو ، بلکہ سب ایک اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بنے رہو جیسا کہ اس نے حکم فرمایا ہے ،ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے ،نہ اس کو بے یارومددگار چھوڑے ، نہ اس کو حقیر سمجھے ۔ پھر سینہ کی طرف اشارہ کرکے فرماتے تھے :تقویٰ اس جگہ ہے ، تقویٰ اس جگہ ہے۔۔۔برائی کے لیے انسان کو اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ،مسلمان کاسب کا سب دوسرے مسلمان پر حرام ہے ،خون ہو یا آبرو یا مال‘‘۔ (مالک ،بخاری ،مسلم ابوداود،ترمذی )۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ یہ ان اہم ترین امور میں سے ایک ہے جس کا مجاہدین کی قیادت کو بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہیے ۔میرے خیال میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اگر میں یہاں اس حوالے سے مجاہدین میں پائی جانے والی چند خطاوں کا تذکرہ کردوں جن کا میں نے خود مشاہدہ کیا ، تاکہ تنبیہ کا صحیح حق ادا ہوجائے اور ہمارے عمل میں بہتری آجائے کیوں کہ علم تو عمل کی خاطر ہی حاصل کیا جاتا ہے ۔
بعض امرااپنے ماتحتوں یا ساتھیوں کو دوسرے امرایا مجاہدین کا مذاق اڑاتے ہوئے دیکھتے ہیں لیکن انہیں منع نہیں کرتے بلکہ کئی دفعہ دوسرے امیر سے کسی رنجش یا اس سے مسابقت کی خاطر اپنے ساتھیوں کو اور تھپکی دے دیتے ہیں ۔یہ انسان کی ایسی بیماری ہے کہ اس کا علاج اس کا اپنا نفس ہی کر سکتا ہے ۔بڑے امرا کو چاہیے کہ اس معاملے میں اپنے نائبین اور ساتھیوں کی نگرانی کریں اور ان کے علاج و اصلاح اور تادیب کا انتظام کریں ۔امیرکے لیے واجب ہے کہ جب وہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو دوسرے مجاہدین یا امراکے بارے میں بات کرتے ہوئے سنے تو فوراً اس کو منع کرے ،ساتھیوں کو غیبت ،چغلی یا کسی مسلمان کی آبرو پر انگلی اٹھانے سمیت زبان کی تمام آفات اور ان کے مضرات سے خبردار کرے اور کوئی امیر اس وقت تک یہ کام نہیں کرسکتا جب تک اسے دین میں تفقہ حاصل نہ ہو اور وہ عارف باللہ ،متقی اور مخلص نہ ہو۔
مجاہدین کے مجموعات اور گروپوں میں یہ مرض بہت کثرت سے پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے مجموعے ، امرا اور کارروائیوں کی مدح میں مصروف رہتے ہیں اور اس پر فخر کرتے رہتے ہیں اور دوسرے گروپوں پر یوں طعن کرتے ہیں:وہ تو بالکل فارغ ہیں ،ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے اور ہم بہت مصروف ہیں اور ہم نے فلاں فلاں بڑی کارروائیاں کی ہیں۔ یہ رویہ بہت سی قلبی بیماریوں کی گواہی دیتا ہے ۔اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں سلامتی و عافیت عطا کرے ،ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ تواضع ، اخلاص اور سوئے خاتمہ کے خوف جیسے اخلاق کی تعلیم و تذکیر کے ذریعے اپنے ساتھیوں کی اصلاح کی کوشش کریں۔حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔
بدگمانی ، آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ یہ مرض مجاہدین کے مابین کس قدر کثرت سے پایا جاتا ہے ۔ایک دوسرے کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانا اور تہمت لگانا ، فلاں یہ کرنا چاہتا ہے ،فلاں نے یہ کام دنیاوی شہرت ،غلبے یا جاہ کے لیے کیا ہے یا کوئی کسی پر الزام لگاتا ہے کہ وہ ایجنسی کا ایجنٹ ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔یہ بہت خطرناک روش ہے ۔ امرا کو چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے کے معاملے میں اپنے ساتھیوں کے لیے نمونہ بنیں اور اپنے ماتحت لوگوں کو اس عالی اسلامی اخلاق کی تعلیم دیں۔
ہم اللہ سبحانہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ ہمیں اور آپ کو ایمانِ کامل اور عملِ صالح کی توفیق عطا فرمائے۔ہماری ہجرت و جہاد کی حفاظت فرمائے اور اپنے فضل و کرم اور احسان سے انہیں تکمیل تک پہنچائے ۔بے شک وہ فضل و کرم کرنے والا ولی ہے جس کے سوا کوئی الٰہ اور رب نہیں ہے ۔
والحمد للہ رب العالمین ، وصلی اللہ علی محمدٍ وآلہ وصحبہ أجمعین.
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

شیخ عطیۃ اللہ شہید رحمہ اللہ
ذو الحجۃ ۱۴۳۱ہ

مکمل تحریر  »

Thursday, October 9, 2014

********** سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کا حال **********

********** سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کا حال **********

سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے جس وقت ملک شام کو فتح کیا ہے تو وزیروں نے عرض کیا کہ یہ نصرانیوں کا ملک ہے نیا فتح کیا ہوا ہے۔ اور اس ملک کے لوگ نہایت سرکش اور سخت ہیں اور اسلامی سیاسیات ( یعنی اسلامی قوانین) نرم ہیں۔ اس لئے ضرورت ہے کہ ان پر قابو رکھنے کے لئے اسلامی احکام کے علاوہ اگر اور بھی کچھ قوانین اور قواعد نافذ کردیئے جائیں، تو زیادہ مناسب ہے۔
ـــــــــــــــــــــــ
اس پر سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے جو جواب دیا وہ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ فرماتے ہیں کہ:
------------
" کیا تمہارا خیال ہے کہ میں نے جو ملک فتح کیا ہے وہ حکومت اور سلطنت کرنے کے لئے کیا ہے؟ میں نے تو محض اللہ کی خوش کرنے کے لئے یہ سب کوشش کی ہے۔ (میں تو) اسلامی احکام کو نافذ کروں گا۔ اس پر چاہے ملک رہے یا جائے۔ اسلامی احکام کے خلاف ایک حکم کا بھی نفاذ نہ کروں گا۔"
------------
ان حضرات کی کامیابی کے یہ راز تھے۔ اور یہاں یہ حالت تھی کہ ابھی کوئی ملک قبضہ میں ہے نہ آیندہ ملنے کے بظاہر کوئی اسباب نظر آتے ہیں۔ مگر شریعت مقدسہ کی قطع برید پہلے شروع کردی۔
------------
(حضرت حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ۔ الافاضات الیومیہ۔ ص: 133، ج: 1)

مکمل تحریر  »

Friday, October 3, 2014

دارالاسلام سے مراد

==============دارالاسلام سے مراد:==============
.
فقہا ء نے باتفاق کسی بھی علاقے کو دار الاسلام قرار دینے کے لئے دو شرطیں ہی بیان کی ہیں:
.
(
۱)حاکم کا مسلمان ہونا ۔ (۲)احکام اسلامی کا اجراء
.
امام سرخسی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
’’وبمجردالفتح قبل اجراءاحکام الاسلام لاتصیر دارلاسلام‘‘(مبسوط سرخسی ،ص
۳۲،ج10)
’’ صرف فتح کے بعد احکامِ اسلام کے اجرا ء کے بغیر دارالحرب، دارلاسلام میں تبدیل نہیں ہوتا۔‘‘
.
’’وکذلک لو فتح المسلمون أرضاً من ارض العدو حتی صارت فی ایدیھم وھرب اھلھا عنھا۔لانھا صارت دار الاسلام بظھور احکام الاسلام فیھا‘‘۔(شرح السیر الکبیر؛ج:2ص:185)
’’اسی طرح اگر مسلمان دشمنوں کی کوئی زمین فتح کرلیں یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کے ماتحت ہوجائے اور اس کے رہنے والے بھاگ جائیں (یعنی مغلوب ہوجائیں)تویہ علاقہ احکام اسلام کے ظاہر ہونے سے دار الاسلام قرارپائے گا‘‘۔
.
علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’دار الحرب تصیر دارالاسلام باجراءاحکام اھل الاسلام فیھا‘‘(فتاویٰ ابن عابدین شامی ۔ص175،ج4)
’’اور دارالحر ب میں اہل ِ اسلا م کے احکامات جاری ہونے سے وہ دارالاسلام میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔‘‘
.
امام علاء الدین ابوبکر بن مسعود کاسانی متو فی
a 587ھ ،اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’بدائع الصنائع‘‘میں فرماتے ہیں:
’’لاخلاف بین اصحابنافی ان دارالکفر تصیر دارالاسلام لظھوراحکام الاسلام فیھا‘‘(بدائع الصنائع ۔ص130،ج7)
’’ہمارے علماءمیں اس بات کا کسی میں اختلاف نہیں ہے کہ دارالکفر، دارلاسلام میں تبدیل ہوتا ہے اس میں اسلامی احکام ظاہر ہونے سے۔‘‘
.
’’صارت الدار دارالاسلام بظھوراحکام الاسلام فیھا من غیر شریطةاخری‘‘ (بدائع الصنائع۔ص131،ج7)
’’دارالکفر،دارالاسلام میں تبدیل ہوتا ہے اس میں اسلامی احکام جاری ہونے سے دوسری کسی شرط کے بغیر۔‘‘
.
============== دار الحرب سے مراد:==============
.
جس طرح دار الحرب کا کوئی بھی علاقہ اس وقت تک دار الاسلام قرار نہیں پاسکتا جب تک اس میں مکمل اسلامی احکام کا اجراء اور ظہور نہ ہوجائے۔اسی طرح کوئی بھی علاقہ جوکہ دار الاسلام کاحصہ ہووہ اس وقت تک دار الحرب میں تبدیل نہیں ہوتاجب تک کہ اس میں کچھ نقائص پیدا نہ ہوجائیں۔
.
چنانچہ علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’رد المختار ‘‘میں لکھتے ہیں :
((لا تصیردار الاسلام دارالحرب الا بأمور ثلا ثة باجراء احکام ا ھل الشرک وبا تصالھابدارالحرب، وبان لایبقی فیھا مسلم او ذمی امنا بالامان الاول علی نفسہ))(فتاویٰ شامی ،ص174،ج4)
.
’’دارالاسلام دارالحرب میں تبدیل نہیں ہوتا مگر تین چیزوں کے پائے جانے سے :
(
۱)………اہل شرک کے احکام جاری ہونے سے اور
(
۲)………اس شہر کا دارالحرب سے متصل ہونے سے اور
(
۳)………یہ کہ وہاں کوئی مسلمان یا ذمی اپنی ذات اور دین کے اعتبار سے امن اول سے مامون رہے۔‘‘
.
یہاں اہل شرک سے اہل کفر مراد ہیں یعنی اہل کفر کے احکام علی الاعلان بلاروک ٹوک جاری ہوں ، احکام اسلام وہاں جاری نہ ہوں اور دارالحرب سے متصل ہونے سے مراد یہ ہے کہ دونوں’’دار‘‘کے درمیان دار الاسلام کاکوئی اورعلاقہ موجود نہ ہو اور امن اول سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اسلام کے سبب اور ذمی کو عہدِذمہ کی سبب کفار کے غلبے سے پہلے جو امن تھا ،وہ امن کفار و مرتدین کے غلبہ کے بعد مسلمان اور ذمی دونوں کے لئے باقی نہ رہے۔یہ رائے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی ہے۔لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمدرحمہ اللہ کے نزدیک مذکورہ امور میں سے صرف ایک ہی امر سے دارالحرب بن جاتا ہے یعنی دارالاسلام میں صرف احکام کفر جاری ہونے سے وہ دارالحرب بن جاتا ہے اور یہی قول فقہ حنفی میں قرین قیاس ہے۔جیساکہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے :
’’وقال ابو یوسف رحمةاللّٰہ علیہ ومحمد رحمة اللّٰہ علیہ بشرط واحد لاغیر وھواظھار احکام الکفر وھو القیاس‘‘۔(فتاوی عالمگیری بحوالہ تالیفات رشیدیہ بعنوان ’’فیصلۃ الاعلام فی دار الحرب ودار الاسلام‘‘۔ص:667)
.
’’اور امام ابویوسف اور امام محمد ;فرماتے ہیں کہ صرف ایک شرط محقق ہونے سے دار الحرب کا حکم کردیا جائے گا اور وہ شرط یہ ہے کہ احکام کفر کو علی الاعلان جاری کردیں اور قیاس (بھی فقہ حنفی کے نزدیک)اسی کا متقاضی ہے‘‘۔
.
علامہ سرخسی رحمہ اللہ نے اس کی وضاحت اس طرح فرمائی:
’’وعن ابی یوسف و محمد رحمھما اللّٰہ تعالیٰ اذااظھروا احکام الشرک فیھا فقد صارت دارھم دار حرب ،لأن البقعة انما تنسب الینا او الیھم باعتبار القوة والغلبة،فکل مقضع ظھر فیھا حکم الشرک فالقوة فی ذلک الموضع للمشرکین فکانت دار حرب وکل موضع کان الظاھر فیہ حکم الاسلام فالقوة فیہ للمسلمین‘‘(مبسوط سرخسی،ج:12ص:258۔بدائع الصنائع۔ص194،ج7)
.
’’امام ابو یوسف اور امام محمد ;سے منقول ہے کہ اگر دارالاسلام کے کسی علاقہ میں(حکام)احکام شرک کا اظہار کردیں (یعنی علی الاعلان نافذ کردیں)تو ان کا دار، دارالحرب ہوگا۔اس لیے کہ کوئی بھی علاقہ ہماری یا ان (کفار)کی جانب قوت اور غلبہ ہی کی بنیاد پر منسوب ہوتاہے۔جس جگہ احکام شرک نافذ ہوجائیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس جگہ مشرکین کو اقتدار اور قوت حاصل ہے ،اس لحاظ سے وہ ’’دار الحرب‘‘ ہے۔اس کے برعکس جس جگہ ’’حکم ‘‘، اسلام کا ظاہر اورغالب ہو تووہاں گویامسلمانوں کو اقتدار حاصل ہے(اور وہ دار الاسلام ہے)‘‘۔
.
دار الاسلام اور دارالحرب کی شرعی تعریفات جاننے کے بعدان لوگوں کے شبہات کاازالہ ازخودہوجاتاہے کہ جو پاکستان کو دارا لاسلام سمجھتے ہوئے اس میں دار الاسلام کے احکامات لاگو کرتے ہوئے یہاں ’’قتال فی سبیل اللہ ‘‘کو شرعی طورپر ناجائز تصور کرتے ہیں۔جیساکہ
ــــــــ بارہا کہہ چکے ہیں کہ :
=========’’ہم پاکستان میں مسلح جہاد کو شرعی طور پردرست نہیں سمجھتے ‘‘۔=========
.
لیکن یہ بات واضح ہے کہ پاکستان اوّل دن سے کسی صورت بھی’’دار الاسلام ‘‘کی تعریف پر صادق نہیں آیا کیونکہ یہاں پر کلی طور پر کبھی بھی احکام اسلامی کا مکمل اجراء ہوا ہی نہیں بلکہ الٹا ’’آئین ودستور ‘‘کے نام پر احکامِ کفرو شرک کا نفاذ ہی بڑھتا چلاجارہا ہے۔لہٰذا آج پاکستان ’’دارالحرب‘‘کی تعریف پر صادق آتا ہے،اور جو جگہ دارالحرب قرار پائے تو اس جگہ کے احکامات یکسر بدل جاتے ہیں اور وہاں احکام اسلامی کے اجراء کے لئے’’قتال فی سبیل اللہ ‘‘فرض عین ہوجاتاہے ، جس سے اہل علم بخوبی واقف ہیں۔
Top of Form



مکمل تحریر  »

جمہوریت کا چہرہ

جمہوریت کے اصل چہرہ ــــ چہرہ کُفر کی پہچان جب تک نہ ہوگی، آپ دار الا سلام اور دارالحرب میں تمیز نہیں کر پائیں گے۔
Top of Form



مکمل تحریر  »

جمہوریت اور جمہوری عمل



جمہوریت اور جمہوری عمل کا اسلام سے کیا تعلق ہے ؟ اور خلافتِ اسلامی سے کیا تعلق ؟ موجودہ جمہوریت تو سترہویں صدی کے بعد پیدا ہوئی ہے ۔ یونان کی جمہوریت بھی موجودہ جمہوریت سے الگ تھی، لہٰذا اسلامی جمہوریت ایک بے معنیٰ اصطلاح ہے۔۔۔ہمیں تو اسلام میں کہیں بھی مغربی جمہوریت نظر نہیں آئی اور اسلامی جمہوریت تو کوئی چیز ہے ہی نہیں، جمہوریت ایک خاص تہذیب و تاریخ کا ثمرہ ہے، اسے اسلامی تاریخ میں ڈھونڈنا معذرت خواہی ہے ‘‘۔
علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ

مکمل تحریر  »

Saturday, May 24, 2014

عرب کی ایک مشہور عالم ،ادیبہ کی دس وصیتیں

عرب کی ایک مشہور عالم ،ادیبہ کی دس وصیتیں، جو حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف رحمتہ اللہ علیہ لدھیا نوی صاحب کی کتاب تحفہ دلہن میں لکھی ہیں۔
١- ”میری پیاری بیٹی ،میری آنکھو ں کی ٹھنڈک ،شوہر کے گھر جا کر قناعت والی زندگی گزارنے کا اہتمام کرنا۔ جو دال روٹی ملے اس پر راضی رہنا ، جو روکھی سوکھی شوہر کی خوشی کے ساتھ مل جا ئے وہ اس مرغ پلا ﺅ سے بہتر ہے جو تمہارے اصرار کرنے پر اس نے نا راضگی سے دیا ہو ۔
٢- میری پیاری بیٹی ، اس با ت کا خیال رکھنا کہ اپنے شوہر کی با ت کو ہمیشہ توجہ سے سننا اور اسکو اہمیت دینا اور ہر حال میں ان کی بات پر عمل کرنے کی کو شش کرنا اسطرح تم ان کے دل میں جگہ بنا لو گی کیونکہ اصل آدمی نہیں آدمی کا کام پیارا ہو تا ہے ۔
٣- میری پیاری بیٹی اپنی زینت و جمال کا ایسا خیال رکھنا کہ جب وہ تجھے نگاہ بھر کے دیکھے تو اپنے انتخاب پر خوش ہو اور سادگی کے ساتھ جتنی بھی استطاعت ہو خوشبو کا اہتمام ضرور کرنا اور یا د رکھنا کہ تیرے جسم ولباس کی کوئی بو یا کوئی بری ہیت اسے نفرت و کراہت نہ دلائے ۔
٤- میری پیاری بیٹی اپنی شوہر کی نگاہ میں بھلی معلوم ہونے کے لیے اپنی آنکھوں کو سرمے اور کاجل سے حسن دینا کیونکہ پرکشش آنکھیں پورے وجود کو دیکھنے والے کی نگاہوں میں جچا دیتی ہیں ۔ غسل اور وضو کا اہتمام کرنا کہ یہ سب سے اچھی خوشبو ہے اور لطافت کا بہترین ذریعہ ہے ۔
٥- میری پیاری بیٹی ان کا کھانا وقت سے پہلے ہی اہتمام سے تیار رکھنا کیونکہ دیر تک برداشت کی جانی والی بھوک بھڑکتے ہوئے شعلے کی مانند ہو جاتی ہے اور ان کے آرام کرنے اور نیند پوری کرنے کے اوقات میں سکون کا ماحول بنانا کیونکہ نیند ادھوری رہ جائے تو طبیعت میں غصہ اور چڑچڑاپن پیدا ہو جا تا ہے ۔
٦- میری پیاری بیٹی ان کے گھر اور انکے مال کی نگرانی یعنی ان کے بغیر اجازت کوئی گھر میں نہ آئے اور ان کا مال لغویات ، نما ئش و فیشن میں برباد نہ کرنا کیونکہ مال کی بہتر نگہداشت حسن انتظام سے ہوتی ہے اور اہل عیال کی بہتر حفاظت حسن تدبر سے ۔
٧- میری پیاری بیٹی ان کی رازدار رہنا ،ان کی نا فرمانی نہ کرنا کیونکہ ان جیسے بارعب شخص کی نا فرمانی جلتی پر تیل کا کام کریگی اور تم اگر اسکا رازدوسروں سے چھپا کر نہ رکھ سکیں تو اسکا اعتما د تم پر سے ہٹ جائیگا اور پھر تم بھی اسکے دو رخے پن سے محفوظ نہیں رہ سکو گی ۔
٨- میری پیاری بیٹی جب وہ کسی با ت پر غمگین ہوں تو اپنی کسی خوشی کا اظہار ان کے سامنے نہ کرنا یعنی ان کے غم میں برابر کی شریک رہنا۔ شوہر کی کسی خوشی کے وقت غم کے اثرات چہرے پر نہ لانا اورنہ ہی شوہر سے ان کے کسی رویے کی شکایت کرنا ۔ ان کی خوشی میں خوش رہنا۔ ورنہ تم ان کے قلب کے مکدر کرنے والی شما ر ہو گی۔
٩- میری پیاری بیٹی اگر تم ان کی نگاہوں میں قابل تکریم بننا چاہتی ہو تو اس کی عزت اور احترام کا خوب خیال رکھنا اور اسکی مرضیا ت کے مطابق چلنا تو اس کو بھی ہمیشہ ہمیشہ اپنی زندگی کے ہر ہر مرحلے میں اپنا بہترین رفیق پاﺅ گی۔
١٠- میری پیاری بیٹی میری اس نصیحت کو پلو سے باندھ لو اور اس پر گرہ لگا لو کہ جب تک تم ان کی خوشی اور مرضی کی خاطر کئی بار اپنا دل نہیں مارو گی اور انکی بات اوپر رکھنے کے لیے خواہ تمہیں پسندہو یا ناپسند، زندگی کے کئی مرحلوں میں اپنے دل میں اٹھنے والی خواہشو ں کو دفن نہیں کرو گی اس وقت تک تمہاری زندگی میں بھی خوشیو ں کے پھول نہیں کھلیں گے ۔
اے میری پیاری اور لاڈلی بیٹی ان نصیحتو ں کے ساتھ میں تمہیں اللہ کے حوالہ کرتی ہوں- اللہ تعالیٰ زندگی کے تمام مرحلوں میں تمہارے لیے خیر مقدر فرمائے اور ہر برائی سے تم کو بچائے ”۔

مکمل تحریر  »

عبید اللہ عثمانی

عبید اللہ عثمانی

اللہ کے آخری پیغمبر کی آخری شریعت اور اللہ کے پاک پیغمبر پر نازل ہونے والی لاریب کتاب کے بعد ہمارے لئے اسوہ حسنہ قرآن کاوہ عنوان ہے جو اس وقت کے لوگ تھے، بے شک ان کے اعمال جو بھی تھے اس پر بحث کرنے کی بجائے دیکھا جائے کہ وہ کتنی عظمت والے لوگ تھے جن کی اصلاح کے لئے پاک پیغمبر خود موجود تھے، کوئی غلطی سرزد ہوئی فوری پیارے آقا کے قدموں میں پہنچ گئے، دین کا کوئی مسلہ سمجھ نہ آیا تو جھٹ سے پیغمبر کے در اقدس پر حاضری دے دی، اللہ اللہ کیا لوگ تھے وہ، کیا نصیب تھے ان کے، خدارا ان کے ایمان پر بحث کر کے اپنا ایمان غارت نہ کرو۔ یہاں ایک چھوٹا سا واقعہ ذکر کرتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں منافقین ڈائریکٹ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنے کی بجائے آپ کے بہت زیادہ قرب رکھنے والے اصحاب پر زبان درازی کیا کرتے تھے۔ اس کا جواب اللہ نے سورۃ اعراف میں کس خوبصورت انداز میں دیا ہے وہ آپ خود پڑہیں تو زیادہ مزہ آئے گا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اصحاب رسول کی عظمت پر انگلی جب بھی اٹھائی جائے گی تو سمجھ لیں یہ وہی طبقہ ہے جو کلمہ تو یپارے آقا مدنی کے دور میں بھی پڑھتا تھا لیکن اس کو منافقت کی سزا یوں ملی کہ اللہ نے منافقین کی نشان دہی کے لئے پوری ایک سورت المنافقون نازل فرمادی۔ اگر ہم قرآن کی طرف لوٹ آئیں تو اللہ کی قسم بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے مومن منافق اور کافر کی پہچان ہم قرآن کی کسوٹی پر کرنے کے قابل ہوجائیں گے اور ساتھ ساتھ فتوے باز بازاری ملاوں سے بھی نجات حاصل کر لیں گے۔

مکمل تحریر  »

اسلام ایک آفاقی مذھب ہے

تحریر: مولانا رعایت اللہ فاروقی
.
.


اسلام ایک آفاقی مذھب ہے، یہ مذھب ایک ایسے پیغمبر کے ذریعے بھیجا گیا جس سے بڑا تو درکنار ہمسر پیغمبر بھی کوئی نہیں ہوا یہ صرف اور صرف آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے نسبت کا شرف ہے کہ اصحاب محمد سے بڑے تو درکنار انکے ہمسر رفقاء بھی انسانی تاریخ میں کسی پیغمبر کو نصیب نہیں ہوئے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان صحابہ پر بڑے ہی خاص کرم کئے، انکے قدموں کی چاپ اپنے محبوب کو جنت میں سنادی، قرآن مجید میں ان کے پیار بھرے تذکرے فرما دیئے، پھر خاص طور پر حضرت زید کا تو نام بھی قرآن کا حصہ بنا دیا، حضرت عمر کی منشاء کے حق میں بائیس مرتبہ وحی نازل ہوگئی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان صحابہ کو ان کی زندگی میں ہی اپنی رضا کی سند تھمادی، اسقدر احسانات فرمانے والا اللہ اس جماعت کو معصوم عن الخطاء بھی بنا سکتا تھا لیکن نہیں بنایا، اس کی بہت سی وجوھات ہو سکتی ہیں مگر ایک سیدھی سی عقلی وجہ سمجھ لیجئے، اگر صحابہ بھی معصوم عن الخطاء ہو جاتے تو کیا اسلام پریکٹیکل شکل میں امت کے سامنے آ پاتا ؟ ہرگز نہیں بلکہ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی طرح صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کی بھی صرف ہر عیب سے پاک سیرتیں ہی سامنے آ تیں، یہ انکے معصوم عن الخطاء نہ ہونے کا ہی تو فائدہ ہے کہ ہم نے اسی جماعت میں اسلامی احکام نافذ ہوتے دیکھے، آج ہم کہتے ہیں حضرت عمر کو گیارہ مرتبہ عدالت نے طلب کیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سربراہ مملکت کے لئے کوئی عدالتی استثناء نہیں، غور کیجئے اگر حضرت عمر معصوم عن الخظاء ہوتے تو کیا عدالت طلب کر سکتی تھی ؟ کبھی نہیں بلکہ صحابہ کے پورے دور میں عدالت کا وجود ہی نہ ملتا کیونکہ جس معاشرے میں خطائیں ہی سرزد نہ ہوتیں وھاں عدالت کا کیا کام ؟ یہ آنے والی امت پر اللہ نے احسان فرمایا کہ صحابہ کو معصوم عن الخطاء نہیں بنایا تاکہ دین کی صرف لفظی ہی نہیں بلکہ عملی شکل بھی اعلیٰ ترین درجے کی نظر آجائے اور کوئی ابہام نہ رہے، اس دور کے وہ واقعات جو عدالتی گرفت میں آئے ان پر بحث صرف نیک اور خدا ترس اھل علم کا کام ہے کیونکہ جب وہ اس پر بحث کرتے ہیں تو مقصود علمی نکات کی دریافت ہوتا ہے نہ کہ صحابہ کی کردار کشی، میں اور آپ اپنی پوری زندگی کا ہر منٹ اور ہر سیکنڈ ہی اللہ کی مقبول عبادت میں کیوں نہ گزار لیں تب بھی ہم ان صحابہ کے ایک ناخن کے برابر بھی نہیں ہو سکتے جنہیں سزائیں ملیں، ہماری اوقات ہم اچھی طرح جانتے ہیں اور جو اپنی اوقات میں نہیں رہتا وہ پھر کہیں کا نہیں رہتا.  

مکمل تحریر  »