Wednesday, April 13, 2011

پیشہ ور قاتلو! تم سپاہی نہیں

بسم اللہ الرحٰمن الرحیم

پیشہ ور قاتلو! تم سپاہی نہیں

احمد فراز کی نظم جو انہوں نے پاکستانی فوج کیلئے لکھی۔

کہہ رہی ہیں یہ منظر قیامت کے ہیں

میں نے اب تک تمھارے قصیدے لکھے

اورآج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں

اپنے شعروں کی حرمت سے ہوں منفعل

اپنے فن کے تقاضوں سے شرمندہ ہوں

اپنےدل گیر پیاروں سےشرمندہ ہوں

جب کبھی مری دل ذرہ خاک پر

سایہ غیر یا دست دشمن پڑا

جب بھی قاتل مقابل صف آرا ہوئے

سرحدوں پر میری جب کبھی رن پڑا

میراخون جگر تھا کہ حرف ہنر

نذر میں نے کیا مجھ سے جو بن پڑا

آنسوؤں سے تمھیں الوداعیں کہیں

رزم گاہوں نے جب بھی پکارا تمھیں

تم ظفر مند تو خیر کیا لوٹتے

ہار نے بھی نہ جی سے اتارا تمھیں

تم نے جاں کے عوض آبرو بیچ دی

ہم نے پھر بھی کیا ہےگوارا تمھیں

سینہ چاکان مشرق بھی اپنے ہی تھے

جن کا خوں منہ پہ ملنے کو تم آئے تھے

مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے

یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے

ان کی تقدیر تم کیا بدلتے مگر

ان کی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے

اس کا انجام جو کچھ ہوا سو ہوا

شب گئی خواب تم سے پریشاں گئے

کس جلال و رعونت سے وارد ہوئے

کس خجالت سے تم سوئے زنداں گئے

تیغ در دست و کف در وہاں آئے تھے

طوق در گردن و پابجولاں گئے

جیسے برطانوی راج میں گورکھے

وحشتوں کے چلن عام ان کے بھی تھے

جیسے سفاک گورے تھے ویت نام میں

حق پرستوں پہ الزام ان کے بھی تھے

تم بھی آج ان سے کچھ مختلف تو نہیں

رائفلیں وردیاں نام ان کے بھی تھے

پھر بھی میں نے تمھیں بے خطا ہی کہا

خلقت شہر کی دل دہی کےلیئے

گو میرے شعر زخموں کے مرہم نہ تھے

پھر بھی ایک سعی چارہ گری کیلئے

اپنے بے آس لوگوں کے جی کیلئے

یاد ہوں گے تمھیں پھر وہ ایام بھی

تم اسیری سے جب لوٹ کر آئے تھے

ہم دریدہ جگر راستوں میں کھڑے

اپنے دل اپنی آنکھوں میں بھر لائے تھے

اپنی تحقیر کی تلخیاں بھول کر

تم پہ توقیر کے پھول برسائے تھے

جنکے جبڑوں کو اپنوں کا خوں لگ گیا

ظلم کی سب حدیں پاٹنے آگئے

مرگ بنگال کے بعد بولان میں

شہریوں کے گلے کاٹنے آگئے

آج سرحد سے پنجاب و مہران تک

تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو

اتنی غارتگری کس کی ایما پہ ہے

کس کے آگے ہو تم سر نگوں غازیو

کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے!

کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو

کیا خبر تھی کہ اے شپرک زادگاں

تم ملامت بنو گے شب تار کی

کل بھی غا صب کے تم تخت پردار تھے

آج بھی پاسداری ہے دربار کی

ایک آمر کی دستار کے واسطے

سب کی شہ رگ پہ ہے نوک تلوار کی

تم نے دیکھے ہیں جمہور کے قافلے

ان کے ہاتھوں میں پرچم بغاوت کے ہیں

پپڑیوں پر جمی پپڑیاں خون کی

کہ رہی ہیں یہ منظر قیامت کے ہیں

کل تمھارے لیئے پیار سینوں میں تھا

اب جو شعلے اٹھے ہیں وہ نفرت کے ہیں

آج شاعر پہ بھی قرض مٹی کا ہے

اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں

خون اترا تمھاراتو ثابت ہوا

پیشہ ور قاتلوں تم سپاہی نہیں

اب سبھی بے ضمیروں کے سر چاہئیں

اب فقط مسئلہ تاج شاہی نہیں

پیشہ ور قاتلو! تم سپاہی نہیں

پیشہ ور قاتلو! تم سپاہی نہیں

( یہ نظم احمد فراز نے فوج کے نوجوانوں کو ‘خراج تحسین’ پیش کرتے ہوئے کہی )

ڈاؤن لوڈ کریں:

http://www.mediafire.com/?6bh9tu3g467b3re

مکمل تحریر  »

Tuesday, April 12, 2011

بڑی غلط فہمی

آدمی شرک کرے اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھے اس سے بڑی غلط فہمی کوئی نہیں ہو سکتی۔ جتنے بھی رسول آئے سب نے لوگوں کو شرک سے ہی تو خبردار کیا تھا۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آدمی شرک کرتے ہوئے اپنے آپ کو رسولوں کے دین پر سمجھے۔ اسلام وہی رسولوں کا دین ہی تو ہے جس کی ملت شرک سے کھلی دشمنی ہے۔ خاتم المرسلین کی ساری زندگی اس شرک کے خلاف جہاد کرتے ہی تو گزری ہے

ہمارے یہاں کسی شخص کو ’مشرک‘ تو نسبتاً بڑے آرام سے کہہ دیا جاتا ہے مگر جب اس کو کافر کہنے کا سوال آئے تو تب لوگ ’محتاط‘ ہونا ضروری سمجھتے ہیں! حالانکہ ان دونوں باتوں کیلئے ایک ہی درجہ کی احتیاط لازم ہے کیونکہ یہ دونوں باتیں دراصل لازم وملزوم ہیں۔

یہ عجیب ماجرا ہے کہ ہمارے ایک خاص طبقے کے ہاں کسی شخص کو ’مشرک‘ کہہ دینے میں کسی احتیاط یا کسی توقف کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ تمام کی تمام احتیاط یہ لوگ اس ’مشرک‘ کو ’کافر‘ سمجھنے کیلئے پس انداز رکھتے ہیں! جبکہ معاملہ یہ ہے کہ احتیاط دراصل پہلا قدم اٹھانے کے وقت ہی درکار ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس سے شرک کا کوئی فعل سرزد ہو اس کو فوراً مشرک نہیں کہہ دیا جائے گا۔ ہر وہ شخص جس سے فسق کا کوئی کام سرزد ہو اس کو معاً فاسق اور جس سے بدعت کا کوئی کام ہو اس کو جھٹ سے بدعتی نہیں کہہ دیاجائے گا۔

کسی کے شرکیہ فعل کی بنا پر اس کو مشرک قرار دینے کی کچھ شروط ہیں۔ وہ اپنے اس فعل کا مطلب جانتا ہو۔ اس پر حجت قائم کر دی گئی ہو۔ اس کی لاعلمی یا شبہات واشکالات اور تاویلات کا علمی انداز سے ازالہ کر دیا گیا ہو وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ جتنی احتیاط ہو سکے وہ یہیں پر، یعنی کسی کو مشرک قرار دیتے وقت کی جانی ہے۔ ’توقف‘ کا اصل مقام یہ ہے۔ لیکن اگر اس سے گزر جانے کا فیصلہ ہو جاتا ہے اور آپ کسی شخص کو مشرک ہی کہنے لگ جاتے ہیں تو اس کے بعد پھر اس کو ہنوز مسلمان ماننا البتہ ایک مضحکہ خیز امر ہے۔

اس غلط فہمی کے باعث لوگوں میں یہ تاثر پھیل گیا ہے کہ سب مشرک کافر نہیں ہوتے۔ گویا بعض مشرک مسلمان ہوتے ہیں اور بعض مشرک کافر!

اصل قاعدہ یہ ہے کہ ہر وہ کلمہ گو شخص جو شرک کے کسی فعل میں پڑ جائے اس کو تب تک مشرک نہیں کہا جائے گا جب تک کہ اہل علم کے ہاتھوں اس پر حجت قائم نہ ہو جائے اور اس پر مشرک ہونے کا باقاعدہ حکم نہ لگا دیا جائے۔ جب تک یہ نہیں ہوجاتا اس کے اس شرکیہ فعل کو شرک تو برملا کہا جائے گا اور اس شرک سے اس کو روکا بھی ضرور جائے گا مگر اس شخص کو ’مشرک‘ کہنے سے احتیاط برتی جائے گی۔ البتہ جب وہ شرعی قواعد وضوابط کی رو سے اہل علم کے ہاتھوں مشرک ہی قرار دے دیا جائے تو اس وقت وہ دائرہء اسلام سے خارج بھی شمار ہوگا۔ ۔

مکمل تحریر  »

سخی داتا دربار پر ہونے والے دھماکے

سخی داتا دربار پر ہونے والے دھماکے


السلام علیکم
عرفان بھائی یہ جو سخی داتا دربار پر جو اٹیک ہوئے ہیں ان کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ میرا مطلب ہے کوئی شخص مسلم ہے اور وہ مومن نہیں (یعنی شرک کرتا ہے ) تو اسلام کا ایسا کون سا پہلو ہے جو مجاہدین کو اجازت دیتا ہے کہ وہ ایسے عام مسلمانوں کو مار دیں جن کو شرک کا کنسپٹ تک پتا نہ ہو ؟ اور یہ مجاہدین کا ہی موقف ہے کہ ہمیں ایک اسلامی شریعت کے قیام کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے جب ایک مسلم معاشرہ قائم ہوجائے گا تو ایسی فضولیات (درباروں پہ مانگنا ) خود بخود ختم ہوجائے گا ۔بس اس بات کا تفصیلاً جواب بتائیں کیا اگر کوئی مسلم شرک کرتا ہے تو کیا مجاہد کو اسلام میں حق حاصل ہے کہ اسے قتل کردے ؟

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سخی داتا دربار پر ہونے والے افسوس ناک واقعے پر ہمارے دل غم سے بھرے ہوئے ہیں اور ہم سے زیادہ کون اس بات کا حقدار ہے جو اس پر افسوس کرے اور غم زدہ ہو۔۔۔۔۔
اس واقعے کے کئی دن بعد تک اس موضوع پر بلاگ نہ لکھنے کی وجہ یہی تھی کہ میں اس انتظار میں تھا کہ شاید مجاہدین کے رہنماؤں کی طرف سے اس کی تردید اور اس افسوس ناک واقعے پر مذمت آجائے ۔۔۔۔ لیکن دجالی میڈیا کے ذریعے اس تردید کا نشر ہونا کوئی آسان کام نہیں ہوگا ۔۔۔۔

ہمارا گمان یہی ہے کہ سخی داتا دربار پر ہونے والےدھماکے خفیہ ایجنسیوں کی سازش ہے ۔۔۔۔ دشمنان دین مجاہدین کے خلاف اس نوعیت کی سازشیں پہلے بھی کرتے آئے ہیں ۔۔۔ لیکن اس مرتبہ کی جانے والی سازش بہت زبردست اور اس کے اثرات بہت تباہ کن ہیں ۔۔۔۔ یہ دشمن کا پہلا وار ہے جس کی زد واقعی مجاہدین پر براہ راست بہت گہری پڑتی ہے ۔۔۔
پچھلی تمام سازشوں میں اب تک فرضی ترجمانوں کے ذریعے جھوٹ کو پھیلانے کی کوشش کی جاتی رہی تھی ۔۔۔
لیکن اس مرتبہ دشمن نے طالبان کے اصل ترجمان کا نام استعمال کرکے ، ہمیں بھی مبہوت کردیا ہے ۔۔۔۔
واللہ المستعان علینا ۔۔۔۔
اس کے بعد فرضی یا جعلی عمر فدائی کو میڈیا کے سامنے پیش کردینے نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ۔۔۔
عمر فدائی کا دجالی میڈیا پر نشر ہونے والی گفتگو میں نے دیکھی ہے ۔۔۔۔ کم از کم میرے لیے اس کو حقیقت تسلیم کرلینا ممکن نہیں ۔۔۔۔ صاف محسوس ہورہا ہے کہ کسی جعلی فدائی کو بستر پر لٹا کر رٹے رٹائے جملے کہلوائے گئے ہیں ۔۔۔۔ واللہ اعلم ۔۔۔
یہیں تک محدود نہیں بلکہ اس کے بعد سے جو بھی اصلی یا فرضی گرفتاریاں ہوئیں ۔۔۔۔ ان کا سلسلہ سخی داتا دربار سے جوڑا جا تارہا ۔۔۔۔ تاکہ عامۃ المسلمین کے ذہنوں میں یہ جھوٹ راسخ ہوجائے ۔۔۔۔ گذشتہ کئی روز سے میرے لیے اخبارات میں سب سے زیادہ اہم وہی خبریں رہی ہیں جو سخی داتا دربار کے دھماکوں سے متعلق تھیں ۔۔۔ اور اس کی اہمیت کے پیش نظر دیگر خبروں سے کوئی دلچسپی ہی باقی نہیں رہی تھی ۔۔۔۔ ہم پر لازم ہے کہ ہر حال میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی حمد کریں ۔۔۔۔کیونکہ تمام معاملات کو لوٹنا اسی کی جانب ہے ۔۔۔۔۔ وہی ہے جو شر سے خیر کو برآمد کرتا ہے ۔۔۔۔

درج ذیل اقتباسات ملاحظہ کریں ۔۔۔ اور سوچیں کہ مجاہدین کےاصولی موقف کے بارے میں آپ کا کیا تاثر ہے ۔۔۔۔ یہ اقتباسات شیخ عطیۃ اللہ کے تازہ بیان بعنوان خون مسلم کی عظمت سے اخذ کیے گئے ہیں ۔۔۔۔
"چاہے ہمارا وجود فنا ہو جائے ، ہماری تنظیمیں اور جماعتیں مٹ جائیں اور چاہے ہمارے سب منصوبے خاک میں مل جائیں ، لیکن ہمارے ہاتھوں سے ناحق کسی مسلمان کا خون نہ بہنے پائے "

"ہم اللہ عزو جل کی شریعت ہی کے پابند ہیں جس نے بغیر حق کے کسی نفس کے قتل کو حرام ٹھہرایا ہے ۔۔۔۔ چاہے دشمنان دین کی نفرت و دشمنی حد سے بڑھ جائے اور چاہے ان کی جانب سے وحشت و بربریت کی انتہا ہو جائے مگر اس سب کے مقابلے میں ، اللہ عزوجل کا دین اس بات سے نہایت اعلیٰ و ارفع ہے کہ ان دشمنوں کی رذیل حرکات کا جواب اس پست سطح پر اتر کر دیا جائے ۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی کرم و رضا کا حصول دیگر تمام مقاصد سے اعلیٰ اور معزز تر ہے "

" ہماری یہ پیاری امت آج لا دین نظام ہائے حکومت کی ظلمتوں میں ڈوبی ہوئی ہے ۔۔۔ ایسے مرتد حکمرانوں کے ہاتھوں مجبور و محکوم ہے جو خائن ہیں ، دین سے باغی ہیں دشمنوں کے آلہ ء کار ہیں اور ہر دم صلیبی مغرب کے احکامات کی تعمیل میں مصروف کار ہیں ، مگر یہ امت مسلمان امت ہی ہے "

"مجاہدین کے امراء پر لازم ہے ، کہ استشہادی بھائیوں کو ان امور کی خوب نصیحت کریں ، ان کو کسی دھوکہ میں رکھنے سے شدت سے بچیں کہ ان کو کسی ایسے ہدف پر بھیجا جائے جس کے جواز میں شک و شبہہ ہو ، ایسا کرنا ان کی خیر خواہی ہرگز نہیں ہے "

"اسی طرح استشہادی حملہ کرنے والا بھائی ، اپنے کسی اقدام کا ذمہ دار خود بھی ہے ، اگر وہ کسی ہدف پر حملہ کامل تحقیق کے بغیر اور کچھ سوچے سمجھے بغیر کرتا ہے توبجائے اس کے کہ اس کو شہادت ملے وہ خطاکار اور قابل ملامت ٹھہرے گا ۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور اس کے عقاب و عذاب کا مستحق ہوگا ۔اور ہم میں سے کون اس پر راضی ہو سکتا ہے "

"ہر ایسی مخصوص دھماکہ خیز کارروائی معتمد اور قابل افراد پر مشتمل مجلس کی نگرانی میں کیجیے ۔ اس مجلس میں علمائے دین بھی ہوں اور معتبر عسکری ماہرین بھی ۔ وہ کارروائی کے ہر ہر پہلو پر علیحدہ علیحدہ تحقیق کے بعد ہی فیصلہ کریں کہ اس اقدام کی اجازت دی جائے یا نہیں "

خون مسلم کی عظمت ۔۔۔۔ شیخ عطیۃ اللہ حفظہ اللہ
پیش کش السحاب میڈیا ۔۔۔ ۲۰۱۱ ء ۔۔۔

ان تمام اقتباسات کی روشنی میں ہم کیسے یہ باور کر سکتے ہیں کہ مجاہدین اپنے اصولی موقف کے برخلاف اپنی محبوب امت کے انہی مظلوم ، محکوم اور مجبورمسلمانوں کا قتل عام کرنے پر اتر آئیں جن کے دفاع کے لیےانہوں نے اپنے آپ کو راہ جہاد کے خطرات میں ڈال رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔ سبحان اللہ ۔۔۔۔

اب ذرا دجالی میڈیا کی یہ خبربھی ملاحظہ کریں ۔۔۔ "یہ تمام بارودی مواد ، مزاروں اور درباروں کو تباہ کرنے کے لیے منتقل کیا جارہا تھا "۔۔۔۔۔ گویا مجاہدین کے پاس اب ان اہداف کے سوا کوئی ہدف ہی باقی نہیں رہا ۔۔۔۔ اور گویا مرتدین اور کفریہ حکومت کے آلہ کاروں سے ہماری جنگ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ۔۔۔۔ واللہ المستعان ۔۔۔

اب میں آتا ہوں اس شبہہ کی طرف جو کسی کے ذہن میں پیدا ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔ یعنی یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ خدانخواستہ اس کارروائی کے پیچھے کوئی ایسا گروہ ملوث ہو جو اپنے آپ کو مجاہدین سے منسلک سمجھتا ہے ۔۔۔۔ تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بے شک یہ گروہ اس بھیانک کارروائی کے دنیاوی اور اخروی نتائج سے بے پرواہ ہو چکا ہے ۔۔۔۔ اور اس قسم کا ہدف بنانےوالا اپنے آپ کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی نصرت اور مدد سے محروم کرنے پر تلا ہوا ہے ۔۔۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ اپنے آپ کو اللہ کی پکڑ ، غضب ، عتاب و عذاب کے خطرے میں ڈال رہا ہے ۔۔۔۔

لیکن یہ وضاحت ضروری ہے کہ ایسے کسی گروہ کی موجودگی ثابت بھی ہو جائے تو کوئی اسے اپنے لیے جہاد سے دور رکھنے کا عذر نہیں بنا سکتا ۔۔۔۔ اگر کوئی اپنے آپ کو ایسے گروہ کی موجودگی کے سبب جہاد سے دور بٹھائے رکھنے پر راضی ہوا ۔۔۔ تو بالیقین وہ گمراہی میں پڑ گیا ۔۔۔۔اور ترک جہاد پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی وعیدوں کا مستحق ٹھہرے گا ۔۔۔

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلون ۔۔۔
http://irfanbalooch.blogspot.com/2011/04/blog-post_12.html

مکمل تحریر  »

Monday, April 11, 2011

اسلامی تحریک کے صدر اور اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن کا دنیا بھر میں کفر کے سرغنہ (پوپ) کا استقبال کرنے کے بارے میں شرعی حکم

اسلامی تحریک کے صدر اور اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن کا دنیا بھر میں کفر کے سرغنہ (پوپ) کا استقبال کرنے کے بارے میں شرعی حکم

ترجمہ: انصار اللہ اردو بلاگ

رقم السوال:۶۷

تاریخ النشر:۱/۷/۲۰۱۰

سیکشن:العقیدہ

جواب منجانب: منبر کی شرعی کمیٹی

سوال: اسلام علیکم و رحمہ اﷲ و بر کاتہ

یہ سوال اسرائیل میں مسلمان عربوں کے لئے اسلامی تحریک کے صدر (یہودی پارلیمنٹ میں اخوان المسلمین کا رکن – ابراہیم صرصور) کے اس استقبال کے بارے میں ہے جو اس نے دنیا بھر میں کفر کے سرغنہ اس لاوارث کا کیا جس نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے، یعنی ویٹیکان کا پوپ۔ اس نے الناصرہ شہر میں پوپ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کر اس کا استقبال کیا اور جب اس سے بحث کی گئی تو یہ راہ سے بھٹکا ہوا کہتا ہے کہ اسے اس بات میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے کہ اس نے جو کام کیا ہے وہ ادنی درجے کا بھی حرام ہو اور یہ بھٹکا ہوا اس کافر اکبر کے استقبال کی دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا وفود نصارٰی کا استقبال کرنے سے لیتا ہے۔ اور اس فتنہ زدہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ ہر اس شخص سے تعلق توڑا جائے جو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا ہے کیونکہ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔

تو آپ بتائیں کہ ایسے مجرم کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور کیا اس کے پیچھے نماز جائز ہے کہ نہیں؟

سائل: ابو عبیدہ

جواب: وعلیکم اسلام و رحمتہ وبرکاتہ

بسم اﷲ و الحمداﷲ والصلاة والسلام علی رسول اﷲ، اما بعد،

اس میں کوئی شک کی بات نہیں کہ اس رکن (ابراہیم) کا دنیا میں کفر کے سرغنہ، اس لا وارث (پوپ) کا استقبال کرنا ان امور میں شامل ہے، جو کہ اس لال بیگ (نوٹ: ‘صرصور‘ عربی زبان میں لال بیگ کو کہتے ہیں جبکہ یہ اس رکن کے اصل نام کا حصہ بھی ہے) کی ذلت اورحقارت پر دلالت کرتے ہیں، اور جہاں تک اس رکن کا اس لاوارث کے استقبال کرنے کے فعل کو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے فعل پر قیاس کرنا ہے کہ جس طرح انہوں نے نصارٰی کے وفود کا استقبال کیا تھا تو یہ بات اس کی جہالت کی دلیل اور اس کی گمراہی، ذلت اور حقارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے تو ان نصارٰی کے وفود کا استقبال کیا تھا جو حق کی تلاش میں آئے تھے، وہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے نبی ہونے کی خبر کے متلاشی تھے، کہ آیا یہ سچے نبی ہیں یا نہیں، اور انہوں نے نبی کریم صلی علیہ وسلم پر طعن و تشنیع کی اور نہ ان کے خلاف گستاخی کی، جیسے کہ اس لاوارث نے کیا کہ جس نے ہمارے نبی اور ہمارے دین پر زبان درازی کی، اور ہمارے ملک میں صرف اور صرف اس لئے آیا ہے کہ یہاں عیسائی مبلغین کے کاموں کی دیکھ بھال کر سکے، اور نصرانیت کی اشاعت اور اسلام سے جنگ کی ان کی کوششوں کو دیکھے، اور یہودیوں کو اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائے ۔

اور پھر اس سب سے بڑھ کر یہ کہ اس رکن نے اس کے ساتھ ایسا کام نہیں کیا جو کہ اسلام کی رو سے واجب اور اس سے مطلوب تھا، اور وہ یہ کہ اسے توحید کی طرف دعوت دیتا اور کفر اور نصرانیت ترک کرنے کی طرف بلاتا، جیسا کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان وفود کے ساتھ کیا تھا۔

اور میں اس میں مزید اضافہ کرتا ہوں کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم چاہیں تو اپنے حق سے دستبردار ہو سکتے ہیں، لیکن ہمارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ ہم اپنے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے حق سے منہ پھیریں بلکہ ہم پر تو واجب ہے کہ ان کا بدلہ لیں، اور ان کی شان میں گستاخی کرنے والوں اور ان پر اور ان کے دین پر بد زبانی کرنے والوں سے ان کا پورا پورا بدلہ لیں

پس اس لا وارث کے بارے میں واجب تو یہ ہے کہ اس کے ساتھ کعب بن اشرف والا معاملہ کیا جائے، نہ کہ اس کے ساتھ نجران کے وفد نصارٰی والا معاملہ کیا جائے۔

اور جہاں تک اس کا یہ کہنا ہے کہ ہر اس آدمی سے تعلق نہیں توڑا جا سکتا جو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے، کیونکہ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں، تو یہ بالکل باطل قول ہے، فضول دعویٰ اور کھلی گمراہی ہے۔ بلکہ اصل تو یہ ہے کہ جو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے وہ مسلمان ہی نہیں رہتا، اور اس سے صرف تعلق ہی نہیں توڑا جائے گا بلکہ اس کے مرتد ہونے کی وجہ سے اس کا قتل واجب ہوجاتا ہے بیشک وہ توبہ بھی کرلے تو، اور اس (رکن) کی یہ بات ایسی ہے کہ اس سے کفر میں تسلسل پیدا ہوتا ہے اور یہ مرتدین کو ان کے ارتداد پر انعام دینے والی بات ہے۔

لیکن اس کے باوجود اس رکن کا کفر کے اس سرغنہ کا استقبال کرنا اور اس سے ہاتھ ملانا اور اس کے ساتھ بیٹھنا اور اس کی چاپلوسی کرنا نہ صرف کفار کے ساتھ دوستی لگانے میں شمار ہوتا ہے بلکہ یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔

اور جہاں تک اس کے کفر کی بات ہے تو اس کی دوسری وجہ ہے، اور وہ یہ کہ وہ اسرائیلی پارلیمنٹ کا رکن ہے تو ایسے انسان سے کیا خیر کی امید کی جا سکتی ہے جو ان لوگوں کے افکار کی گندگی پر راضی ہو گیا جن لوگوں پر اللہ کا غضب ہے، اور ان کے قوانین کو حکم تسلیم کرلیا، اور اﷲ اور اس کے رسول اور مومنین کے دشمنوں کے دستور کو شریعت اور منہج کے طور پر مان لیا، پس کتنے ہی ذرائع سے آڑ لی جائے اور کتنی ہی تاویلات کی جائیں مگر یہ بات ثابت ہے کہ اس کا ان کی شرکیہ امور کا ارتکاب کرنا کوئی عذر نہیں رکھتا، سوائے اس مجبوری کی حالت میں کہ جس میں کوئی ایسے امور کو برا جان کر کرے، مگر یہ بات اس اور اس جیسوں سے کوسوں دور ہے۔

پس کسی کے لئے جائز نہیں کہ اس کے یا اس جیسے کسی اور کے پیچھے نماز پڑھے جو اسرائیلی پارلیمینٹ کا رکن ہو، اور ان کے لئے کوئی عزت و اکرام نہیں ہے۔ اور ہماری نصیحت ہے کہ ان جیسوں کے ساتھ بحث و مباحثہ اور لڑائی جھگڑا نہ کیا جائے اور نہ ان کے ساتھ بیٹھا جائے اور نہ ہی بات کی جائے۔

اور تمام توفیق اللہ کی جانب سے ہے۔

جواب منجانب: الشیخ ابو الولید المقدسی

عضو شرعی کمیٹی

منبرالتوحید والجہاد

ڈاؤن لوڈ کریں:

http://www.mediafire.com/?ut5ucx27ekndgzl

مکمل تحریر  »

لیبیا کی خبریں ٣۔۵۔١۴٣٢

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ابو زبیر اللیبی

لیبیا میں مجاہدین کے نامہ نگار

ترجمہ: انصار اللہ اردو بلاگ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

اللہ کی خاطر میرے پیارو، اللہ ہی جانتا ہے کہ میں کس قدر تمہاری کمی محسوس کرتا ہوں!

الحمد للہ آج کل ہم انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔

ہم خیریت سے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ تم بھی بخیریت ہو۔

ہمارے بھائیوں کے لئے دعا کرو۔ میں تمہیں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ بھائی ابو خیثمہ اگلی صفوں میں لڑ رہے ہیں، لہذا انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا، بھولنا نہیں۔

سب بھائیوں تک میرا سلام پہنچا دینا۔

اور میں تمہیں کہتا ہوں:

خوشخبری کا انتظار کرو!!!

خوشخبری کا انتظار کرو!!!

خوشخبری کا انتظار کرو!!!

اللہ اکبر۔ تمام عزت اسلام کے لئے ہے۔

مکمل تحریر  »

انواقضِ اسلام یعنی ایمان /اسلام کو توڑ دینے والے امور

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الموحدین ویب سائٹ پیش کرتے ہیں ۔یونی کوڈ ورژن میں انواقضِ اسلام یعنی ایمان /اسلام کو توڑ دینے والے امور ۔ مسلمان کو کافر بنادینے والے امور

http://i56.tinypic.com/j9vuro.jpg

مؤلف:شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ

شرح :ابوعمر بن عبدالخالق حفظہ اللہ

ڈاؤن لوڈ کریں:

پی ڈی ایف:

http://www.4shared.com/document/pGQhKJ2W/anwaqiz_e_islam.html

ایم ایس ورڈ:

http://www.box.net/shared/7rae8yrk0v

پی ڈی ایف موبائل ورجن:

http://www.divshare.com/download/14536042-153

ان پیج:

http://dl.dropbox.com/u/9911860/inpagebooks/anwaqiz_e_islam.zip

آن لائن پڑھیں:

انواقضِ اسلام

مکمل تحریر  »

Saturday, April 9, 2011

الملاحم میڈیا: انگریزی انسپائر میگزین کا پانچواں شمارہ

بسم الله الرحمن الرحيم

انسپائر، پہلا انگریزی جہادی میگزین، جسے الملاحم میڈیا (جزیرۃ العرب میں القاعدہ کا میڈیا سیکشن) تیار اور پیش کرتا ہے، کا کوئی بھی مداح واضح طور پر دیکھ سکتا ہے ہر نئے شمارے کے ساتھ میگزین کا معیار پہلے سے عمدہ تر ہوتا چلا جا رہا ہے، والحمد للہ۔

جیسے کہ جاپان زلزلے کے بعد عظیم سونامی کی زد میں آیا، اسی طرح عالم اسلام بھی (تبدیلی کے سونامی) کی زد میں آ یا ہوا ہے۔ میگزین کا حالیہ شمارہ اسی مرکزی خیال کے گرد گھوم رہا ہے اور اس میں شیخ ایمن الظواہری، شیخ انور العولقی، اور شیخ ابراہیم الربیش – اللہ ان سب کی حفاظت فرمائے – جیسے جیّد اور بے لاگ علماء کے مضامین شامل ہیں۔

جیسے جیسے انقلابی تحریکیں اپنے عروج کو پہنچ رہی ہیں اور مسلمانوں پر ظلم ڈھانے والے مغرب کے کٹھ پتلے ایک کے بعد ایک گر رہے ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ دشمنان اسلام نے اپنے لا محدود میڈیا وسائل کے ذریعے ایک پروپیگنڈہ مہم کا سیلاب برپا کر دیا ہے تاکہ مسلمانوں کی فکری صلاحیتوں کو ایسا ناکارہ بنا دیا جائے کہ وہ جمہوریت کے سوا کسی اور نظام کو سوچنے کے قابل ہی نہ رہیں۔ ایسے وقت میں مجاہد علماء کا آگے بڑھ کر خالی نعروں پر مبنی مغرب کے اس مغالطے کی قطعی تردید کرنا اور فکری سطح پر کامیابی سے ہمکنار ہونا ایک انتہائی خوش آئند امر ہے۔

انسپائر کا یہ شمارہ برادر محترم یحیی ابراہیم کے ایک مضمون سے شروع ہوتا ہے جس میں مغرب کے ان بے بنیاد قیافوں کی قلعی کھولی گئی ہے کہ مشرق وسطی کی انقلابی تحریکوں نے القاعدہ کی اہمیت کم کر دی ہے۔

اس کے فورا بعد ہی منہج کے سیکشن میں شیخ ابو یحیی اللیبی حفظہ اللہ کا ایک انتہائی اہم مضمون ہے جس میں وہ قرآن و سنت کی روشنی میں درمیانی راہ کی نشاندہی کرتے ہیں اور موحدین کے ان دشمنوں کی سازشوں کا پردہ چاک کرتے ہیں جو درمیانی راہ کی تعریف اپنی خواہشات اور خیالات کی بنیاد پر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ ہمیں اصل درمیانی راہ گمراہ کر کے دور ہٹا سکیں۔

اس شمارے میں شیخ ابو ہریرہ حفظہ اللہ کا انٹرویو بھی ہے جو جزیرۃ العرب میں القاعدہ کے عسکری کمانڈر ہیں، اور شیخ ابو محمد المقدسی حفظہ اللہ کا یمن کی مدد اور اس کے لوگوں پر فتوی شامل ہے، اور اس کے علاوہ عام جہاد، تاریخ اور اسٹریٹیجی پر گفتگو کے عمومی سیکشن ہیں۔

اللہ سبحانہ و تعالی ان سب کو جزائے خیر سے نوازے جنہوں نے ہدایت پر مبنی اس عمدہ رسالے میں اپنا حصّہ کسی بھی طرح سے شامل کیا؛ وہ سب جو اپنے رب کی رضا کے طلبگار ہیں۔۔۔ آمین۔

ڈاؤن لوڈ کریں:

http://www.archive.org/download/INSPIREn5/inspire5.pdf

آن لائن پڑھیں:

http://www.scribd.com/doc/52015616/inspire

مکمل تحریر  »