Saturday, May 2, 2015

جہاد امت کی بقاء اور عظمت کا ضامن

اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاد اسلامی احکام کی اساس اور بنیاد ہے یعنی جہاد مسلم امہ کی بقاء،عظمت اور دنیا میں ایک خود مختار زندگی گذارنے کا ایک بہترین راستہ ہے،
اگر جہاد نہ ہو تو نماز، روزہ، حج ، تلاوت اور دوسری عبادات میں ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا، بہت سے اسلامی ممالک کی حالت ہمارے سامنے ہے،مصر،اور   بنگلہ دیش جیسے اسلامی ممالک میں مسلمانوں کی ذلت آمیز زندگی ہمارے لئے عبرت کی ایک اچھی مثال ہے، غیر مسلم دنیا کی حالت تو اس سے بھی بڑھ کر ہے ، فرانس، برطانیہ، امریکا ، اسرائیل اور کچھ دوسرے ممالک میں تو مسلمان شدید مشکلات کا شکار ہیں ، وہاں کے مسلمان تو مجبور ہیں کہ کفار کے وضع کردہ غیر اسلامی قوانین کے مطابق زندگی گذاریں، گذشتہ دنوں یہ بھی سننے میں آیا کہ ایران کے   شہر زاہدان میں ایرانی انٹیلی جنس کے اہلکار   اہل سنت مسلمانوں کے گھروں   کی بلا وجہ تلاشی کے نام پر چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کر رہے ہیں، مساجد میں لاوّڈ سپیکر کے استعمال کیلئے بھی حکومت کی اجازت طلب کرنا ضروری ہوتا ہے۔ دوسری طرف مصر میں سینکڑوں مساجد کو مختلف بہانوں کے تحت تالے لگا دئیے گئے ہیں ، بھارت کے گجرات میں تو مسلمانوں کا قتل عام روز کا معمول بن چکا ہے۔
مختصریکہ جن علاقوں میں جہاد نہیں وہاں مسلمانوں کو کفار کی طرف سے اذیتیں دی جاتی ہیں جنہیں سن کر ہی ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں   وہ علاقے جہاں مجاہدین   اور جہاد کی   صدائیں بلند ہوتی ہیں ان علاقوں کے مسلمان ایک آزاد زندگی   گذارتے ہیں، ان ممالک میں کفار کی نیندیں حرام ہوتی ہیں،افغانستان، فلپائن اور نائیجیریا اس کی اچھی مثالیں ہیں، نائیجیریا میں عیسائی طلباء کا اغوا   نہ صرف یہ کہ مناسب اقدام تھا بلکہ یہ ایک ضرورت   تھا، انہی طلباء کے اغوا سے پوری عیسائی کمیونٹی   ایک خوف میں مبتلا ہوگئی ہے، بوکوحرام کے مجاہدین امریکا اور نائیجیرین حکومت کے خلاف مزاحمت میں مصروف ہیں ، برما اور مصر میں اٹھنے والی جہادی تحریکوں نے   امریکا اور اسرائیل سمیت پوری   دنیائے کفر کے ایوانوں میں کھلبلی مچادی ہے۔
جہاد کے فضائل اور فوائد   کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، قرآن کریم میں سینکڑوں آیات   اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سینکڑوں احادیث میں جہاد کی اہمیت و فضیلت بیان ہوئی ہے۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان   امریکی ڈالرز پر ناچنے والے ایسے بہت سے افراد موجود ہیں   جو ملّا اور مفتی کے   نام پر عوام الناس   کو جہاد سے دور لے جانے کی تگ و دو میں ہیں ۔
افغانستان میں بھی امریکی جارحیت کے   ساتھ ہی   امریکی ڈالرز پر پلنے   والے نام نہاد علماء ، اینکرز اور بعض قلم فروشوں نے جہاد اور مجاہدین کے خلاف بولنا اور لکھنا شروع کیا، یہ وہ لوگ ہیں جو اس صلیبی جارحیت سے قبل امریکا کے نائٹ کلبز، ہوٹلوں اور برگر شاپس میں کا م کرتے تھے، لیکن آج یہاں تک پہنچے ہیں کہ قرآن کریم اور احادیث نبوی   کے مقابلے میں میدان میں کود پڑے ہیں ، دن رات کفار کی چاپلوسی میں مصروف ہیں، وہ   جو اپنے آپکو علماء و مفتیان گردانتے ہیں ،سیاف ، کشاف ، مجددی اور وقاد وغیرہ انہیں تو اللہ نے اس دنیا میں ہی ذلت سے دو چار کیا، کیونکہ ان لوگوں کا سابقہ جہاد بھی اللہ کی رضا کیلئے نہیں   بلکہ ذاتی مفاد   اور منصب کے حصول کیلئے تھا، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ خواہش پوری کردی [منصب کے حصول کی] لیکن اب کفار کی غلامی   نے ان کی زندگیوں کا آرام و سکون چھین لیا ہے ، لوگوں میں اپنا   مقام کھو بیٹھے اور ان کی طعن و تشنیع کا نشانہ بنے، آج اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ ان لوگوں نے بھی تو روس کے خلاف جہاد کیا تھا   لیکن امریکا کے خلاف جہاد کو دہشت گردی اور اور انتہا پسندی قرار دیتے ہیں آخر کیوں؟ سب سے بڑی وجہ اس کی یہی ہے کہ ان لوگوں کا جہاد   دنیاوی مناصب کے حصول کیلئے کیا تھا نہ کہ   اعلاء کلمۃ اللہ کیلئے اسی لئے اللہ نے انہیں   ذلت اور غلامی کے یہ مناصب عطا کر دئیے ، باقی انہی آقاوّں کے ہاتھوں ان کے گھروں پر چھاپے اور بے عزتی تو ہم سب دیکھ ہی رہے ہیں۔
جہاد اللہ تعالیٰ کی رضا، مسلمانوں کی عزت اور عظمت،   دین اسلام کے پھیلنے، کفار کی ذلت و شکست اور دنیا میں کفار کے ہر قسم کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کا ایک روشن اور منفرد راستہ ہے، اس جہاد ہی کی برکت سے دنیاکی فرعونی قوتیں منہ کے بل گری ہیں ، اور اس جہاد ہی برکت سے اسلام کا مبارک دین دنیا کے کونے کونے تک   پہنچا ہے ، آج جب ہم اس مبارک دین کے پیروکار ہیں یہ ہمارا کارنامہ نہیں بلکہ یہ اعزاز اور کارنامہ ان مجاہدین   صحابہ کرام کا ہے جنہوں نے مکہ اور مدینہ کے تپتے صحراوّں کے سفر کرکے     بے شمار مشکلات سہہ کر اپنی جانوں   کی   قربانیاں دے کر یہ دین ہم تک پہنچا یا ہے، انہیں اللہ نے ان قربانیوں کے بدلے دنیا میں ہی اپنی رضا کی خوشخبری سنا دی،   ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اس مبارک دین کے احکام   سے بھی اچھی طرح واقف نہیں ہیں عمل تو دور کی بات ہے،آج ہم مسلمان ہونے کے باوجود کفار کے سامنے بے بس ہیں ،{مٹھی بھر مجاہدین کے علاوہ}، کیونکہ ہم نے اسلام کو مسجد اور مدرسے تک محدود کر لیا ہے، یہاں تک کہ ہمارے ملک میں حالیہ دنوں میں تو جمہوری گائے نے ایسے بچے بھی جنے جو علماء اور مدارس کے پیچھے پڑ گئے ہیں،لیکن بد قسمتی   کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ ہمارے ملک میں آزادطور پر گھوم رہے ہیں   لیکن ان کے خلاف جہاد کا فتویٰ دینے والا کوئی نہیں اسی وجہ سے ہم اتنے پیچھے رہ گئے ہیں۔
جہاد سے انکار کفر، اس میں سستی کرنے والا گنہگار اور منافق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا     اپنے مبارک کلام میں یہ فرمان ہے:

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَن تُحِبُّواْ شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ وَاللّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ ۔{البقرۃ ۲۱۶}
ترجمہ: اور تم پر جنگ {جہاد} فرض کیا گیا ہے اور حال یہ   ہے کہ یہ جنگ تمھیں ناگوار لگتی ہے اور جو بات تمھیں ناگوار لگے شاید اسی میں تمھاری بھلائی ہو اور جو بات   تمھیں   اچھی لگے شاید   اس میں تیرے لئے   فساد ہو، اور اللہ عالم ہے{تیری بھلائی کے بارے میں} اور تم نہیں جانتے{اپنی بھلائی کے بارے میں}۔
مذکورہ آیت سے جہاد کی فرضیت اور فضیلت دونوں ظاہر ہوتے ہیں، اگر آج پوری دنیا کے مسلمان   متحد اور ایک آواز ہو کر عالم کفر کے خلاف   علم جہاد بلند کرتے اور کفار کے خلاف جہادی محاذوں کا رخ کرتے تو مسلمانوں کی ذلت کا یہ   حال   کبھی نہ ہوتا، اللہ تعالیٰ   ہر شخص سے عدل کا معاملہ فرماتے ہیں، ہم خود ہی اللہ کے احکامات کو پاوّں تلے روند کر اللہ کے قہر و غضب کو دعوت دیتے ہیں ۔
لوگوں کی ایک جماعت ایسی بھی ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود جہاد جیسے مقدس فریضے سے دور بھاگتی ہے،   اور پھر ایسے بے جا اور شیطانی دلائل بیان کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ، جیسا کہ آج کل کے کچھ نام نہاد مسلمان جو میڈیا کے ذریعے یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ آئیں تعلیم حاصل کریں ، تاکہ ہم ٹینک اور میزائل خود ہی بنائیں اور پھر کفار کے   ساتھ ان کی اپنی   بنائی ہوئی ٹیکنالوجی سے جہاد کریں ، حقیقت میں یہ لوگ اپنے   فرار کو جواز کی سند فراہم کرنے کیلئے نت نئے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔کیونکہ وہ جانتے   ہیں کہ عالم اسلام میں ایسے بہت سے کم ممالک ہوں گے جہاں کفار کی موجودگی یا کسی حد تک حاکمیت نہ ہو،ان کی موجودگی مستقل ہو یا عارضی   وہ کیسے مسلمانوں کے اسلحہ اور بم بنانے پر خاموش رہیں گے ، مختصریکہ اپنے ملک کے تعلیمی نصاب پر ایک نظر ڈالیں، کفار نے اس نصاب سے جہاد اور ہجرت کے تمام مضامین حذف کرلئے ہیں، فرض کریں ہم ان لوگوں کی بات مان لیتے ہیں جو تعلیم کی بات کرتے ہیں جو ٹینک اور طیارہ خود ہی بنانے کی فکر میں ہیں ۔ تو کیا ملک کا موجودہ تعلیمی نصاب اس قابل ہے کہ اس کی بنیاد پر آگے چل کر ہماری یہ نئی نسل ٹینک اور میزائل بنانے کے قابل ہوجائے گی اور پھر کفار کے خلاف   ان ہی اسلحوں سے لڑے گی؟نہیں بالکل نہیں ، موجودہ نصاب میں کھیل کود، میوزک، تفریح اور ہر شخص کے سامنے نرمی اختیار کرنے جیسے موضوعات کے علاوہ کچھ نہیں ہے اس نصاب میں عورتوں کے حقوق، ہمسایہ ممالک،اور منشیات جیسے موضاعات شامل ہیں، دل تھام کر بتائیں کہ اس نصاب سے   ٹینک اور میزائل بنانے کی توقع کی جاسکتی ہے یا   اس نصاب سے میوزک، کھیل کود اور زندگی سے گہری محبت کا محبت کا درس ملتا ہے۔
دوسری جانب   ان اسلامی ممالک کی حالت بھی ہمارے سامنے ہے جہاں حکومتیں بلا شرکتِ غیرے قائم ہیں وہاں بھی کوئی شخص تعلیم کی بنیاد پر   جدید جنگی ہتھیار نہ بنا سکا، کیا آج پوری دنیا کے یہ نہاد اسلامی افواج تقریبا اپنے تمام جنگی وسائل کفاار سے درآمد نہیں کر رہے، یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ   بندوق کا نہیں قلم کا زمانہ ہے پتہ نہیں وہ کس قسم کا نظام چاہتے ہیں؟؟ کیا عالم اسلام کی دل دہلا دینے والی حالت انہیں نظر نہیں آرہی، جو منظم حکومت ، مضبوط معیشت اور بڑی تعداد میں فوج رکھنے کے باوجود جنگی ہتھیاروں کیلئے کفار کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں؟   ایک اہم بات جو ان پروپیگنڈہ کرنے والوں کو نظر نہیں آرہی یا جان بوجھ کر اس سے چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہیں وہ ہے آزادی،   عالم اسلام کو جب تک آزادی نصیب نہیں ہوتی اس وقت   وہ فوجی اور معاشی میدان میں کفار کی مدد کے محتاج ہونگے، ہم نے   امت مسلمہ کو ان حالات سے نجات دینے کیلئے عَلم جہاد بلند کیا ہے اور تمام مسلمانوں کو اس کی بھر پور دعوت دیتے ہیں۔
ایک خوبصورت مثال ملاحظہ فرمائیں، فلسطین میں دو   بڑی جماعتیں موجود ہیں حماس اور الفتح، یہ دونوں جماعتیں ساٹھ سال کی تاریخ رکھتی ہیں الفتح کی ساری توجہ قلم اور تعلیم پر مرکوز ہے، جبکہ حماس کا موّقف یہ ہے   کہ ایک ہاتھ میں قلم اور دوسرے ہاتھ میں تلوار ہو، یاد رہے کہ الفتح کی جماعت شروع میں اسرائیل کے خلاف مسلح جہاد میں حصہ لیتی تھی لیکن آہستہ آہستہ   ان کی یہ جدوجہد امن مذاکرات اور جھوٹے وعدوں کی بھینٹ چڑھ گئی [یہاں تک کہ ایک بڑے عرصے تک حماس کے ساتھ بھی دست و گریبان رہے]،یہ بھی تعلیمی میدان میں آگئے اور آج تک پھر انہیں اسرائیل کے خلاف اسلحہ اٹھانے کی ہمت نہیں ہوئی، اور آج تک   اپنی تعلیم   کی بنیاد پر نہ کوئی بندوق تیار کرسکے اورنہ کوئی چھوٹا سا جنگی ہتھیار،اور   نہ عالمی سطح پر ایک مضبوط معیشت کے طور پر ابھرے حالانکہ   ان پر پاندیاں ہیں نہ کوئی دوسری مشکلات، لیکن اس کے مقابلے میں حماس کی جہادی تحریک   جو ہمیشہ مسلح جدوجہد میں مصروف عمل ہےآج دیکھیں کہ ان سخت اور نا مساعد حالات کے باوجود جنگی میدان میں شاندار کامیابیوں کے ساتھ تعلیمی میدان میں بھی کافی پیشرفت کر چکے ہیں، وہ اپنے میزائل خود ہی بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں جن میزائلوں نے   اسرائیل کے   تل ابیب میں آگ لگا رکھی ہے اور حماس   ڈرون طیارہ   بنانے میں بھی کامیاب ہوئی ہے، ان کی یہ پیشرفت تعلیم کا راگ الاپنے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: فقتلو أولیاءَ الشّیطن اِنّ کید الشیطن کان ضعیــفا[ النساء ۷۶]
ترجمہ:شیطان کے دوستوں [کفار اور منافقین] کو قتل کرو، بے شک شیطان کا دجل وفریب   کمزور ہے۔
یہاں کفار کے اسلحوں اور ان کے   ایجنسیوں کو شیطان   کے دجل اور فریب سے تعبیر کیا گیا ہے، سیاسی، معاشی اور ثقافتی جارحیت بھی شیطان کی چالوں میں سے ایک چال ہے، لیکن اللہ تعالیّ کا فرمان ہے کہ ان کی تمام   سازشیں اور فریب کاریاں نہایت ہی کمزور ہیں۔
بہت سے لوگوں کے نظریات مغربی میڈیا کی وجہ سے تبدیل ہوئے ہیں اور جہاد کے فلسفے اور اہمیت سے انکار کر بیٹھے ہیں ان لوگوں کے بارے میں قرآن پاک اپنے پیروں کاروں کو یہ پیغام دیتا ہے:
: ولو لا دفع اللهِ الناس بعضهم ببعضٍ لهدّمت صوامعُ و صلواتٌ و مسجد یذکر فیها اسم الله کثیرا ( الحج ۴۰]
ترجمہ: اگر اللہ پاک بعض لوگوں کو دسرے لوگوں سے دفع نہ کرتا، تو ضرور عبادت خانے، مدارس اور مساجد شہید کر دئیے جاتے ، جہاں کثرت سے اللہ کا ذکر ہوتا ہے۔
یہاں ان لوگوں کیلئے واضح جواب موجود ہے جو کہتے ہیں جہاد کس   مقصد کیلئے کیا جارہا ہے، مسلح جدوجہد کی بجائے   قلم کے ذریعے جہاد کیا جا ئے، اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جہاد کو آپ کیلئے نجات اور کامیابی کا ایک ذریعہ بنایا ہے، آج   مسلمان دنیا کے کسی حصے میں   بھی اگر آرام اور سکون سے اپنی عبادات میں مصروف ہیں تو یہ اس جہاد ہی برکت ہے، اگر جہاد نہ ہو تو مساجد شہید کر دئیے جاتے، مصر کی حالت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، جہاں مساجد کو تالے لگا دئیے گئے ہیں اور ان کی شہادت کے منصوبے بنائے جارہے ہیں، بنگلہ دیش میں بھی حالات اس سے کم نہیں، لوگو ں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے، فرانس میں مسلمان خواتین کے حجاب پہننے پر مکمل پابندی ہےبرطانیہ میں خواتین کا گھر سے اسلامی لباس میں باہر نکلنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے، چین میں روزہ رکھنے پر پابندی لگا دی گئی ہے، کیوں؟؟ کیوں کہ ان ممالک میں جہاد نہیں ہے۔
ایک آخری بات عرض ہے کہ:
عالم اسلام کا موجودہ دگرگوں حالت سے نجات کا   واحد ذریعہ مسلح جہاد ہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،جب تک امتِ مسلمہ کے نوجوان جہادی محاذوں کا رخ نہیں کرتے، اس وقت تک کفار   کے مظالم   اور وحشتیں سہتے رہیں گے۔

مکمل تحریر  »

توحید العملی ـــــــــــــــ شیخ عبداللہ عزام شہید رحمہ اللہ



توحید العملی
شیخ عبداللہ عزام شہید رحمہ اللہ
کے بیان کا اردو ترجمہ




افغانستان میں رہتے ہوئے ، میں یہ جان پایا ہوں کہ توحید (اُس طرح) انسان کی روح پر اثر نہیں کر سکتی، نہ ہی اِسے مضبوط بناتی ہے (کہ) جیسا یہ میدانِ جہاد میں کرتی ہے۔
یہ(وہ)توحید ہے کہ جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مجھے قیامت تک کے لیے تلوار کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے …… ‘‘
کیوں؟
’’ ……یہاں تک کہ اللہ وحدہ، لاشریک کی عبادت کی جانے لگے‘‘ [1]
لہٰذا، اِس دنیا میں توحید کا نفاذ تلوار سے کیا جاتا ہے…… کتابیں پڑھنے سے نہیں، نہ عقیدے کی کتابوں کا (صرف) مطالعہ کرنے سے۔  بے شک، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہمیں توحید الوہیت(توحید العبادت) کی تعلیم دی -  کہ جس کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا، تاکہ لوگوں میں اور اِس دنیا پر توحید الوہیت کا نفاذ ہو سکے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہمیں (یہ) تعلیم دی کہ اِس توحید کو (اِس کے)سبق پڑھنے سے نہیں سیکھا جا سکتا ……  ہر گز نہیں، بلکہ اِس (توحید) کو صرف میدانِ کارزار میں دشمن کا مقابلہ کرنے،اور طاغوت کے سامنے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کے نتیجے میں ظہور پذیر ہونے والے واقعات، (اور) وہ قربانیاں جو اِنسان پیش کرتا ہے کہ ذریعے ہی نفس میں اُبھارا اور پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔  جب بھی اِنسان دین کے لیے کچھ قربان کریگا، یہ دین اپنی پُر اسرار خوبصورتیوں کو اُس کے لیے کھول دیگا، اور اُس کے لیے اپنے خزانوں سے پردے اُٹھا لے گا۔
اور اِسے اِس گفتگو میں بیان کرنا مناسب رہے گا کہ اُن میں سے چند لوگ جو توحید کی حقیقت اور فطرت کو نہیں سمجھتے ، وہ الزام دیتے ہیں اِن لوگوں (یعنی افغان) کو کہ جن کے ذریعے اللہ نے مسلمانوں کو عزت بخشی، کہ جن کے ذریعے اللہ نے دنیا میں ہر مسلمان کی اہمیت کو اُجاگر کیا، کہ جن کے ذریعے سے اِسلام اتاہ گہرائیوں سے نکل کر بلند ہوا، اور(جنہوں نے اِسے)بین الاقوامی پلیٹ فام پرلا کھڑا کیا،(یہ) اُن طاقتوں سے مدِّمقابل ہیں کہ جنہیں لوگ آج کی دنیا میں ’سُپر پاؤر‘ کہتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے اسلام کو رُعب ، دبدبہ، دہشت اور عزت لوٹا دی، جو جہاد کی عدم موجودگی سے غائب ہو گئی تھی……
’’ ……اللہ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں ’’وَھن‘‘ ڈال دے گا‘‘ پوچھنے والے نے پوچھا ’’اے اللہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وَھن سے کیا مراد ہے‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دنیا کی محبت اور موت کی کراہت‘‘ [2]
اور یہ دہشت اور دبدبہ جو دشمنوں کو ہم میں محسوس کرنا چاہیے، ہم میں کبھی نہیں لوٹ سکتا، سوائے تلوار سے،لڑ کر اور قتال کے ذریعے۔
تو جیسا کہ میں کہہ رہا تھا کہ کچھ لوگوں نے اِس توحید کی اصل فطرت کو نہیں سمجھا ہے - اُنہوں نے اِس سے متعلق کچھ باتیں پڑھ لی ہیں، اور اب یہ کہنا شروع کر دیا کہ: ’’افغان کے عقیدے میں شرک، بدعت اور کچھ اِس جیسی چیزیں شامل ہیں‘‘
اور ہم میں سے چند نے اُن سے یہ کہا :’’تمہارے عقیدے میں کچھ مسائل ہیں
پناہ مانگتے ہیں ہم اللہ کی اِس بے بنیاد بہتان سے!
شرک کے شعلے گہرے سُرخ رنگ کی بارش[3] کے بغیر نہیں بُجھ سکتے
اور کیا توحید کو سفید تیز دھار[4] کے بغیر نافذ کیا جا سکتا ہے ؟
اے عورتوں کی طرح بیٹھ رہنے والو ! اطمینان رکھو، کیونکہ مسئلہ تو تمہاری بینائی میں ہے‘‘
وہ جو حقیقتاً یہ سمجھتے ہیں کہ توحید اصل میں کیا ہے……توحیدِ عملی کیا ہے؛ (جو کہ) توحید الوہیت……صرف اللہ پر توکّل کرنا، صرف اللہ سے ڈرنا،صرف اللہ کی عبادت کرنا (ہے)۔  اِسے محض کسی کتاب سے چند جملے پڑھ لینے سے سمجھا نہیں جا سکتا۔ ہاں!، توحید الربوبیت(کہ جسے قریش کے مشرکین بھی پہچانتے تھے [5]) کو ایک آدھ لیکچر سننے سے سمجھا جا سکتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ : بے شک اللہ کا ہاتھ ہے، جو ہمارے ہاتھوں جیسا نہیں۔ اور ہم اِسے اسماء و صفات کے اصولوں سے سمجھتے ہیں - کہ ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ اللہ (عز و جل) ہی کے لیے خوبصورت نام ہیں اور اعلیٰ صفات ہیں کہ جس کا اعلان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا صحیح احادیث میں اور (یہی اعلان ہے) قرآن میں بھی۔اور ہم اِس سب کا دعویٰ کرتے ہیں بغیر کسی تاویل، تحریف، تکذیب، تشبیہ اور تمثیل کے۔اور ہم کہتے ہیں:’’اللہ عرش پر مستوی ہوا‘‘، ہم یہ نہیں کہتے کہ اُس نے اِسے زیر کیا۔ اور مستوی ہونا وہ عمل ہے جو معلوم ہے، مگر ’’کس انداز میں‘‘ یہ نامعلوم ہے، اور اِسے (اِسی طرح)ماننا لازم ہے، اور اِس کے متعلق پوچھنا بدعت ہے۔
تو یہ وہ ہے جسے ہم میں سے ہر کوئی یاد رکھتا ہے، آپ نے (بھی) اِسے یاد کر رکھا ہے، صحیح! یا نہیں! یہ ایک آسان چیز ہے - پتا ہے کیوں؟کیونکہ یہ ایمان کا نظریاتی پہلو ہے(جسے عمل کی ضرورت نہیں ہوتی)……  یہ جاننے اور اُس کی توثیق کرنے کا معاملہ ہے۔ اور کبھی بھی کوئی نبی اِس مقصد کے لیے نہیں بھیجا گیا ۔  بلکہ جس واحد مقصدکے لیےاُنہیں بھیجا گیا[6] وہ توحید الوہیت کا نفاذ تھا، توحیدِ عملی کا۔ ایمان لانا اللہ پر - اور میری اِس سے مراد اللہ پر مستحکم اور مخلص اعتماد - (ایمان) کہ فی الحقیقت وہی خالق ہے، وہی رازق ہے، وہی عطا کرنے والا ہے، وہی زندگی اور موت دینے والا ہے (اور اِس ایمان و یقین کا زندگی میں اپنے عمل کے ذریعے عیاں ہونا)……یہ محض کوئی نظریاتی ایمان نہیں ہے ، وہ تو توحید الربوبیت ہے۔ بلکہ توحید الوہیت کا اِظہار تو زندگی میں عملی قدم اُٹھانے سے ہے۔۔۔ اور توحید الوہیت کے عقیدے کو اِنسان کی روح میں قائم نہیں کیا جا سکتا - خصوصاً اللہ پر توکّل کرنا رزق کے معاملے میں ، (موت کے) وقت کے تعین کے معاملے میں، رتبے اور درجات کے معاملے میں۔ انسان صرف توحید سے اس (توکّل) کو قائم نہیں کر سکتا، سوائے جب وہ اِن لمبے (جنگوں کے) احوال سے گزرے، اور اِس لمبے سفر سے گزرے، اور عظیم قربانیوں سے - صرف تب جا کر یہ روح میں رچنا شروع ہو گی، دن بہ دن، ایک اِینٹ کے بعد دوسری اِینٹ؛ اور پھر، توحید کی عمارت بندے کی رُوح میں بلند ہو پائے گی۔
میں تم سے پوچھتا ہوں: کون توحید کو بہتر سمجھتا ہے، وہ بوڑھا آدمی ……(ہمارے) ساتھیوں نے مجھے بتایا کہ : ایک دن ، ہم پر طیارے بمباری کر رہے تھے، اور ہم سارے چھُپ گئے ، سوائے ایک بوڑھے آدمی کے کہ جس کا نام محمد عمر تھا، اُس نے طیارے کو دیکھا کہ جب وہ مجاہدین پر بمباری کر رہا تھا، اور اُس نے کہا، ’’ اے پروردگار! بڑا کون ہے؟ تُو یا یہ جہاز؟ کون زیادہ برتر و بالا ہے ؟ تُو یا یہ جہاز؟ کیا تُو اپنے اِن بندوں کو اِس جہاز کے رحم و کرم پہ چھوڑ دے گا؟‘‘ اور اُس نے اپنے دونوں ہاتھ اِس طرح آسمان کی طرف بلند کیے اور اللہ(عز و جل) کو پکارا اپنی فطرت سے۔ابھی اُس کے الفاظ ہی ختم نہیں ہوئے تھے کہ جہاز گِر گیا، حالانکہ کسی نے اُسے نشانہ بھی نہیں بنایا تھا۔ اور کابُل ریڈیو سٹیشن نے یہ خبر نشر کی کہ جو جہاز گِرا ہے اُس میں ایک رُوسی جرنیل موجود تھا۔
تو یہ (توحید)ایک عقیدہ ہے ……اِنسانی رُوح کی خوف سے آزادی.  موت کے اور منصب کے خوف سے۔
اور یہ شیخ تمیم العدنانی ہیں ہم میں سے……اور شیخ تمیم العدنانی، ۱۴۰۶ھ میں رمضان کی ۳۰ تاریخ کو ، جب رُوسیوں نے تین حصوں میں بٹ کر مشترکہ آپریشن شروع کیا -  یعنی ۳۰۰۰۰(فوجی) جنہیں ٹینکوں ،(جنگی) جہازوں اور میزائیل لانچروں کی مدد حاصل ہو……ایک لانچر میں ایک وقت میں ۱۴ میزائیل ڈالے جا سکیں اور ساروں کو ایک ہی وقت میں داغا جا سکے……(ذرا تصور کیجئے)۴۱ میزائیل آپ کی طرف آ رہے ہوں، (اور) آپ کے پیروں تلے موجود پہاڑ کو لرزہ دیں……(اور ساتھ اِن کے)مارٹر، مشین گنیں اور بھاری توپ خانہ ……( اور) پانچ رُوسی فوجی دستے ، کہ جن میں سے ایک خصوصی دستہ- جو کہ بہت پُھرتیلی پلٹن ہے - جسے ’رُوسی بجلی‘ کا نام دیا گیا ہے۔
اور شیخ تمیم اُس لڑائی میں(شریک) تھے……اور شیخ تمیم کا وزن ۱۴۰ کلو گرام ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب شیخ کسی پر برہم ہوتے ہیں تو کہتے ہیں :’’میں تم پر بیٹھ جاؤں گا،‘‘ اور بس یہی، اور اِس کا مطلب ہے کہ وہ تمہیں مارنے والے ہیں!
تو (اُس لڑائی میں،) شیخ تمیم ایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے اور کہہ رہے تھے :’’ اے موت دینے والے ! رمضان کی آخری تاریخ کو شہادت نصیب کر،‘‘ اور وہ رمضان کی ۳۰ تاریخ تھی ، آخری دن(مہینے کا)……تو اُنہوں نے قرآن کی تلاوت شروع کر دی……اور اُنہوں نے پہلے جُزء کی تلاوت مکمل کر لی جبکہ گولیاں اُن کے چہرے کے سامنے اور کانوں کے نزدیک سے گزرتی رہیں؛ کوئی بھی یہ یقین نہیں کر پائے گا کہ وہ ابھی بھی درخت کے نیچے زندہ موجود تھے، جبکہ طیارے بم برسا رہے تھے، اور دشمن کے مارٹر گولے اور میزائیل اُن کی طرف داغے جا رہے تھے۔  (اور) درخت، وہ تو مکمل جل رہا تھا……آپ اپنے ساتھ بیٹھے ساتھی سے پورا جملہ بھی ادا نہیں کر سکتے تھے۔ اگر آپ کو کہنا ہو : ’’ کیا تمہارے پاس گولیاں ہیں؟‘‘ - تو جب آپ کہہ رہے ہوں ، ’’کیاتمہارے پاس،‘‘ تو آپ راکٹ یا مارٹر یا بم کے اپنے پر برسنے کی وجہ سے اگلا لفظ ہی ادا نہیں کر پائیں گے - اور آپ کا جملہ کبھی مکمل نہیں ہو پائے گا(یہ تھی حالات کی شدّت)۔  ہر مرتبہ جب بھی شیخ تمیم کسی ایسی آیت پر پہنچتے جس میں جنت کا ذکر ہوتا جیسے:
أولئک أصحاب الجنّة ھم فیھا خالدون
’’وہی جنتی ہیں، وہ اِس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ [7]
تو آپ اُسے دُہراتے، اور پھر دُہراتے،یہ کہتے ہوئے کہ:’’شاید کوئی گولی مجھ سے جنت لیے ٹکرا جائے‘‘۔
أولئک أصحاب الجنّة ھم فیھا خالدون
’’وہی جنتی ہیں، وہ اِس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ [8]
تو اِس طرح سے اُنہوں نے اپنا پہلا جُزء ختم کیا، اور پھر دوسرا جزء……اور جب وہ کسی ایسی آیت پر پہنچتے جس میں آگ کا ذِکر ہوتا تو وہ اُس کو پڑھنے میں جلدی کرتے کہ کہیں گولی اُنہیں آگ کے متعلق اِس آیت پر نہ چُھو لے……پس(اِسی طرح)اُنہوں نے تیسرا جزء مکمل کیا، اور پھر چوتھا جزء، اور پھر پانچواں جزء……اور یہ سب کچھ ہوا اُس حواس باختہ دباؤ والے حالات و کیفیت کے دوران کہ جو آپ کو آپ کا نام ہی بھُلادے……
واللہ اے میرے بھائیو!ہمیں سب سے زیادہ مشکل استنجاء کے دوران تھی، کیونکہ کسی کے لیے بھی یہ سوچنا محال تھا کہ وہ استنجاء کے لیے جائے اور پھر بھی زندہ رہ جائے ، اُسے یہ ڈر تھا کہ وہ استنجاء کے دوران ہی شہید کر دیا جائے گا……یہ ہم پر ایک بوجھ تھا……
تو پھر، شیخ نے کہا : ’’ اے اللہ! اگر شہادت نہیں، تو کم از کم ایک زخم تو دے!‘‘ چھ منٹ گزر گئے، سات منٹ……حتیٰ کہ چار گھنٹے بیت گئے ، جبکہ وہ اُسی بمباری تلے بیٹھے رہے ، جیسے کہ کوئی بارش ہو رہی ہو……  شیخ تمیم کہتے ہیں کہ :’’اُس دن کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ کوئی موت نہیں اور نہ کوئی مَر سکتا سوائے ربّ العالمین کی طرف سے طے شدہ وقت پر۔اور نہ چونکا دینے والے جوکھم پہلے سے متعین وقت کو قریب کر سکتے ہیں اور نہ بچاؤ اور حفاظت موت کو تم سے دُور۔‘‘
یہ وہ ہے جو اُنہوں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے فتاویٰ میں پڑھا……اُنہوں نے یہ النّووی کے المجموع میں نہیں پڑھا، نہ ہی ابن عابدین کے حاشیہ میں اور نہ ہی ابن القیم کی کتابوں میں……اُنہوں نے یہ اُن سے( یعنی ابن تیمیہ سے)پڑھا کہ جن کی رَگیں جلتی رہِیں، کہ جن کے نفس کو ’تورپیڈو‘ تلے روندھ دیا گیا [9]…… (یہ ہے)عقیدۂ توحید ……موت اوررِزق کی بے خَوفی کا……
آپ دیکھتے ہو کہ ایک شخص معمول کی زندگی گزار رہا ہے، تو اگر اُسے یہ کہا جائے کہ :’’ اِنٹیلی جنس والے تمہارے گھر آئے تھے،‘‘ - (تو) وہ، واللہ اعلم، سکتہ میں چلا جائے گا۔ یا آپ اُسے یہ کہیں کہ:’’ میں نے(سی آئی اے کے) ایجنٹوں کو تمہارے گھر کے دروازے پر دیکھا تھا،‘‘ - بس اتنا کہنا ہی کافی ہے ……اور پورا ہفتہ نہ وہ سو پائے گا نہ آرام کر پائے گا، اگر اُس سے پورے ہفتے کی نمازِ فجر بھی چُھوٹ جائے! وہ اللہ سے اِتنا خوف نہیں کھا سکتا جتنا وہ اِس بات سے کھاتا ہے کہ ’’ میں نے ایجنٹوں کو تمہارے گھر کے دروازے پر دیکھا تھا……‘‘  تو وہ ایجنٹوں سے اِتنا خوف کیوں کھاتا ہے؟ کیونکہ اُسے اپنے رِزق کا ڈر ہے ، یا اُس کے موت کے وقت(کے آنے )کا۔ کیا اور کوئی وجہ بھی ہے؟ ہر گز نہیں……یہ یا تو موت کا خوف ہے ، یا پھر رزق کے چھِن جانے کا۔اِنسانی ذہن میں موجود یہ فکر ایک خوف سے مفلوج کر دینے والا سایہ بن گئی ہے جو اُن کے بستروں تک اُنہیں جکڑے ہوئے ہے کہ جو اُنہیں (بستروں پر) اپنی پلکیں بھی جھپکانے نہیں دیتی۔
لیکن اگر تم اپنی زندگی اور رِزق کا خوف نہ کرتے، تو تمہیں اِن دونوں کا ڈر نہ ہوتا۔ جیسے، کہ اگرتمہیں ابھی یہ کہا جاتاکہ :’’رُوسی اِنٹیلی جنس تمہارے درپے ہے‘‘ - کیا یہ تم پر اثر اندا ز ہوتا؟ یہاں تک کہ افریقی اِنٹیلی جنس تک تمہیں خوف میں مبتلا کر سکتی ہے، کیونکہ اُن کے پاس ایسے راستے موجود ہیں جن سے وہ تمہارے گھر تک پہنچ جائیں (مصر، الجیریا اور سوڈان وغیرہ میں)، تو تم پھر بھی خوف زدہ ہو گے۔ لہٰذا جہاد ہی کو ہم اِس بیماری کے واحد علاج کے طور پر دیکھتے ہیں ……(یعنی)ایجنٹوں سے خوف کی بیماری ، (موت کے)متعین وقت سے خوف کی بیماری،(اور)رِزق کے خوف کی۔
سب سے بیش قیمت شے جو انسان کے پاس ہے وہ رُوح ہے……اور جب آپ اپنی رُوح اپنی ہتھیلی پر لیے ، دن رات اللہ سے اِسے قبول کرنے کا سوال کرتے ہو ، تا کہ وہ اِسے پاک کر دے اگر وہ اِسے قبول کر لے……(اور) غمگین ہو جاتے ہو جب ربّ العالمین اِسے نہیں چُنتا : تو اِس سب کے بعد تمہیں اللہ کے علاوہ کس کا خوف رہ جاتا ہے؟
’’جب ایک جوان آدمی تباہ کُن معرکوں میں کُود پڑنے کا عادی ہوجائےتو سب سے آسان شے گزرنے کو کیچڑ ہی ہے‘‘
وہ جو روزانہ موت کا سامنا کرتا ہو - بھلا کیچڑ بھی اُس کا کچھ بگاڑ سکتا ہے ؟ ! سب سے کم تکلیف اُسے اگر کہیں سے گزرنے پر اُٹھانی پڑے تو وہ کیچڑ ہی ہو گا۔ لہٰذا اب آپ جان گئے ہیں کہ توحید ،جسے انسان کی رُوح میں آباد ہونا ہے، انسان کی رُوح تک نہیں لے جائی جا سکتی - یعنی اِسے رُوح کی بنیادوں تک نہیں پہنچایا جا سکتا- ماسوائے جہاد کے ذریعے۔
اور یہ ایک بنیادی اصول ہے کہ دین کے علم کو جہاد کے بغیر نہیں حاصل کیا جا سکتا، اور یہی وجہ ہے کہ اللہ (عز و جل) نے فرمایا:
فلولا نفر من کلّ فرقة منھم طائفة لیتفقّھوا فی الدّین
’’ پھر ہر فرقے میں سے ایک گروہ دین میں سمجھ حاصل کرنے کے لیے کیوں نہ نکلا‘ تاکہ وہ جب اپنے قبیلے میں واپس جائیں تو انہیں خبردار کریں‘ تاکہ وہ (پیچھے والے بھی اللہ سے) ڈریں‘‘(التوبۃ: ۱۲۲)
’’ایک گروہ دین میں سمجھ حاصل کرنے کے لئے کیوں نہ نکلا، تاکہ وہ جب اپنے قبیلے میں۔۔۔ ‘‘ والے حصے میں لفظ ’’وہ‘‘ دین کا علم حاصل کرنے کے لیے جانے والوں کی طرف اشارہ ہے…… کچھ علماء نے دوسری رائے اختیار کی ہے اور کہا ہے کہ :’’ بلکہ، جو پیچھے بیٹھے ہیں، وہ ہیں جو دین کا علم حاصل کرتے ہیں۔‘‘  لیکن وہ رائے جسے زیادہ صحیح قرار دیا ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ  نے ، اور الطبری نے، اور سید قطب نے- وہ یہ ہے کہ وہ گروہ جو اللہ کی راہ میں نکلتا ہے ، وہی ہے جو دین کا علم حاصل کرتا ہے.  اور وہی ہیں جو اِس کی پوشیدہ خوبصورتیوں کو جان پاتے ہیں، اور دین اپنے جواہرات اُن کو سامنے کھول دیتا ہے۔
سید قطب رحمہ اللہ کہتے ہیں:
بلا شبہ، یہ دین اپنی پوشیدہ خوبصورتیوں کو اُس سکون میں بیٹھ رہنے والے ’فقیہ‘ پر ظاہر نہیں کرتا کہ جو اِس دین کو دنیا پر نافذ کرنے کے لیے کوشش نہیں کرتا۔ یہ دین کوئی کیک نہیں ہے کہ جسے آپ دماغ کے سرد خانے میں ٹھنڈا کر سکیں۔ بلکہ اِس دین کو حلقۂ زندگی میں واپس لانے کی جد و جہد اور اِس کے معاشرے کے قیام کی کوششوں سے ہی سمجھا جا سکتا ہے۔
ہاں……یہ دین……تم اِسے نہیں حاصل کر سکو گے سوائے کہ تم اِس کی خاطر کچھ وقف کرو۔ اِس کی خاطر کچھ دو، تب یہ تمہیں کچھ دے گا……یہی ’’لینے دینے‘‘ کا اصول ہے……قربانی دو! پھر سارے جہانوں کا رب تمہارے لیے دروازے کھول دے گا……اِس دین کی خاطر قربانیاں دو - اللہ (سبحانہ و تعالیٰ) تمہیں اپنی آیات کا علم دے گا تمہیں حدیث کا علم دے گا۔  یہ ایک عام اصول ہے کہ آپ کئی آیات کو نہیں سمجھ پائیں گے ، جب تک کہ وہ ایک حقیقت نہ ہو جس سے آپ گزر رہے ہوں- جہاد کی حقیقت۔   یقینا (ایسا ہی ہے)، مثلاً ، سورۂ التوبہ……سورۂ انفال ……سورۂ آلِ عمران……یہ سب سورتیں۔ تم کیسے اِن سورتوں کو اِس جہاد میں وقت کھپانے کے بغیر سمجھ سکتے ہو؟ تم اِنہیں کیسے سمجھو گے؟ کیا اِنہیں سمجھنا ممکن ہے؟
اور یہاں سے ہمیں حاصل ہوتا ہے جہاد کے فائدوں میں سے پہلا فائدہ: انسانی نفس کی آزادی، توحید الوہیت کا نفاذ- یعنی توحید العبادت، توحیدِ عملی…… دل اور رُوح میں اِس کا نفاذ، یہاں تک کہ آدمی اللہ کی طرف رجوع کر لے، کہ جیسے یہ اُسے دیکھ رہا ہو……اپنے رب کی غیبی صفات کو سمجھتے ہوئے، کہ وہ قریب ہے۔
(ایک قصبے)ارسلان کو ٹینکوں نے ہر سِمت سے گھیر رکھا تھا ، اور وہاں پر مجاہدین کا چھوٹا سا گروہ تھا جو سامانِ جنگ کے ذخیرے کی حفاظت کر رہا تھے جیسا کہ ٹینک نزدیک ہوتے جا رہے تھے، اور وہ (رُوسی) اُنہیں زندہ پکڑنا چاہتے تھے، اور اُن مجاہدین کے پاس کچھ نہ تھا سوائے اللہ کے ……( تو اُنہوں نے کہا :) ’’اے اللہ! ہمارے خلاف کسی ایک کافر کو بھی راستہ مت دیجیو‘‘ - پھر اچانک لڑائی نے اپنا رُخ بدل لیا ، (لڑائی) ٹینکوں کے خلاف (ہو گئی)، آوازیں سنی گئیں، مگر علاقے میں کوئی بھی نظر نہ آتا تھا، اور اُس میدان میں اُن بھائیوں کے چھوٹے سے گروہ کے علاوہ کوئی نہ تھا ……ٹینک آگ میں جل کرجھلس گئے اور رُوسی فوجیوں نے پسپائی اِختیار کر لی……(جبکہ) اُن پر ایک بھی گولی نہیں چلائی گئی تھی۔ بھلا کیسے وہ جو اِن سب سے گزرے ہوں، ربّ العالمین پر یقین نہ کریں؟
واذا سألک عبادی عنّی فانّی قریب أجیب دعوة الدّاع اذا دعان
’’ اور (اے نبی!) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بیشک میں قریب ہوں، میں دُعا کرنے والے کی دُعا قبول کرتا ہوں‘ جب بھی وہ مجھ سے دُعا کرے‘‘![10] 
……شیخ جلال الدین حقانی کہتے ہیں کہ:’’ جہاد کے پہلے سال میں ، لوگ ہم تک پہنچنے کے قابل نہ تھے۔ ہم تعداد میں تھوڑے تھے، اور ہم پہاڑ کی چوٹی پر تھے؛ کوئی ہمارے قریب نہیں آ سکتا تھا ، کوئی ہمیں مدد دینے کے قابل نہ تھا……ہم چائے بنانے کے لیے آگ بھی نہیں جلا سکتے تھے ، کہ کہیں دھواں نہ بلند ہو جائے(اور دشمن کو ہماری جگہ معلوم ہو جائے)……اور یہ اِس حد تک تھا کہ حکومت تک نہیں جانتی تھی کہ ہم کہاں ہیں……اور زمین ہم پر تنگ ہوتی جا رہی تھی……راشن ختم ہو گیا تھا ……اگر آپ بیمار ہو جائیں، آپ صبر سے برداشت کر سکتے ہیں……درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے گِر جائے، آپ وہ بھی صبر سے جھیل لیں گے ……مگر بھُوک،پھر کہاں جائیں گے؟ اُس کو کیسے برداشت کریں گے؟ آپ کچھ کھائے بناءکیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟ میں نے نمازِ فجر ادا کی ، اور جائے نماز پر تنگی کی حالت میں بیٹھ گیا ، اور مجھ پر سُستی اور غنودگی غالب آ رہی تھی. اور پھر اچانک پیچھے سے کسی نے میرے کندھے کو جھنجوڑا، وہ جائے نماز پر جلسہ کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا ، (اور اُس نے مجھ سے کہا:) ’’ اے جلال الدین! تیرا رب تجھے ۳۰ سال تک کھاتا پلاتا رہا اور تُو نے اُس کی راہ میں جہاد نہ کیا - تو اگر وہ تجھے بُھلا دے ، تو کیا تب تُو اُس کی راہ میں جہاد کرے گا؟!‘‘
اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے ایک مصری بھائی جو ہمارے ساتھ تھے ، اُن سے اُن کی بیوی نے پوچھا (افغانستان میں مجاہدین سے آ ملنے سے پہلے) کہ:’’ آپ کہاں کام کرو گے؟‘‘ اُنہوں نے اُسے بتایا کہ ’’ میں براہِ راست ربّ العالمین کے ادارے میں کام کرنے جا رہا ہوں‘‘ اور اُنہوں نے کہا: ’’ فلاں شخص فلاں بزنس کمپنی کی ماتحتی میں کام کرتا ہے، اور فلاں شخص فلاں گورنر کے لیے کام کرتا ہے……اور میں براہِ راست ربّ العالمین کے لیے کام کروں گا ۔کون ہے مجھ سے بہتر !؟ کون مجھ سے اعلیٰ(مقام والا)ہے؟! کس کی زندگی اِس زندگی سے زیادہ با عزت ہے!؟‘‘
اور یہاں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات حقیقت میں کتنی صحیح (ثابت ہوتی)ہے، کہ جب اُنہوں نے کہا
’’ لوگوں میں سے بہترین زندگی والا شخص وہ ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام کو اللہ کی راہ میں تھامے ہوئے ہے۔ جب بھی کسی شور و شغب یا گھبراہٹ کی آواز سنتا ہے تو اس کی پیٹھ پر اڑ کر پہنچتا ہے وہ قتل اور موت کو موت کی گھاٹیوں سے تلاش کرتا ہے‘‘ [11]
لہٰذا : پہلا لازمی عمل توحید ہے- اللہ (عز و جل) کو ایک ماننا: توحید العبادت؛ اور اللہ پر ایمان لانا اُس کے نام اور صفات کی مطابقت سے؛ اللطیف پر یقین رکھنا اُس کے مطابق جیسے وہ(عز و جل) خلیق اور مہربان ہے؛ القریب پر یقین رکھنا اُس کے مطابق جیسے وہ قریب ہے؛ اور السّمیع پر یقین رکھنا اُس کے مطابق جیسے وہ سنتا ہے - وغیرہ وغیرہ
دوم، لوگوں کے دلوں میں عزت و وقار کی افزائش(یعنی عزت و وقار کو بڑھانا اور بلند کرنا)۔ اور یہ اِس لئے کہ ذلّت اور شکست خوف ہی کا نتیجہ ہیں. اور جرأت اور بہادری سے عزت اور وقار لوٹتا ہے۔ مگر مال، منصب اور اِس زندگی کا خوف - ذلت اور غلامی کا سبب بنتا ہے؛ اور اِس سب سے اپنے آپ کو آزاد کرنے سے ، عزت کا ثمر حاصل ہوتا ہے۔
عزت تو گھوڑوں کی سخت پِیٹھوں پر ہے
اور وقار تو بے آرام راتوں اور شبانہ سفر کی کوک سے جنم لیتا ہے


[1] مسند احمد :۲/۵۰ ،کتاب مسند المکثرین من الصحابة ، باب مسند عبداللّہ بن عمر.

[2] (أبوداود ، کتاب الملاحم، باب فی تداعی الامم علی الاسلام، ح ۴۲۹۷)
[3] یعنی:خون
[4] یعنی:تلوار
[5] دیکھئے العنکبوت: ۶۳-۶۱، لقمان: ۲۵، الزمر:۳۸، الزخرف: ۹، ۷۸، یوسف: ۱۰۶، اور دیکھئے تفسیر الطبری: ۱۲-۱۱/۲۱، تفسیر القرطبی: ۳۱۶/۱۳، تفسیر ابن کثیر: ۳۰۱/۶
[6] حوالاجات اور تفصیل کے لیے دیکھئے محمد بن عبد الوھاب کی کتاب التوحید

[7] البقرۃ :۸۲۱
[8] البقرۃ :۸۲۱
[9] شیخ یہاں پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا موازنہ اِن دیگر اِماموں سے کر رہے ہیں، کیونکہ ابن تیمیہ اُن میں موازنہ سے منفرد ہیں، اور بلاشبہ،دیگر مذکورہ اماموں سے مختلف، ابن تیمیہ اُن اِماموں میں سے ہیں جنہوں نے کفار کے خلاف علمِ جہاد بلند کیا ، اور وہ دشمن کے عقوبت خانوں میں رہے اور بہت سی صعوبتیں برداشت کیں۔اور یہی وجہ ہے کہ ابن تیمیہ کے الفاظ میں جو حکمت اور پوشیدہ خوبصورتی ہے وہ اُن اماموں کی باتوں میں نظر نہیں آتی جو اِس طرح کی مصیبتوں اور مشکلات سے نہیں گزرے۔ شیخ عبداللہ عزام اِس نقطے کو واضح کر رہے ہیں ، کہ کیسے اللہ کی راہ میں جہاد اور پیش آنے والی مشکلات و مصیبتیں ، دین کی حکمت اور علم کے خزانوں کو ایک مجاہد کے لیے کھول دیتی ہیں۔اور اِسی طرح شیخ ابن تیمیہ کہتے ہیں ’’ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور امام عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ اور دیگر علماء فرماتے ہیں کہ جب لوگوں کے درمیان کسی بات میں اِختلافِ رائے پیدا ہو جائے تو دیکھو کہ محاذوں والے کس طرف ہیں کیونکہ بیشک حق اُن کے ساتھ ہے، اس لیے کہ اللہ فرماتا ہے :’’اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا ہم ضرور بالضرور اُن کو اپنے راستوں کی ہدایت دیں گے‘‘ العنکبوت: ۶۹۔ ‘‘ (فتاویٰ لابن تیمیہ: ۴۴۲/۲۸)
[10] البقرۃ: ۱۸۶
[11] صحیح مسلم ، کتاب الامارۃ ، باب فضل الجہاد و الرباط ، ح ۱۸۸۹

مکمل تحریر  »

يا حي يا قيّوم برحمتك أستغيث

بسم الله الرحمن الرحیم
الحمدالله رب العالمین حمدا کثیرا طیبا مبارکا فيه ، واشهد ان لااله الا الله وحدہ لا شریک له واشهد ان محمدا عبدہ ورسوله اما بعد !
ہمارے نبی کریم اپنے دن کا آغاز دعا سے کرتے، اپنے دن کا اختتام بھی دعا پر کرتے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم
اور جو دعائیں ہمیں آنی چاہئیے ہیں اور جن کے ساتھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دن کا آغاز کرتے جو صبح وشام کے اذکار ہیں ان میں ایک یہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے:
يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث أصلح لي شأني كله ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين لا إله إلا أنت
ترجمہ: اے زندہ اے قائم رکھنے والے میں تیری رحمت کے واسطے سے فریاد کرتا ہوں ،تو میری ساری حالت سنوار دے اور پلک جھپکنے برابر بھی مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر۔
جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دن کا آغاز دعا کے ذریعے کیا اسی طرح ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنا دن دعا سے شروع کرے اور دعا پرہی اپنا دن ختم کرے ،اسکی پوری زندگی دعا ہو،وہ پوری زندگی اپنے رب سبحانہ تعالی کے ساتھہ وابستہ رہے کیونکہ اللہ کے بغیر انسان کچھ نہیں لہذا اللہ کے ساتھ اسکا تعلق ضروری ہے،ضروری ہے کہ وہ اللہ پر توکل رکھے ضروری ہے کہ وہ اپنے تمام امور واحوال میں اللہ سبحانہ تعالی سے مدد مانگے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعا کا آغاز اللہ سبحانہ وتعالی کے ناموں میں سے دوناموں کے ذریعے کیا )يا حي, يا قيوم( بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا "اسم اعظم" ہے (الحیّ۔زندہ) یعنی جسے حیات کاملہ حاصل ہو چنانچہ اللہ سبحانہ تعالی کی حیات کامل ہے اللہ سبحانہ تعالی کی حیات ہماری حیات جیسی نہیں اسکی حیات سے قبل "عدم " نہیں نہ ہی اسکی حیات کے بعد )زوال( ہے اسکے برعکس انسان کی حیات سے پہلے )عدم( ہے اور اسکے بعد )زوال( ہے اللہ جل و علیٰ کی حیات میں نقص یا خلل یا عیب نہیں درآسکتا ۔
لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ
ترجمہ: اسے اونگھ یا نیند نہیں آتی۔
اسکے برعکس انسان کو اسکی حیات میں نقص اور کمزوری اور بے بسی اور بہت سے عیوب کا سامنا ہوتا ہے۔
)يا حي يا قيوم( قیوم بھی اللہ کا نام ہے اور حیّ بھی اللہ کا نام ہے قیّوم (قائم رکھنے والا) کا معنی ہے جو خود قائم ہو اور دوسروں کو قائم رکھے چنانچہ اللہ سبحانہ تعالی اپنے غنی (بے پرواہ ) ہونے کے سبب بذات خود قائم ہے اور اپنے غیر کا محتاج نہیں ہے کیونکہ وہ غنی (بے پرواہ ) ہے اسکے برعکس انسان اپنے غیر کا محتاج ہوتا ہےکھانے،پینے، بیوی کا محتاج ہوتا ہے بیمار ہوجائے تو ڈاکٹر کا محتاج ہوتا ہے ۔
جبکہ اللہ سبحانہ تعالی کسی بھی شے کا محتاج نہیں کیونکہ وہ غنی (بے پرواہ غیر محتاج ،مستغنی ) اور حمید (تعریف کیا گیا) اور مجید (بزرگ تر) ہے بذات خود قائم ہے اور اپنے سوا ہر شے کو قائم رکھے ہوئے ہے۔
آسمان و زمین کی تمام خلائق کو اسی نے قائم رکھا ہوا ہے وہی ہے جوان کی ضروریات پوری کرتا ہے ۔
يا حي يا قيّوم برحمتك أستغيث
ترجمہ : اے زندہ رہنے والے، اے قائم رہنے والے ،تیری رحمت کے ذریعے میں مدد چاہتا ہوں۔
آپ اللہ سبحانہ تعالی کو رحمت کے ذریعے مدد مانگیں کیونکہ اللہ سبحانہ تعالی نے اپنے آپ کو قرآن میں صفت )ارحم الراحمین۔ رحم کرنے والوں میں سب سے بڑارحم کرنے والا(کے ساتھ موصوف کیا ہے چنانچہ بہتر یہی ہے کہ انسان ہمیشہ اللہ کی رحمت کے ذریعے سوال کرے آپ کہیں :
یا ارحم الراحمین: اے رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے،
 یا اکرم الاکرمین: اے کرم کرنے والوں میں سب سےبڑھ کر کرم کرنے والے
یا خیر الرازقین: اے رزق دینے والوں میں سب سے بہتر  اللہ سے ہمیشہ اسکے ناموں اور اسکی صفات کے واسطے سے دعا کریں یہی فرض ہے ،یہ آداب دعا میں سے ہے کہ انسان اپنی دعا سے قبل اسکے آغاز میں اللہ کی حمدوثناء بیان کرے اور اللہ کے اسماءحُسنیٰ اور صفات عُلیٰ کے وسیلے سے مانگے۔
برحمتك أستغيث أصلح لي شأني كله
ترجمہ: تیری رحمت کے ذریعے میں مدد چاہتاہوں تو میری ساری حالت سنواردے۔
اس جملے پرغور کریں ہم اس پر ذرا طویل بات کریں گے میری ساری حالت سنوار دے (ساری حالت) دین ودنیا کے تمام امور کو شامل ہے یہ دعا کرتے وقت آپ سب سے پہلے یہ سوچیں کہ اللہ کے ساتھ آپکی حالت درست ہوجائے خالق عظیم کے ساتھ آپکی حالت بہتر ہوجائے،شاید کے آپ پوچھیں کہ اللہ سبحانہ وتعالی اپنے ساتھ میری حالت کس طرح درست کرے؟
میں اسکے جواب میں مختصر سی بات کہوں گا کہ آپ احکامات پر قائم رہیں،نواھی)حرام اور ناجائز کاموں سے( سے باز رہیں، یہ انتہائی اختصارہے ،آپکااللہ کے ساتھ تعلق رہے ،اللہ جل وعلیٰ کو یکتامانیں۔
اللہ سبحانہ وتعالی ہی ہے جو حالتوں کو سنوارتا ہے بندے کے پاس خواہ کتنا ہی علم ہو کتنی ہی فقہ ہو وہ بذات خود اپنی حالت نہیں سنوار سکتا وہ اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اللہ کی نگہبانی کا محتاج ہے،اللہ کی توفیق کا محتاج ہے،اللہ کی حفاظت کا محتاج ہے ،وہ محتاج ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی اسکی حالت سنوار کر اسے ہدایت سے نوازدے ، اسے درست کردے،اسکا معاملہ اس کے لئے آسان کردے چنانچہ اسے چاہیے کہ وہ ہمیشہ ،باربار،ہر بار اللہ سبحانہ وتعالی کے سامنے گڑگڑ ائے کہ وہ اسکی حالت کو سنوار دے۔
اور یہ دعا صبح وشام کے اذکار کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ مسلمان اپنے سجدوں میں بھی یہ دعا کرسکتاہے حتی کہ آپ اپنے گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ کام کاج کرتے ہوئے بھی یہ دعا کر سکتے ہیں آپ کہہ سکتے ہیں ۔
يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث أصلح لي شأني كله
ترجمہ : ائے زندہ رہنے والے، ائے قائم رہنے والے میں تیری رحمت کے ذریعے مدد مانگتا ہوں تو میری ساری حالت سنوار دے ۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اللہ اپنے ساتھ آپکی حالت سنوار دے ، دوسری بات یہ کہ وہ آپکے نفس امارہ بالسوء)برائی کاحکم دینے والا نفس( کے ساتھ آپکی حالت سنوار دے اللہ اسے پاک صاف کردے، ہمارے رسول علیہ الصلاة والسلام خطبہ دیتے وقت اسکے شروع میں فرماتے:
ونعوذ بالله من شرور أنفسنا
ترجمہ: اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔
کیونکہ نفس کی شرارتیں ہوتی ہیں مثلا دکھلاوے کا شر ، غرور کاشر،نفاق کا شر نفس کے شر بہت سے ہیں چنانچہ آپ اللہ کی پناہ طلب کریں، اللہ کے آگے منت کریں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے کہ :
اللهم آت نفوسنا تقواها وزكها أنت خير من زكاها أنت وليها ومولاها
ترجمہ: یا اللہ تو ہمارے نفوس کو تقوی اورانکی پاکی عطاء فرما تو ہی انہیں سب سے بہتر پاک کرسکتاہے تو ان کا مالک اور آقاہے۔
آپ بھی کہیں کہ ائے میرے رب میں اپنے نفس کا تزکیہ نہیں کرسکتا تو اپنی رحمت اور اپنے فضل وکرم سے میرے نفس کو پاک فرمادے ۔
لہذا اس دعا میں دوسری بات آپ یہ یاد رکھیں کہ اللہ آپکے نفس امارة بالسوء کے ساتھ آپکی حالت سنواردے ، اللہ اس دین پر آپ کو ثابت قدم رکھے اورآپ پر اپنا معزز فضل جاری رکھے۔
تیسری بات یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے ساتھ آپکی حالت سنواردے سب لوگوں کے ساتھ خواہ قریب ہوں یا بعید چنانچہ سب سے پہلے وہ آپکےوالدین کے ساتھ آپکی حالت سنواردے کہ آپ انکی اطاعت کریں انہیں خوش رکھیں ایسے ہی آپکی بیوی کے ساتھ آپکی حالت سنوار دے آپ اسکے حقوق ادا کریں آپکی اولاد کے ساتھ آپکی حالت سنوار دے آپ انکی تربیت کریں آپکے پڑوسی کے ساتھ آپکی حالت سنوار دے،آپ اس کے حقوق ادا کریں خلاصہ یہ ہے کہ سب لوگوں کے ساتھ آپکی حالت سنوار دے آپ حقوق اداکرنے والے بن جائیں او رحق تلفیوں سے بچے رہیں یہ خلاصہ ہے۔
چنانچہ لوگوں کے ساتھ آپکا معاملہ صدق وراست بازی اور اخلاص والا ہو ،آپ لوگوں کو دھوکہ نہ دیں،لوگوں سے جھوٹ نہ بولیں، لوگوں سے خیانت نہ کریں،لوگوں کوفائدہ پہنچائیں،دوسروں کا بھلا چاہیں۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ
عزیزان گرامی!
خلاصہ یہ ہے کہ ہم ہروقت، ہر حال میں اس دعا کے بار بار ،صبح وشام سجدوں میں اور دیگر اعمال میں مانگنے کے شدید محتاج ہیں کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی ہی حالتوں کو سنوار سکتاہے مثلا اگر آپ کو کوئی معاشرتی یا معاشی یا جانی مشکل ہو تو آپ باربار یہ دعا کریں کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی ہی حالت سنوارے گا۔ میں اپنا یہ درس ایک عجیب واقعہ پر ختم کرتاہوں کہ ایک عورت اپنے خاوند کے لئے خوبصورتی اختیارکرتی اور میک اپ کرکے رکھتی تاکہ اسکا خاوند اسے چاہتارہے سبحان اللہ! اس نے زیب وزینت،میک اپ، خوشبو جات وغیرہ مادی اسباب اختیار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن شوہر گھر آتا تو اسکی جانب توجہ نہیں دیتا نہ اس سے اچھی طرح،نرم اورشیریں گفتگو کرتا نہ ا سے چاہتا۔
یہ عورت سب سے عظیم،بڑا،میٹھا اور خوبصورت سبب بھولے ہوئے تھی دعا کیونکہ دعا ہی مومن کا سب سے بہتر ہتھیار ہے سبحان اللہ چنانچہ جب اس نے دعا شروع کی اور کہا کہ :
يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث أصلح لي شأني كله ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين لا إله إلا أنت
اور بار بار یہی دعا رکرتی رہی
آپ یہ دعا کسی ایک دن یا ایک مہینے یا سال تک نہ کریں بلکہ ساری زندگی کریں جلد ہی آپ کو توفیق ،نگرانی،حفاظت،درستگی محسوس ہونا شروع ہوجائے گی بہرحال وہ دن رات یہ دعا مانگنے لگی اس کے بعد اسکا شوہر بدل گیا جیسا کہ کہا جاتاہے 180 ڈگری کے زاویئے پر سبحان اللہ اسے چاہنے لگا اسکی عزت کرنے لگا،اسکے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے لگا کیونکہ اللہ سبحا نہ وتعالی ہی ہے جو دونوں جہانوں کا مالک ہے جو دلوں کو جس طرح چاہتاہے پھیر دیتاہے
عزیزان گرامی:
میں آپکو تاکید کروں گا کہ آپ اس دعا کو باربار مانگیں اگر آپ کرسکیں تو نماز میں سجدوں میں بار بار یہی دعا کریں تو ایسا ضرور کریں کیونکہ اس میں بڑی خیر اور بڑا فائدہ ہےیہ دعا آپکی زندگی بدل دے گی آپکی حقیقت بدل دے گی آپ کے اخلاق بدل دے گی آپکا برتاؤ بدل دے گی اگر اللہ سبحانہ وتعالی کا حکم ہوا ہم اسی دعا کومکمل کرتے ہیں ارشاد فرمایا:
ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين
ترجمہ: اور پلک جھپکنے برابر بھی مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر۔
یہاں آپ اللہ جل وعلا سے دعا کررہے ہیں کہ وہ آپکو آپکے نفس کےسپرد نہ کرے کیونکہ اگر اللہ نے آپکو آپکے نفس کے حوالے کردیا تو باالفاظ دیگر اس نے آپکو کمزوری،بےبسی،عیب،غلطی،گناہ وغیر ہ کے حوالے کردیا اسی لئے امام ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا:
اہل معرفت نے اتفاق کیا ہے کہ توفیق یہ ہے کہ اللہ آپکو آپکے نفس کے سپردنہ کرے بلکہ آپ اللہ جل وعلی کی جانب سے نگرانی ،توفیق ،ہدایت،درستگی کو محسوس کریں۔سبحان اللہ!
عارفین کہتے ہیں کہ خذلان)مدد نہ کرنا،توفیق نہ دینا( یہ کہ اللہ آپکو آپکے نفس کے حوالے کردے چنانچہ آپ کہتے ہیں کہ :
ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين
ترجمہ: اور مجھے پلک جھپکنے برابر بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر۔
اسی لئے انسا ن کو ہمیشہ کہتے رہنا چاہیے
لا حول ولا قوة إلى بالله
ترجمہ :کوئی شش نہیں نہ ہی کوئی قوت مگر اللہ کی۔
اللہ آپ پر رحم کرے )لا حول ولا قوة إلا بالله( یہ الفاظ کثرت سے کیا کریں کیونکہ ہر معاملے کو اللہ جل وعلی کے حوالے اورسپرد کردینا ہے گویا کہ آ پ کہتے ہیں ائے میرے رب میری کوشش کچھ نہیں نہ ہی میری طاقت کچھ ہے نہ ہی خیر واطاعت اور نیکی کے اعمال کی توفیق ہے نہ میں نافرمانی سے فرمانبرداری کی جانب آسکتاہوں مگر تیری توفیق سے تو اکیلا ہے تیر اکوئی شریک نہیں۔
ولا تكلني إلى نفسي طرفة عين لا إله إلا أنت
ترجمہ : اور مجھے پلک جھپکنے برابر بھی میرے نفس کے حوالے نہ تیرےسو ا کوئی معبود نہیں۔
سبحان اللہ! دعا کو ختم بھی ثناء پر کیا اور شروع بھی )یا حی یا قیوم( یعنی اللہ کی ثناء سے ایسے ہی دعا کو ختم بھی اللہ کی ثناء پر کیا لا الله الا انت یعنی تیرے سوا کوئی نہیں جو عبادت کا مستحق ہو اس بات کا مستحق ہو کہ اسکے آگے جھکائے سوائے الله وحدہ لا شریک له کے
ہم نے چاہا کہ ہم اس حدیث اور اس دعا کی وضاحت کردیں ۔
اللہ سبحانہ وتعالی سے ہماری دعاہے کہ وہ ہمیں اپنے پسندیدہ اعمال کی توفیق دے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله ربّ العالمين



مکمل تحریر  »